حربے سارے لوٹی دولت بچانے کیلئے ہے!!

41

اب تک ساری خواتین جو کہ ن لیگ میں شامل ہیں اس طرح غائب ہو گئی ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ ورنہ پھولن دیوی کے اردگرد رہا کرتی تھیں، لے دے کے دادی کی نرس کی اولاد رہ گئی تھی لیکن آج عظمیٰ بخاری کو بھی شاید کوویڈ کا بخار چڑھ گیا ہے جو نواز نوسرباز کی تعریف کا جھنڈا اٹھائے میڈیا پر آتی تھیں، محترمہ سے برسبیل تذکرہ اتنا پوچھنے کی جسارت تو کی جائے گی کہ آپ کو سوتے سے کس نے بیدار کیا، دوسرا ضمیر فروشی کے سودے میں کتنا مال ملا، ن لیگ کے بیشتر بندے نوازے ہوئے ہیں جس کی لاٹھی ہو گی بھینس تو اس کی کہلائے گی، ملکی خزانے کی لوٹ مار تھوڑی تھوڑی ریوڑیاں اپنے سب حواریوں کو بھی بانٹی گئیں، حلوائی کی دکان پر دادا جی کا فاتحہ کر دیا، ہلدی لگی نہ پھٹکری رنگ بھی چوکھا آیا، اس بے درد بھگوڑے نے قومی خزانے سے بڑی بخشیش لیں، لوگوں کو اپنا ہم نوا بنایا، افسوس توان پیٹ بھرے ضمیر فروشوں پر ہے جن کا چولہا جل رہا تھا، دنیا کے اور مسئلے مسائل حل ہورہے تھے تو پھر اپنے آپ کو فروخت کرنے اپنی قیمت لگوانے کی کیا ضرورت تھی، یہ صرف ہوس پرستی ہے، دولت کے انبار لگائے، آج کل ذخیرہ اندوزی کا کاروبار زوروں پر ہے، مرغیوں کی فیڈ میں جو سویا بین وغیرہ شامل کی جاتی ہے اس کی بھی ذخیرہ اندوزی ہونے لگی، سو مرغی اور انڈے متوسط طبقے کی پہنچ سے دور ہو گئے ملک بالکل ایک گھاس پھوس کی ٹپکتی چھت کی طرح ہو گیا، ایک طرف بھرائی کرو دوسری طرف سے چھت ٹپکنے لگتی ہے یعنی کرپشن کی ایک طرف بیخ کنی کی جاتی ہے تو دوسری طرف کوئی ڈاکہ پڑ جاتا ہے، آٹے چینی، خورونوش کی بہت سی اشیاء کی ذخیرہ اندوزی جاری ہے، عوام مہنگائی کی چکی میں پسے جارہے ہیں اور مفاد پرست چور ڈاکو یعنی پھولن دیوی، بلاول،فضلو اپنی مہم چلانے میں مصروف ہیں، پھولن دیوی عوام کی زبوں حالی پر اکثر آب دیدہ بھی ہو جاتی ہیں، یہ منافق اعلیٰ ڈگری یافتہ ہیں سب کچھ ہضم کر کے ڈکار بھی نہیں لیتے یہ اور بلاول اپنے باپ کی لوٹ مار بچانے نکلے ہیں، فضلو کے بھی اربوں کے اثاثے دریافت ہوئے ہیں، کیا ان لوگوں سے لوٹا ہوا مال، جائیدادیں واپس لی جاسکیں گی؟۔
’’نہ چھیڑ ملنگا نوں‘‘ یہ نعرہ ہے ایک ملنگ عبدالغفور حیدری کا، ان کے خیال میں فضلو جو خودساختہ مولانا ہیں یعنی JUIکے سربراہ اور PDMکے صدر ہیں، جمہوریت کی بحالی کی جنگ لڑنے نکلے ہیں، آئین کی بالادستی مقصود ہے (جو وہ خود بھی نہیں سمجھتے ہیں اور نہ اس کی پیروی کرتے ہیں) انہیں یعنی عبدالغفور کونیب سے یا عمران خان سے کوئی شکایت نہیں بلکہ انہوں نے براہ راست GHQپر ہلہ بولا ہے، باقاعدہ سپہ سالار کو نام لیکر مخاطب کیا ہے، یہ ملنگ اٹھائی گیرے قسم کے لوگ پاکستان کو للکار رہے ہیں ، فوج کو گالیاں دے رہے ہیں، 72سالہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، ان کے پاس حرام کی کمائی بہت ہے، دشمنوں سے پاک سرزمین پر فساد پھیلانے کے لئے، فوج سے تصادم کی دھمکی دینے کے لئے بھاری رقومات وصول کی جارہی ہیں، اللہ خود زمین پر فساد پھیلانے والوں کو ناپید فرماتا ہے، اس وقت جو یہ جلسے جلوس ہورہے ہیں وہ لوٹے ہوئے مال کے بچائو میں فضلو کی اربوں کی جائیدادیں نکلی ہیں، ان ملنگوں، اٹھائی گیروں کا کہنا ہے کہ اگر فوج اپنا دست شفقت حکومت پر سے ہٹا لے تو یہ ایک دم دھڑام سے حکومت گرا دیں گے، ملنگ ذرا ہوشیار ہو جائیں بہت بڑے بڑے دعوے فرمادئیے ہیں، زبان کو لگام دیں، حکومت کے تو سب اس لئے خلاف ہیں کہ عمران خان نے ان کے حلق میں انگلیاں گھیسٹر دی ہیں وہ تمام ہضم شدہ مال مطع نکلوانا چاہتا ہے، بس اتنی سی بات کے لئے یہ سب شور شرابا ہے، دنیا میں یہ لوگ اسلام کو تضحیک کا نشانہ بنارہے ہیں، تصادم کی سیاست کررہے ہیں، آج انہیں این آر او مل جائے، لوٹی ہوئی دولت طلب نہ کی جائے، عدالتوں سے کیسز ختم کروا دئیے جائیں یہ بغلیں بجاتے پھریں گے، اگر چوروں، ڈاکوئوں سے عوام کی رقم نہ نکلوائی جا سکی تو یہ حکومت کی بڑی ناکامی اور رسوائی ہو گی، نیب اگر کیسز مضبوط نہ بنا سکی تو لاہور ہائیکورٹ اسی طرح ضمانتیں دیتا رہے گا اور نیب کے ڈھیلے ڈھالے کیس پر ساری ذمہ داری عائد کر دے گا۔
رانا ثناء اللہ نے فتویٰ دے دیا ہے کہ قادیانی مسلمان ہیں، پہلے تو رانا ثناء سے ان کے عقیدے کے بارے میں پوچھا جائے، وہ کون سی کتاب سے اپنے بھائی بندوں کو مسلمان ثابت کریں گے، فضلو بھی ان کے ہم خیال ہیں، یہ خود ساختہ مولوی تو ہے ہی یہودیوں کا ایجنٹ، اس کے حسب منشا مسائل حل کر دئیے جائیں تو یہ بوٹ پالش شروع کر دے گا، اے وطن کے غداروں یہ کان کھول کر سن لو کہ محب وطن پاکستانی اپنی فوج سے والہانہ پیارکرتا ہے، تم اس وقت سے ڈرو جب تمہارے فسق و فجور سے لبریز بیانات پر خالق حقیقی کا قہر تم پر آپڑے۔
رانا باندری قادیانیوں کو مسلمان کہتا ہے تو خود بھی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، یہ انحراف ختم نبوت ہے، یہ شخص مرتد ہے اور عالم جانتے ہیں کہ مرتد کی سزا کیا ہے (دروغ بہ گردن راو ی) یہ جلسے جلسوں کا قہر ٹوٹا ہوا ہے اوپر سے سردار اختر مینگل روز نئی نویلی دلہن کی طرح نخرے دکھاتے ہیں وہ دلہن جو روز اپنے شوہر کو میکے جانے کی دھمکیاں دیتی ہے، یہی حال کچھ ایم کیو ایم کا ہے یہ بھی ماش کی دال کے آٹے کی طرح انٹھینا شروع ہو جاتے ہیں اور ایسی زوجہ ہیں جو روز طلاق مانگنے پر کمر بستہ ہے۔
کرپشن کی لہریں بڑی اونچی اونچی اٹھ رہی ہیں، ہر ایک اپنی کھال اور مال بچانے کی فکر میں غلطیاں کررہا ہے، حکومت کی کسے پرواہ ہے، ملک سے کسے محبت ہے؟ لوٹ کی دولت باہر جا چکی، پتہ نہیں یہاں جو جائیدادیں ہیں ان پر قبضہ کیوں نہیں کیا جارہا ہے۔ کیا یہ انتظار ہورہا ہے کہ بغاوت ہو اور عوام اپنا حق خود چھین لیں، عدالتیں صحیح فیصلے کریں کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ ہو لیکن ان بھوکے ننگے عوام کے صبر کی آزمائشیں کب تک؟ کہاں تک؟؟؎
سب رہبران قوم ہیں الائشوں میں گم
ہم سے مگر مطالبہ قربانیوں کا ہے!
فوج نے اگر اس عمارت کے ستونوں کو مضبوطی سے تھاما نہ ہوتا تو پاکستان کا وجود 1948ء میں ہی ختم ہو جاتا، ان روسیاہوں کی زبانوں کو لگام دینی چاہیے، یہ دو ٹکے کے لوگ فوج کو برا کہہ رہے ہیں، انکی حیثیت کیا ہے، خواجہ آصف بھی سسرال چلے گئے، کچھ شرم بھی ہوتی ہے، کچھ حیاء بھی ہوتی ہے۔
بری ہے وہ خوشی غفلت ہو جس میں
وہ غم اچھا ہے جو بیدار کر دے

Leave A Reply

Your email address will not be published.