وہ سیاست دان جنکی اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں، وہی جمہوریت کی باتیں کریں تو یہ قول و فعل میں کھلا تضاد ہی تو ہے

43

سیاسی جماعتوں اور اْن کے قائدین کو دنیا بھر میں اْن کے قول و فعل کے حوالے سے پرکھ کر وہاں کے عوام اْن کو ووٹ دیتے ہیں لیکن صاحبو پاکستان کی سیاست کا رنگ و ڈھب ہی نرالا ہے یہاں صرف اور صرف شخصیت پرستی ہی کی بنیاد پر الیکشن ہوتے بھی ہیں اور الیکشن شخصیتوں ہی کے حوالے دے کر جیتے بھی جاتے ہیں یعنی عوام کی بہتری اور خوش خالی کے لئے کوئی منشور ہی نہیں دیا جاتا – پچھلے تیس سالوں سے پاکستانی عوام محض شخصیتوں ہی کے پجاری بن کر حکمرانوں کو چنتے رہے ہیں – حیرت کی بات تو یہ ہے کہ اپوزیشن کی 11 جماعتیں حکومت کے خلاف میدان عمل میں ہیں اور ان جماعتوں میں وہ جماعتیں بھی شامل ہیں جنہوں نے ملک کو تسلیم ہی نہیں کیا وہ آ ج اپوزیشن کا حصہ ہیں۔ سابقہ ادوار میں یہ سب جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ،رہی ہیں اور ملک دشمن، غدار وقومی دولت لوٹنے جیسے الزامات ایک دوسرے پر لگاچکے ہیں۔ ان سب اپوزیشن جماعتوں کا ایک ہی مقصد ہے اقتدار کا حصول اور یہ اقتدار کی اس جنگ کے بعد پھر ایک دوسرے کے خلاف میدان عمل میں ہوںگی اور جماعت اسلامی اس سارے کھیل میں اپنے آپ کو علیحدہ رکھنا چاہتی ہے کیونکہ کئی بار یہ مواقع آئے کہ دینی جماعتوں نے ملکر الیکشن بھی لڑا اور کامیابی بھی حاصل کی لیکن وفاق میں اقتدار کی حصہ داری میں دینی جماعتیں الگ الگ راستوں پر چل دیں جس کی وجہ سے لوگوں کا سیاسی دینی جماعتوں پرسے اعتماد کم ہوا۔
اس ملک کو اب تک جتنی بار بھی جمہوری راستہ میسرآیا عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا البتہ سیاسی شخصیات نے جمہوریت کی چھتری کے نیچے بھر پور فائدے ضرور حاصل کیے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس ملک کی سیاسی پارٹیاں ازخود جمہوری عمل سے دور ہیں ان جماعتوں کے اندر جمہوری نظام نہیں بلکہ موروثی نظام کو عزت حاصل ہے اقتدار میں رہنے والی پی۔ پی۔ پی، مسلم لیگ (ن) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت اکثر پارلیمانی جماعتیں جمہوریت کا دعویٰ کرتی ہیں لیکن اس کے برعکس نظر آتا ہے پی۔ پی۔ پی میں بھٹو سے لیکر آج تک کوئی پارٹی سربراہ نہیں بن سکا مسلم لیگ (ن) کا بھی حال کوئی مختلف نہیں نواز شریف مکمل طور پر قابض ہیں اور وہ پارٹی کی قیادت سمیت ملک کی وزارتِ عظمیٰ تک اپنی بیٹی کو دینا چاہتے ہیں اپنے بھائی تک کو راستہ دینے کے لیے تیار نہیں تو یہ کیسے ممکن ہوگا کہ وہ پارٹی میں کسی اور کو یہ منصب حاصل کرنے دیں۔
حال ہی میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کی صورتحال سامنے آ گئی مولانا فضل الرحمن اپنے آپ کو بہت طاقتور سمجھنے لگے ہیں ریاست کو مسلسل چیلنج اور جو زبان استعمال کی جارہی وہ انتہائی خطرناک ہے مولانا نہیں جانتے کہ وہ اپنے آپ کو بند گلی کی طرف لے جاچکے ہیں وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ اور پی۔ پی، ان کے ساتھ مخلص ہیں تو یہ ان کی بھول ہے یہ سب جماعتیں مولانا کو تنہا چھوڑ دیں گی۔ نواز شریف نے جو بیانیہ اپنایا ہے اس کے ساتھ ان کے بھائی شہباز شریف بھی نہیں پی پی کا موقف بھی مختلف ہے اور بلاول نے استعفے کا معاملہ بھی نوزاشریف کی واپسی سے مشروط کردیا مولانا کو سمجھ لینا چاہیے کہ صرف انہیں استعمال کیا جارہا ہے اور اب مولانا کو اپنی جماعت میں بھی سخت مخالفت کا سامنا ہے۔ جماعت کی اہم ترین بزرگ شخصیات نے مولانا کی سوچ سے اختلاف کیا اور انہیں جبری فیصلے کے تحت جماعت سے نکال دیاگیا۔
واضح رہے کہ جمعیت علماء میں مولانا مفتی محمود سے آج تک کوئی اور پارٹی کا سربراہ نہیں بن سکا گھر کے لوگوں کو حکومتی عہدے جماعتی ذمے داریاں دی جاتی ہیں یہ اس پر کچھ بھی دلائل دیتے رہیں حقیقت یہ ہے کہ ان لوگوں کا اپنی جماعتوں پر مکمل کنٹرول ہے اور پھر ان کی بڑھتی دولت نے سوال پیدا کردئیے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔ رہ گئی اپوزیشن میں شامل دیگر جماعتوں کی بات تو ان کی حیثیت سب کو معلوم ہے۔ مولانا پروفیسر ساجد میر اور مولانا اویس نورانی صاحبان کو اندازہ ہی نہیں کہ ان کو اپنی جماعت کے لوگوں میں سخت مخالفت کا سامنا ہے اپنے قریب کے لوگوں کی حمایت پوری جماعت کی حمایت نہیں ہوتی بہتر ہوتا یہ لوگ اپنے آپ کو حکومت اور اپوزیشن کی جنگ سے علیحدہ رکھتے حکومت اور اپوزیشن میں اصلاح کا کردار ادا کرتے تو عوام میں عزت اور بلند مقام ہوتا ایک عام شخص میں بھی نفرت پائی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں اچکزائی کی گفتگو سے مسلمانان پاکستان کے ایمانی جذبات مجروح ہوئے ہیں انہوں نے جس انداز میں نبیوں و رسولوں کے بارے میں سوچ رکھی وہ قابل مذمت ہے اس پر بھی اپوزیشن جماعتوں کا خاموش رہنا افسوس ناک ہے یہ سب جماعتیں ملک، قوم، اسلام کسی سے مخلص نہیں اپنی سیاست اور حکومت کے حصول کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ موجودہ حکومت ختم ہوجائے اور اپوزیشن کو اقتدار مل جائے تو کون برسر اقتدار ہوگا یہ ایک بہت بڑا مسئلہ بن جائے گا اور ان میں سے کسی کو حکومت مل بھی جائے یہ 10جماعتیں اس کے خلاف سب سے پہلے میدان عمل میں ہوں گی اور وقت کی برسر اقتدار پارٹی وزیراعظم عمران خان جو ماضی میں بڑے بڑے جلسے اور دھرنے کرتے رہے ہیں وہ خاموش بیٹھ جائیں گے یا پوری قوت سے اپوزیشن بن کر حکومت کے لیے پہلے سے زیادہ مشکلات پیدا کردیں گی ہم بہت مشکلات سے دو چار ہوں گے ان پارٹیوں کو خود نہیں معلوم وہ کیا کرنے جارہے ہیں اپنی دولت، اقتدار، سیاست بچانے کے لیے ملک وقوم اور پاک فوج سب کے لیے مشکل پیدا کر رہے ہیں وقت ہاتھ سے نکل جائے اس سے پہلے ریاست اور محب وطن سیاسی ومذہبی جماعتوں کو ا پنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.