طالبان حملے روکنے پر آمادہ نہیں، افغان مذاکرات کار

302

طالبان سے مذاکرات کرنے والے افغان حکومتی وفد میں شامل ایک رکن حافظ منصورنے کہا ہے کہ طالبان کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ لڑائی کے ذریعے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے جو خطرناک ذہنیت ہے، طالبان حملے روکنے پر آمادہ نہیں۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق حافظ منصور کے مطابق بعض ایسے ممالک جو گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان کی مدد کرتے رہے ہیں وہ ایک عبوری حکومت کے قیام کے لیے مدد کرنے کو تیار ہیں۔ یہ عبوری حکومت دراصل حکومت کی موجودہ شکل سے ایک نئی ہیئت میں تبدیلی کو ممکن بنائے گی جس پر طالبان اور افغان حکومت کے درمیان اتفاق رائے ہو گا۔حافظ منصور کے مطابق امریکا کی یہ کوشش ہو گی کہ رواں برس مئی میں امریکی افواج کی مکمل واپسی سے قبل طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پا جائے ۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں کہ ایک عبوری حکومت کے قیام پر اتفاق رائے ہو جائے ،حکومتی ٹیم پیر چار جنوری کو دوحہ روانگی سے قبل افغان حکومت سے حتمی رہنمائی حاصل کرے گی۔ یہ مذاکرات منگل پانچ جنوری سے شروع ہونے ہیں۔