پی ڈی ایم ٹوٹ گئی، مفتی کفایت اللہ کو پھانسی لگانی چاہیے؟

290

آخر کار پی ڈی ایم اپنے انجام کوپہنچ گئی،عمران حکومت کو گرانے والے خود منہ کے بل گر گئے، مولوی فضل الرحمن جو فرعوان بنا ہوا تھا، عمران خان کو دھمکیاں دیا کرتا تھا، اس کے ساتھیوں نے اس کو زمین پر پٹخ دیا، مولانا شیرانی نے اس کے نیچے سے قالین کھینچ لی، مولانا کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا، اب مولانا ساری زندگی کبھی بھی منہ اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہے گا، اس کے اوپر دو طرف سے حملہ ہوا، وہ جو عمران حکومت کو گرانے کے خواب دیکھا کرتا تھا، پیپلز پارٹی نے بھی اس کے منہ پر طمانچہ مارا، آج بلاول نے نواز شریف کی واپسی سے استعفوں کو مشروط کر دیا، پی پی پی نے اعلان کر دیا کہ وہ ضمنی الیکشن میں بھی حصہ لے گی اور سینیٹ کے الیکشن میں بھی حصہ لے گی، اس طرح پی ڈی ایم کاانجام ہو گا شاید مولانا کو اورمریم صفدر کو اس کی امید نہیں تھی، مریم نواز جو عمران خان کے خلاف ہر وقت بکواس کرتی رہتی تھی اور عمران کو نالائق اور نکٹھو کہا کرتی تھی اس کا بھی دماغ درست ہو گیا، اس کی فرعونیت ختم ہو گئی وہ یہ سمجھ رہی تھی کہ وہ عمران حکومت گرا کر خود وزیراعظم بن جائے گی، اب یہ خواب کبھی پورا نہیں ہو گا، جیل اب اس کاانتظار کر رہی ہے اور جیل گئی تو سات سال گزار کر ہی باہر نکلے گی، اب ن لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر رہے گی، ن لیگ کے ارکان بھی استعفیٰ نہیں دیں گے، چندن لیگ کے ارکان ہی استعفیٰ دیں گے، کسی شاعر نے شائد ایسے ہی موقع کے لئے کہا تھا۔
’’پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا‘‘ عمران کی حکومت کو گرانے والے خود ہی گر گئے ، کیا کیا دعوے تھے مولوی کے اور نانی مریم کے سب خاک میں مل گئے ،آرمی چیف کے خلاف کیا کیا گندی زبان استعمال کی گئی ، آئی ایس آئی سربراہ فیض حمید کے خلاف نام لے کر بکواس کی گئی لیکن دونوںخاموش رہے اور برداشت کا مظاہرہ کرتے رہے اتنی توہین شائد کبھی بھی کسی آرمی چیف کی نہیں ہوئی ہو گی دونوں نے برداشت کی حد ختم کر دی، بھارت اور چائنا کی صورت حال کی وجہ سے دونوں نے برداشت کا مظاہرہ کیا ورنہ مارشل لاء لگانا ان کے لئے کوئی مشکل بات نہیں تھی، ان تین لیڈروں کو پکڑ کر جیل میں ڈالنا بھی کوئی مشکل کام نہ تھا۔
مولوی کفایت اللہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں جس قدر گندی اور دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی وہ پھانسی کا حقدار ہے، اس نے فوجی جوانوں اور آفیسرز کے گلے کاٹنے کی بات کی اس نے بکواس کرتے ہوئے کہا کہ دو سو لوگوں کے اگر آپ گلے کاٹ دیں تو ان کا دماغ درست ہو جائے گا، وہ ان فوجیوں کے متعلق بیان دے رہا تھا جو ملک کی حفاظت کررہے ہیں، کل بھی برنائی میں چیک پوسٹ پر حملہ ہوا اور سات جوان شہید ہو گئے، مولوی کفایت اللہ کو پکڑ کر الٹا لٹکا کر اس کے کوڑے لگائے جانے چاہئیں، وہ اسی سزا کا مستحق ہے، اس نے ایسی جرأت کیسے کی ، اس نے فوج کے خلاف اتنی گندی زبان استعمال کی ان کے گلے کاٹنے کی بات پر اس پر غداری کا مقدمہ چلنا چاہیے اور ایسی گندی زبان استعمال کرنے والوں کے لئے نشان عبرت بنا دینا چاہیے تاکہ آئندہ کسی کو بھی پاکستان فوج کے خلاف اس طرح کی بات کرنے کی ہمت نہ ہو، کابینہ نے اس مسئلے اور اس بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ درج کرنے کی بات کی ہے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بھی اس پر کارروائی کرنے کی بات کی ہے، فوج کو آرمی ایکٹ کے تحت مولوی کفایت اللہ کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دینی چاہیے تاکہ آئندہ کسی بھی سویلین لیڈر یا آدمی کو فوج کے خلاف اس قسم کی بات کرنے کی جرأت نہ ہو۔
پی ڈی ایم اپنے انجام کو پہنچ چکی، مولانا بھی اپنے انجام کو پہنچ جائے گا، اس کو بھی غیر قانونی جائیدادیں بنانے کے انجام کے طور پر جیل میں ہونا چاہیے، مریم نواز کے دماغ کی گرمی اب چھٹ جائے گی، عمران خان کا بھوت اب اس کے سر پر سے اتر جائے گا، جیل اب اس کی منتظر ہے، نواز شریف کا پاسپورٹ بھی ختم ہونے والا ہے، اس کا انجام بھی قریب ہے یا تو وہ کسی دوسرے ملک میں سیاسی پناہ لے گا یا پاکستان آ کر جیل جائے گا، عمران خان اب سکون سے اپنی حکومت کے پانچ سال پورے گا۔