کچھ نئی لاشیں پی ڈی ایم کو اپنی ڈوبتی ہوئی سیاست کو اٹھانے کے لئے مل گئیں، کوئٹہ میں گیارہ لاشوں کے لواحقین منجمد لاشوں کیساتھ سڑک پر بیٹھے ہیں

34

گزشتہ ہفتے بلوچستان کے علاقے مچھ میں گیارہ کان کنوں کو داعش کے دہشت گردوں نے اکٹھا کیا، ان کی فرداً فرداً شناخت کی کہ وہ ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ شیعہ ہیں پھر ان کے ہاتھ اور پائوں کو باندھا گیا، آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور ایک قطار میں لگا کر گولیاں مار دی گئیں، ان یزیدیوں نے خالی اس ظلم پر ہی اکتفا نہ کیا بلکہ پھر ان گیارہ انسانوں کے گلے کاٹ کر گردنیں تن سے جدا کر دی گئیں، داعش کے دہشت گردوں نے فخریہ طور پر اس ہیبت ناک بربریت کی ذمہ داری قبول کی۔ اپوزیشن کے گیارہ ڈکیت بجائے اس کے کہ اس بہیمانہ قتل کی مذمت کرتے، انہوں نے اس موقع کو گولڈن چانس سمجھا کہ عمران خان اور ان کی حکومت پر لعن طعن کی جائے بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر فوج اور سکیورٹی اداروں پر بھی تنقید کے گھوڑے دوڑانے شروع کر دئیے، ان معصوموں کی لاشوں پر اپنی سیاست چمکانی شروع کر دی اور حکومت اور عمران خان کو نااہل گرداننا شروع کر دیا، دشمن خود للکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ ہم نے واردات کی ہے مگر انتقام کی آگ میں جھلسی ہوئی پی ڈی ایم اور اس کے فضل الرحمن جیسے کرپٹ حکمران اور مریم جیسی جعلی راج کماری مسلسل اسے عمران خان کے سر پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں، آج ہفتہ ہونے کو آیا ہے کہ وہ بے کس، بے بس اور مجبور ہزارہ کمیونٹی کے لواحقین خون جما دینے والی سردی میں برفباری کے دوران کوئٹہ میں اپنے پیاروں کی لاشیں رکھے وزیراعظم پاکستان عمران خان کی آمد کاانتظار کررہے ہیں کہ وہ آئین انکے دلوں پر پھایا رکھیں ان کی غم گساری کریں تو وہ اپنا دھرنا ختم کر کے اپنے پیاروں کو زمین برد کریں کیونکہ بارہا اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں، دھرنے ہوئے ہیں، ہزارہ کے شیعہ افراد کو زائرین کی بسوں سے اتار اتار کر گولیاں ماری گئیں ہیں ، ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو صوبائی حکومت اس قسم کے مسلسل رونما ہونے والے واقعات کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔
ہو سکتا ہے کہ اس دفعہ وہ چاہتے ہوں کہ وفاقی سطح پر اور وزیراعظم کی سطح پر انہیں کوئی یقین دہانی کرائی جائے، عمران خان کو بھی چاہیے کہ وہ کوئٹہ جا کر ان غم گساروں کو گلے لگائیں، ان کا غم بانٹیں بالکل اسی طرح سے جیسا کہ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم نے مسجد میں شہید ہونے والے مسلمانوں کو گلے لگا لگا کر ان کی غم گساری کی تھی جس سے وزیراعظم عمران خان بھی بہت متاثر ہوئے تھے اور ان کا شکریہ کہا تھا۔ عمران خان کا یہ عمل نہ صرف متاثرین مچھ کا دل جیتنے کے مترادف ہو گا بلکہ وہ پورے پاکستان کے عوام کا بھی دل جیتنے کے قابل ہو گا اور گیارہ ڈکتیوں کا بھی منہ بند ہو جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.