تیاری

378

محترمہ بے نظیر بھٹو کی برسی تھی، ۲۷ دسمبر کو بے نظیر کا قتل ہو گیا تھا، ایک بہیمانہ قتل، اس خون کی سرخی اب بھی سیاست کے دامن پر ہے اور تادیر رہے گی، سیاسی خون رکتا نہیں بہتا رہتا ہے اور اسی خون کی سرخی پاکستان کی سیاست کو رنگ دیتی ہے چاہے وہ خون لیاقت علی خان کا ہو، بھٹو کا ہو یا پھر بے نظیر کا ہو، ضیا کا خون بھی اچھالنے کی کوشش تو کی گئی مگر ضیا سارے ہی چراغ بجھا کر چلا گیا تھا اور اتنا اندھیرا کر گیا تھا کہ اس خون کی طرف نگاہ گئی نہیں مگر پھر بھی ضیا رفعت پرستی کے دئیوں میں اتنا تیل ضرور ڈال گیا کہ اب تک دہشت گردی کو دین سمجھا جاتا ہے، بھٹو خاندان نے اپنے پیاروں کے خون کو سیاست میں خوب استعمال کیا جس ملک میں قبروں کی حکومت ہو اور قبروں سے منتیں مانگی جاتی ہوں وہاں اس نعرے کو تو پذیرائی ملنی ہی تھی کہ ’’زندہ ہے بھٹو زندہ ہے‘‘ ایک جاہل اور ان پڑھ معاشرے میں اس کو قبول بھی کر لیا جائے تو کیا مضائقہ ،آخر خادم رضوی کی قبر سے بھی لبیک یا رسول اللہ کی صدا بھی تو لوگ سن رہے ہیں اور اس پر ایمان بھی لارہے ہیں، بہرحال گڑھی خدا بخش میں محترمہ بے نظیر کی برسی دھوم دھام سے منائی گئی، دھوم دھام سے یوں کہ میلے کا سا سماں تھا، اس بار قرآن خوانی کی تصاویر دیکھنے کو نہیں ملیں ہاں اس برسی کے موقع پر پی ڈی ایم نے بھی شرکت کی اور بھرپور تقاریر سننے کو ملیں، جن میں زرداری، بلاول اور مریم نواز کی تقاریر اہم تھیں، پی ڈی ایم کے ان جلسوں سے اور کچھ تو ہونے والا نہیں مگر شغل لگا ہوا ہے مگر یہ شغل بھی بے مقصد تو ہے نہیں، اگر یہ شغل نہ ہوتا تو میدان سیاست میں موت کا سا سناٹا ہوتا، بس اسی سناٹے کو توڑنے کی ایک کوشش ہے اور یہ اس توقع کے ساتھ کہ مشرف دور میں ججوں کی بحالی نے سکوت توڑا تھا شائد پی ڈی ایم بھی یہ سکوت توڑنے میں کامیاب ہو جائے، یہ جو جلسوں پر اربوں خرچ کئے جارہے ہیں ان کا کوئی مقصد ہے، یہ سب یونہی تو نہیں یہ ایک قسم کی سیاسی سرمایہ کاری ہے اور امید یہ کی جارہی ہے کہ یہ سرمایہ کاری اچھا خاصا DIVIDENDدے گی۔
پی ڈی ایم کے اجزائے ترکیبی پر غور کریں تو معلوم ہو گا کہ اس تحریک سے مولانا اور محمود اچکزئی کو تو کوئی فائدہ ہونے والا نہیں، مولانا کے لئے یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے پی پی پی اور مسلم لیگ نواز نے مولانا کی توانائی کو بہت ذہانت سے استعمال کیا ہے، ان دونوں جماعتوں میں یہ سکت کہاں تھی کہ وہ جلسے کر سکتے، مولانا کو زیرک سیاست دان کہنے والے اب سر کھجلارہے ہیں جب چار بڑے بغاوت کے جرم میں جمعیت سے نکال دئیے گئے اور مولانا کے پاس غفور حیدری کے سوا کچھ نہ بچا، یہ جمعیت پر بڑاجیکٹ بمبار حملہ ہے جس کے نقصانات کا ازالہ نہ ہو پائے گا اور مولانا بہت دیر تک اپنے زخم سہلاتے رہیں گے پی ڈی ایم کی تحریک کابڑا فائدہ مسلم لیگ اور پی پی پی کو ہوا، ان دونوں نے دوسروں کی سرمایہ کاری سے بڑا منافع اپنی جھولی میں ڈال لیا ہے اور اس فنکاری سے کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوئی پی پی پی بہت خوبصورت سے سیاسی پریشرسے نکل آئی ہے جو کرپشن کے مقدمات کی وجہ سے اس کو ریزہ ریزہ کررہے تھے، پی پی پی شروع سے ہی ANTI-ESTABLISHMENT جماعت کہی جاتی ہے مگر اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیانئے سے دستبرداری کے بعد پی پی پی ایک بار پھر فوج مخالف بیانیے کو اپنانے میں کامیاب نظر آتی ہے، یہ بیانیہ پی پی پی کی قوت ہے اور غیر محسوس طریقے پر پی پی پی نے اس کو دوبارہ زندہ کردیا ہے، زرداری مسلسل بلاول کو GENERATEکرنے کی کوشش کررہے ہیں مگر بلاول ابھی تک کوئی توانا امیج بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، یہ افسوسناک رہا کہ ابتدا سے ہی بلاول کو ایک مسخرا بنا کر پیش کیا گیا اور اس کا گراف گرتا چلا جارہا ہے، بلاول کے منہ سے وہ باتیں کہلوانی جارہی ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں اور بلاول کے امیج کو بہت بڑا DENTمریم کی سیاست میں انٹری نے ڈال دیا ہے مریم نے بلاول کے مقابلے میں اپنے فن خطابت سے بہت سوں کو محسورکر دیا ہے۔نواز شریف نے کمال مہارت سے اپنے آپ کو جیل سے نکالا اور شان سے لندن روانہ ہوئے، اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو بہت طاقتور ثابت کر دیا، عمران فوج اور عدلیہ ان کے لئے راستے بناتے نظر آئے، نواز شریف اگر چاہتے تو مریم کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاسکتے تھے مگر جمال ذکاوت کا ثبوت ہوئے انہوں نے مریم کو پاکستان میں ہی چھوڑنے کا فیصلہ کیا، ایک موقع پر جب کہا جارہا تھا کہ نواز شریف کی سرجری ہونے جارہی ہے اور وہ یہ سرجری مریم کی موجودگی میں ہی کرانا چاہتے ہیں، اگر ایسا ہوتا تو پاکستان میں نواز شریف کی سیاست ختم ہو جاتی، پھر اس بات پر خاموشی اختیار کی گئی اور حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ نواز شریف کی سرجری بھی نہیں ہوئی، مگر اس وقت مریم نواز پی ڈی ایم کی سب سے مضبوط رہنما بن کر ابھری ہے اور اس کے فن خطابت نے سب کو متاثر کیا ہے، اور اس کے سارے انکل اس کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، بس پرویز رشید کو فوقیت حاصل ہے کہ وہ مریم کو تقاریر لکھ کر دیتے ہیں جو مجمع میں آگ لگاتی ہیں، ان تقاریر نے مریم کو بے حد دلیر بنا دیا ہے اور وہ نواز شریف کو پاکستان میں زندہ رکھے ہوئے ہے، شائد ان صلاحیتوں کااندازہ خود نواز شریف کو بھی نہیں تھا، پی ڈی ایم کو تو کچھ نہیں ملے گا مگر مریم کو ایک مضبوط شناخت بنانے کا موقع ضرور مل گیا ہے جو اس کو مستقبل میں پھل دے گا پی ڈی ایم کی یہ EXERCISEمریم کو اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کا موقع فراہم کررہی ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ مریم کو پاکستان کی سیاست میں ایک اہم کردار دینے کی تیاری ہے، تادیر ملک میں موروثی سیاست ہی رہے گی اور بقول فواد چودھری تین خاندان ہی سیاست پر چھائے رہیں گے، اگر مریم نواز شریف کے ساتھ لندن چلی جاتیں تو نواز کی سیاست کا خاتمہ ہو جاتا اور شہباز شریف کوESTABLISHMENTآسانی سے استعمال کر لیتی اور چودھری نثار بھی مدد کو آجاتے، مریم کو لانچ کر کے نواز شریف نے یہ دروازے بند کر دئیے ہیں۔