اژدہے کی قدیم ترین باقیات… کیا یہ دنیا کا پہلا اژدہا تھا؟

297

فرینکفرٹ / ساؤ پالو: برازیلی اور جرمن سائنسدانوں کی ایک مشترکہ ٹیم نے فرینکفرٹ کے قریب ’’میسل پِٹ‘‘ کے مقام سے اژدہے کے 4 کروڑ 70 لاکھ قدیم رکازات (فوسلز) دریافت کیے ہیں جو اژدہے کی قدیم ترین باقیات بھی ہیں۔

واضح رہے کہ اژدہوں کا شمار ’’غیر زہریلے سانپوں‘‘ میں ہوتا ہے جو اپنے شکار کو اپنی مضبوط گرفت میں جکڑ کر ہلاک کرتے ہیں اور ہڑپ کرجاتے ہیں۔

اس سے پہلے اژدہے کے قدیم ترین رکازات مشرقی آسٹریلیا سے ملے تھے جو تقریباً 55 لاکھ سال قدیم ہیں لیکن حالیہ دریافت شدہ رکازات ان کے مقابلے میں بھی لگ بھگ 9 گنا زیادہ پرانے ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ اژدہوں کا ارتقائی وجود ہماری سابقہ معلومات سے بہت پہلے ہوچکا تھا۔

’’یہ دریافت ظاہر کرتی ہے کہ اژدہے نہ صرف ہمارے سابقہ اندازوں سے بہت پہلے وجود میں آچکے تھے بلکہ اس سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ اوّلین اژدہوں کا ظہور یورپ میں ہوا تھا،‘‘ ڈاکٹر حسام ظاہر نے کہا جو برازیل کی ساؤ پالو یونیورسٹی میں رکازیات (paleontology) و ارتقاء کے پروفیسر اور اس تحقیق میں شریک مرکزی ماہرین میں سے ایک ہیں۔