مریم کیوںبے دھڑک جھوٹ بولتی ہیں؟ جواب انڈیا کرانیکل میں(۳)

305

مریم صفدر نے پی ڈی ایم کے جلسوں میں اتنے جھوٹ بولے کہ معتبر تجزیہ کار بھی چونک گئے۔ مریم اورنگزیب تو تنخواہ ہی جھوٹ بولنے کی لیتی ہے، مگر نواز شریف کی ہدایت پر تمام سینئر نون لیگیوں کو جھوٹ پر جھوٹ بولنا پڑ ا۔صرف یہ ہی نہیں، پی پی پی کے قایدین، اور حزب مخالف کے دیگر قائدین بھی دھڑلے سے جھوٹ بولے۔ کیوں؟اگر تفصیل چاہیے تو انڈیا کرانیکل کی رپورٹ پڑھیے۔
بھارت کے پاکستان کے خلاف منصوبہ کی تیسری کڑی دنیا میں ، خصوصاً عالمی اداروں میں اور بڑی طاقتوں کے بڑے شہروں میں، پاکستان مخالف پراپیگنڈا کی مہمیں چلانا تھا۔اس بات کاا نکشاف حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بڑی تفصیل کے ساتھ کیا گیا۔یہ رپورٹ ’’ انڈیا کرانیکل‘‘ کے عنوان سے شائع کی گئی، جس میں پندرہ سال سے جاری پاکستان کو دنیا بھر میں بد نام کرنے کی وسیع پیمانے پر ایک بھارتی مہم کا پتہ چلا ۔ اس کا سراغ ای یو کی انفو لیب کے چار صحافیوں نے 2019 میں لگایا۔ پاکستان کے خلاف سازش کا یہ بھارتی وسیع و عریض جال65 ممالک میں 265، آپس میںمتصل جعلی مقامی میڈیا کے دفاتر بنا کر پھیلایا۔یہ دفاتر بھارت کے بنائے ہوئے اہداف پر کام کرتے تھے،۔ ان کے علاوہ بے شمار مشتبہ تفکراتی اور غیر حکومتی رضا کارادارے اور تھے۔یہ جال برسلز اور جنیوا میں بنیادی طور پر پاکستان کے خلاف مواد بنانے اور اسکو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے میں فعال تھا۔انڈیا کرانیکل رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی تحقیق اس جال پر سے پوری طرح سے پردہ اٹھا کر اپنا تحقیقی کام جاری رکھے گی جو ان کی ایک اور رپورٹ’’حکمت عملی بنانے والوں پر بھارتی جعلی میڈیا سے اثر اندازکرنے کی کوششوں پر، ایک تحقیقاتی کام‘‘ میں قلمبند کیا جا چکا ہے۔
رپورٹ کے مصنفین کا بیان ہے کہ ’’اس تمام تحقیق کے دوران ہم کو سب سے زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ تہہ در تہہ جعلی کارناموں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہمیں کبھی بھی ان سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ ہم نے اس چھان بین کا نام انڈین کرانیکلز رکھا جس میں مردہ میڈیا کو زندہ کیا جاتاتھا، اور جس میں مردہ تفکراتی اور غیر سرکاری رضا کار ادارے ، بمعہ مردہ اشخاص کے سب کچھ تھا۔ اس کاروبار میں ملوث اشخاص نے نہ صرف دوسروں کے نام ہی اغوا کیے بلکہ انہوں نے جائز چلتے ہوئے میڈیا اور پریس ایجینسیز کے نام بھی استعمال کیے جیسے ای یو آبزور، دی اکانومسٹ اور وائس آف امریکہ، وغیرہ۔ یوروپین یونین کی پارلیمنٹ کے لیٹر ہیڈ کا استعمال، جعلی فون نمبروں سے ویب سائٹس بنانا، یو این کو جعلی پتے دینا، اور اپنے تفکراتی اداروں کی کتابیںچھاپنے کے ناشر بننا۔ سب شامل ہے۔ان لوگوں نے بظاہر بہت سے شراکت داروں سے ملکر میٹنگز بھی کیں جو در اصل سب انڈین کرانیکلز سے ملے ہوئے تھے۔انہوں نے بی بی سی کے ڈائیریکٹر اور برطانیہ کی حکومت کے ایک سابق وزیرکی تصویر کا فیس بُک پر نا جائز استعمال کیا۔ حتیٰ کہ جو لوگ پانچ سال پہلے فوت ہو گئے تھے، ان کے نام بھی میٹٹنگس کے شرکت کنندگان کے طور پر درج کئے گئے۔اور درجنوں جعلی صحافیوں کے نام استعمال کئے گئے۔جعلی میڈیا کی تہہ درر تہہ بنا کر ایک دوسرے کی باتوں کے حوالے دیتے اور شائع شدہ مواد کوبار بار شائع کرتے۔ ‘‘
اس رپورٹ کے مصنفین تھے گیری مشادو، الیکسینڈر الافیلیپ، رومن آدم شزک اور انطوان گریگور۔ یہ سب یوروپین یونین کی ڈِس انفو لیب میں کام کرتے تھے۔ یہ صحافی انگشت بدنداں تھے یہ جھوٹ کا اتنا بڑا کارخانہ اس قدر منظم تھا اور ڈھٹائی سے چلتا تھااور اتنی دیر تک چلتا رہا کہ کوئی انسا ن سوچ بھی کیسے سکتا تھا کہ یہ ممکن ہے۔انہوں نے کہا ’’یہ جال اتنا وسیع اور منظم تھا کہ ہماری تفصیلی رپورٹ بھی اس کا پورا احاطہ نہیں کر سکی۔جس کا ہمیں افسوس ہے۔لیکن اس کے اختصار اور وسائل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں بہت سی جعلسازیوں کو نظر انداز کرنا پڑا۔‘‘
بھارتی جعلسازیوں کے اس جال کا پتہ انہیں گزشتہ برس چلا تھا۔ جس پر پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم بازی ہو رہی تھی۔ یہ جال وہ خبیث چالباز چلا رہے تھے جو برسلز میں 2006 سے یورپین پارلیمنٹ کے نام پر، اسکے ارکان اوردوسرے سیاستدانوں کے لیے ایک جعلی جریدہ شائع کر رہے تھے جو ان کے لئے ایک چسکہ دار مصالحہ کی حیثیت رکھتا تھا جس میں وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے تھے اور جن میں وہ ایسے مضامین چھاپتے تھے جو بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف ہوتے تھے۔ پھر یہ لوگ جینیوا میں اقوام متحدہ سے منسلک میٹنگز اور مظاہروں میں شرکت کرتے تھے جو بظاہر پاکستان کی اقلیتوں کے حق میں رضاکار لیکن جعلی ادارے جیسے ’’یوروپین آرگنائزیشن برائے پاکستانی اقلیتیں‘‘ کرواتے تھے۔ ایک اور جعلی میڈیا، ’’ٹائمز آف جینیوا‘‘ اور ایک اور جعلی ادارہ 4 نیوز ایجنسی جسے مبینہ طور پر جینیوا کی پریس ایجنسی کہا گیا تھا، وہ تحریری اور فلمی جعلی مواد شائع کرتے تھے جو آن لائین این جی اوز کئی بار چلاتے تھے۔اور اسے دنیا بھر میں جعلی میڈیا کی وساطت سے اور انڈیا پریس ایجنسی کے ذریعہ یہ پوری دنیا میں بھیجا جاتا تھا۔یہ گھناونا کھیل نئی دہلی کے سری واستوا گروپ سے منسوب تھا جس نے ’عورتوں کے اقتصادی اور سماجی فکری گروہ (WESTT) کے ساتھ ملکر یوروپین یونین کے ۲۷ ارکان اسمبلی کو کشمیر بھجوایا اور وزیر اعظم نریندرمودی سے ملاقات کروائی۔
انڈیا کرانیکل کے مصنفین کہتے ہیں کہ انہوں نے ابتدائی رپورٹ کی اشاعت کے بعدکچھ اداروں پرگہری نظر رکھنے کا فیصلہ کیا جن میں ایک ’’کمیشن ٹو سٹڈی دی آرگنائزیشن آف پیس‘‘ تھا۔ ہمیں جلد ہی پتہ چل گیا کہ یہ امریکہ میں بنایا گیا این جی او جو (ECOSOC) سے منسلک تھا، لیکن 1970سے غیر فعال ہو چکا تھا، اس کو انہی اداکاروں نے جن کا ذکر پہلے کیا جا چکا تھا، 2005 میں اغوا کر کے فعال کر دیا۔یہی نہیں، ہم حیرت زدہ ہو گئے جب ہمیں پتہ چلا کہ اس کے سابق چیرمین لوئی بی سہن نے 2007 میں یو این کی انسانی حقوق کی میٹنگ میں بھی شرکت کی، جب کہ آنجہانی 2006 میں وفات پا چکے تھے۔ اور ایک ایسے موقع میں بھی شرکت کی جو’’ گلگت بلتستان کے دوستوں ‘‘نے سن 2011 میں واشنگٹن ڈی سی میں کروایا۔
’’یو این سے منظور شدہ این جی اوز کا ایک پورا جال تھا جس کا ہمیں پتہ چلا جو بھارت کی حمایت میں اور پاکستان کے مفادات کے خلاف متواتر مشغول تھا۔ ان میں سے کم از کم دس تو ضرور سری واستوا فیملی اور دوسرے مشکوک این جی اورز سے منسلک تھے۔اور کام ان کا وہی تھا۔جو این جی اوز یو این سے منظور شدہ تھے، وہ جینیوا اور برسلز کے غیر منظور اداروں کے ساتھ ملکر کام کرتے تھے۔ ان میں سے کئی جیسے ’’یوروپین آرگنائزیشن فار پاکستان مئیناریٹیز‘‘، ’’بلوچستان ہائوس اینڈ دی سائوتھ ایشیا ڈیمو کریٹک فورم‘‘ براہ راست سری واستوا گروپ سے منسلک تھے۔ان تمام اداروں کا کام سیاستدانوں اور ارکان اسمبلی کو ترغیب دینا، مخالفین کے احتجاج کرانا، پریس کانفرنسز اور یو این کے سائڈ ایونٹس پر بولنا، تھا۔ اور اکثر یو این کی میٹنگز میں ان کے اداروں کی نمایئندگی کے لیے بولنے بھی دیا جاتا تھا۔ جہاں وہ پاکستان کے مفادات کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے تھے۔
یہی نہیں، انڈیا کرانیکلز میں شامل اداروں نے کینیڈا میں بھی گمنام سی کمپنیاں اور جعلی میڈیا کے ادارے بنا دیئے تھے جو وہاں کی جنوبی ایشیا کی آبادی کو نشانہ بناتی تھیں۔اس کے علاوہ نیو یارک کے مظاہروںمیںشامل ہوتے تھے۔انہوں نے بنگلہ دیش اور مالدیپ میں بھی جعلی میڈیا بنائے۔انہوں نے افریقہ کو بھی نہیں چھوڑا اور وہاں بھی افریقن انسانی حقوق کے این جی اوز کے بہروپیئے بنا ئے، اور بے شمار ترغیبی ایجنسیاں بنائیں جو ای یو کے اداروں کو نشانہ بناتی تھیں۔ کوئی شک نہیں کہ پندرہ سال میں یہ کاروائی کئی بر اعظموں میں کی گئی۔ مختصراً انڈیا کرانیکلز نے 116 ملکوں میں اور نو خطوں میں اپنی کرتوتیں کیں۔
یہ کاروائیاں تا حال جاری ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد ان قوموں کے خلاف جھوٹی خبریں اور تبصرے پھیلانا ہے جو بھارت کے ساتھ کوئی نہ کوئی اختلاف رکھتی ہیں، جیسے پاکستان، اور چین۔ اس کے طویل مدتی مقاصد میں، بھارت میں بھارت کے حق میں اور پاکستان کے خلاف جذبات ابھارنا؛ عالمی سطح پر بھارت کی قوت کو بڑھانا، بھارت کا تاثر بہتر کرنا، دوسرے ملکوں کی شہرت کو نقصان پہنچانا اور عالمی اداروں سے بھارت کے لیے زیادہ اعانت لینا۔ ان سب کاموں میں جھوٹ سچ کا امتیاز ضروری نہیں۔ پاکستان کی دشمنی میں سب جائز ہے۔ انٹر نیٹ پر یہ جنگ سب سے تیز ہے،حتیٰ کہ ان ویب سائیٹس کو بھی خرید لیا ہے جنکی ضرورت آیندہ پاکستان کو ہو گی۔ لیکن یہ حرکات سب سے چھپی ہوئی نہیں ہیں۔ جیسے یوروپ کی پارلیمنٹ کے ارکان کا کشمیر کا دورہ کافی تنقید کا نشانہ بنا۔
اس پندرہ سالہ جنگ میں پاکستان کا کیا رد عمل رہا؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب پاکستانیوں کو پتہ چلنا مشکل ہے اس لیے کہ اگر پاکستان نے کوئی موثر کاروائی کی بھی ہو تو حکمت عملی کے تحت افشاء نہیں کی جائے گی۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ پاکستا ن نے ذرائع اور وسائل کی کمی کی وجہ سے خاموشی سے مار سہی ہو۔اور ممکن ہے کہ کسی اور محاذ پر جواب دیا ہو۔
انڈیا کرانیکل نے وہی کام کیا ہے جو پانامہ پیپرز نے کیا تھا۔ اس نے دنیا کو ، خصوصاًپاکستانیوں کو بھارت کے ناپاک جرائم پر جگانے کی کوشش کی ہے۔ بقول مولانا ظفر علی خان ؎ اٹھو وگرنہ حشر ہو گا نہ پھر کبھی ۔ دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا
انڈیا کرانیکل کو پڑھ کر گذشتہ پندرہ سال سے ہونے والے واقعات کی تہ میں ہونے والی وجوہات کا اندازہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی میڈیا جو پاکستان کے خلاف اتنا زہر اگلتا ہے، اس کے پیچھے کیا ہے؟ بھارت نے دنیا میں اپنی اعصابی جنگ پاکستان کے خلاف کر کے پاکستان کو کچھ نقصان تو پہنچایا ہے لیکن اس کے ساتھ اس نے پاکستان کے اندر جو کیا ہے وہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے۔کچھ پاکستانی ادیب ، شاعر، صحافی اورمیڈیا مالکان جو موجودہ حکومت کے خلاف زہر افشانی کرتے ہیں وہ دانستہ اور غیر دانستہ بھارت کی خواہش پوری کر رہے ہیں۔یہی حال سیاستدانوں کا ہے جو سمجھتے ہیں کہ رشوت لینا انکا پیدائشی حق ہے۔اس پر انہیں سزا کس بات کی؟ابھی ایک رپورٹ اور آنی باقی ہے جس سے پتہ چلے گا کہ کس سیاستدان اور میڈیا مالک نے بھارت سے کتنی رقم لی، یا کیا فوائد حاصل کیے، جن کی وجہ سے وہ بلیک میل ہو رہے ہیں اور بھارت کے گماشتے بنے ہوئے ہیں۔
بھارت نے جب دنیا میں پاکستان کے خلاف مہم چلائی تو اس نے زیادہ توجہ ان ممالک اور اداروں پر دی جنہیں پاکستان کا دوست کہا جاتا تھا جیسے خلیجی ممالک، سعودی عرب، مالدیپ، بنگلہ دیش، وغیرہ۔ یو این اور یوروپین یونین، بھی جن پر اس نے سب سے زیادہ وسائل لگائے۔حال ہی میں جو سعودی عرب اور خلیجی ممالک نے پاکستان کو دانت دیکھائے توان کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہی تو تھا! بھارت بھی گوئبلز کے فارمولا پر عمل کرتا نظر آتا ہے، کہ جھوٹ بولو اور متواتر بولو تو لوگ اس کو سچ سمجھنا شروع کر دیں گے۔ لیکن یہ لوگ بھول جاتے ہیں کہ ابلاغ عامہ کی تحقیق کے مطابق لوگ قابل اعتماد ذرائع کو مانتے ہیں، نا قابل اعتماد ذرائع سے آنے والی اطلاعات کو مسترد کر دیتے ہیں۔