امریکہ میں ۲۰ جنوری کو کیا ہو گا!!

47

اگرچہ ٹرمپ نے ملک پر مارشل لاء نافذ کرنے کی دھمکی دی تھی جس کا کوئی قانونی اور دستوری جواز نہیں بنتا تھا، جس کو چیئرمین جوائنٹ آف سٹاف نے رد کر دیا اور کہا کہ ہم آئین کے پابند ہیں کسی شخص واحد کے نہیں، ظاہر ہے امریکہ کسی خانہ جنگی یا لاقانونیت کا شکار نہیں ہے، جس کے لئے صدر امریکہ کسی قسم کا مارشل لاء ڈیکلیئر کر کے ملک پر مارشل لا نافذ کردے جس میں سول عدالتیں محدود اور بے اختیار ہو جاتی ہیں اور فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آجاتا ہے جس کا ماضی میں مختلف وقتوں میں 68مرتبہ نفاذ ہوا جس کی کانگریس نے اجازت دی تھی، جب ملک میں جنگی حالت، سول نافرمانی یا قدرتی آفتوں کا طوفان برپا تھا، چنانچہ صدر ٹرمپ کو عدالتوں میں جھوٹے اور من گھڑت دھاندلیوں کے خلاف مقدمات دائر کرنے پر عدالتوں سے منہ کی کھانا پڑی کسی بھی عدالت نے درخواست کو منظورنہ کیا کیونکہ ریاستوں کے گورنروں اور ریاستی سیکرٹری آف سٹیٹس نے تصدیق کی کہ انتخابات میں کسی قسم کی دھاندلی نہیں ہوئی ہے جنہوں نے بار بار گنتی کر کے چیک کیا تو انہیں کسی قسم کی دھاندلی نظر نہ آئی جس کے تمام 538الیکٹرول نے اپنی ریاستوں کے نامزدگی سرٹیفکیٹس واشنگٹن ڈسی سی میں جمع کرادئیے جن کی گنتی پر صدارتی امیدوار جوبائیڈن سات ملین سے زیادہ ووٹوں کے علاوہ 306الیکٹرول سے جیت چکے ہیں جبکہ مدمقابل صدر ٹرمپ کو 232الیکٹرول ملے مگر ٹرمپ نے میں نہ مانوں کی پالیسی پر گامزن ہو کر انکار کیا ہوا ہے کہ میں جوبائیڈن کو صدر تسلیم نہیں کروں گا جس کے لئے اب وہ الیکٹرول کو چیلنج کرنے جارہے ہیں جس کا قانونی اور آئینی راستہ تو نظر نہیں آرہا ہے مگر قانون کے طلباء میں شکوک و شبہات پائے جارہے ہیں کہ بعض ریاستوں کے الیکٹرول جو ووٹ دینے میں آزاد اور خودمختار ہیں کہیں وہ اکثریت کو اقلیت میں نہ بدل دیں کہ وہ جوبائیڈن کی بجائے ٹرمپ کو ووٹ نہ دیں جو امریکی تاریخ کا پہلا سانحہ ہو گا کہ سات ملین زیادہ ووٹ اور 306الیکٹرول ووٹ حاصل کرنے والا امیدوار کم ووٹ لینے والے کے سامنے ہار جائے جس سے ملک میں واقعی خانہ جنگی چھڑ جائے گی جو امریکہ کے لئے خطرے کا باعث بنے گی چونکہ صدر ٹرمپ نسل پرستی، نازی ازم، سفید فام سپرمیسی اور دوسرے انسان دشمن گروہوں کا حامی ہے جن سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک کو مزید تاریکیوں کی طرف دھکیل سکتا ہے یہی وجوہات ہیں کہ وہ نیویارک میں ساری زندگی کماکر فلوریڈا کی سائوتھ اسٹیٹ میں جا کر آباد ہوا تاکہ آئندہ سائوتھ کو،نسل پرستی کے نام پر ابھار کر ملک خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے ورنہ انہیں ہیلری کلنٹن، الگور کی طرح پاپولر ووٹ زیادہ لینے کے باوجود ٹرمپ اور جارج بش کو الیکٹرول ووٹ زیادہ لینے پر بطور صدر تسلیم کیا تاکہ امریکہ میں جمہوریت مضبوط ہو پائے حالانکہ ون ووٹ ون پرسن کی جمہوریت کے مقابلے الیکٹرول سسٹم غیر جمہوری ہے کہ پاپولر ووٹ حاصل کرنے والا شخص کم الیکٹرول کی بدولت انتخاب ہار جاتا ہے چونکہ چھوٹی ریاستوں کو یونین میں برابر کا مقام دینے کے لئے یہ سب کچھ کیا گیا ہے حالانکہ سینیٹ کی مساوات کے بعد الیکٹرول سسٹم کا جواز نہیں بنتا ہے پھر آغاز یو ایس اے کی 13ریاستوں کا نظام بعد کی 37ریاستوں پر تھوپا گیا ہے جس میں کیلیفورنیا، ٹیکساس وغیرہ بڑی ریاستیں ہیں جو لاطینی جنگوں سے میکسکیو سے ہتھیائی گئی ہیں تاہم 20جنوری ایک بجے کیا ہو گا، کیا صدر ٹرمپ وائٹ ہائوس خالی کر دے گا، کیا پولیس، قانون نافذ کرنے والے ادارے ٹرمپ کو وائٹ ہائوس سے باہر نکال پائیں گے، کیا الیکٹرول منحرف ہو جائیں گے جو جیتی ہوئی بازی کو شکست میں بدل دیں گے، اگر ایسا سب کچھ نہ ہو گا تو پھر کیا ہو گا جس کا جواب صرف اور صرف ۲۰ جنوری دوپہر ایک بجے ملے گا کہ اس وائٹ ہائوس میں کون صدر براجمان ہو گا حالانکہ قانون کے مطابق صدر ٹرمپ 20جنوری ایک بجے دوپہر وائٹ ہائوس چھوڑ کر اپنے اصلی گھر چلا جائے گا اگر ایسا نہ ہوا تو پولیس سیکرٹ ایجنسی یا مارشل لاء صدر ٹرمپ کو وائٹ ہائوس کو نکالنے کے لئے طاقت استعمال کر سکتے ہیں جو انہیں وائٹ ہائوس سے کھینچ کر باہر پھینک سکتے ہیں لیکن اس کا مشاہدہ صرف 20جنوری کو ہو گا، اس سے پہلے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ کیا ہو گا، بہرحال یہ بات ثابت ہو گئی کہ امریکی نظام میں سرمایہ دار اور عام آدمی میں زمین و آسمان کا فرق پایا گیا ہے کہ جس میں ایک امیر ترین صدر ٹرمپ ایک مڈل کلاس منتخب صدر جوبائیڈن کو اس لئے تسلیم نہیں کررہا ہے کہ وہ حقیر یا کمتر ہیں یا پھر ٹرمپ عہد غلامی کو برقرار رکھتے ہوئے اس کلاس کا دفاع کررہا ہے جنہوں نے سیاہ فاموں کو جانوروں کی طرح غلام بنا رکھا تھا جو انسانوں کی خرید و فروخت میں منڈیاں لگایا کرتے تھے یہاں انسان جانوروں کی طرح مہنگا یا سستا بکتا تھا جو اب آزاد ہو چکا ہے جن کا ایک سیاہ فام صدر باراک اوبامہ اور آج کی نائب صدر کملا ہیرس منتخب ہو چکی ہیں جو امریکی تاریخ کا حقیقی انقلاب ہے جس کو ناکام بنانے کے لئے نسل پرست بغاوت پر تلے ہوئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.