اِن ’آسمانی کنکروں‘ پر 24 ارب روپے لاگت آئی ہے!

280

ٹوکیو: جاپانی خلائی ایجنسی ’جاکسا‘ نے ’ریوگو‘ نامی شہابیے (ایسٹرائیڈ) سے زمین پر لائے گئے پتھروں اور کنکروں کی تصاویر جاری کی ہیں جو اس کے خلائی مشن ’’ہایابوسا 2‘‘ نے پچھلے سال جمع کیے تھے۔ اس خلائی مشن پر 15 کروڑ ڈالر (24 ارب روپے) لاگت آئی ہے۔

اگرچہ ان کنکروں کی زیادہ سے زیادہ انفرادی جسامت صرف چند ملی میٹر ہے اور یہ مجموعی طور پر صرف 5.4 گرام وزنی ہیں لیکن یہ مقدار سائنسی تحقیق کےلیے بہت کافی ہے۔

جاپان کے ہایابوسا 2 کو بطورِ خاص ’ریوگو‘ شہابیے سے مٹی اور کنکروں کے نمونے جمع کرکے زمین پر لانے کےلیے ہی بنایا گیا تھا۔

البتہ، خوش قسمتی سے اب بھی ’’ہایابوسا 2‘‘ میں خاصا ایندھن بچ گیا ہے لہذا اس کے خلائی مشن میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔

اپنے توسیع شدہ پروگرام کے مطابق، یہ خلائی مشن جولائی 2026 میں ’’سی سی 21‘‘ کہلانے والے ایک چھوٹے شہابیے (ایسٹرائیڈ) کے قریب سے گزرے گا۔

اس کے بعد، اگلے دو سال میں، یہ مزید دو مرتبہ زمین کے قریب سے گزرتے ہوئے اپنی رفتار میں اضافہ کرے گا اور جولائی 2031 میں ’1998 کے وائی 26‘ کہلانے والے ایک اور شہابیے کے بالکل قریب پہنچ کر اس کا مشاہدہ کرے گا۔

اس دوران یہ خلا کی تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمارے نظامِ شمسی سے باہر سیاروں (explanets) کا مشاہدہ بھی کرے گا۔