آہ رشیدہ عیاں!!

330

26دسمبر2020کو معروف شاعرہ رشیدہ عیاں مالک حقیقی سے جا ملیں، ان کا انتقال ان کی بیٹی نغمہ کے ہاں ہوا،26 دسمبرکوآرکنساس میں ان کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی تھی اور ان کا جسد خاکی 27 نیو جرسی پہنچ گیا، جہاں ان کی نماز جنازہ دوسری بار ادا کی گئی اور مورخہ 28 دسمبر2020کو انھیں ان کے شوہر کے پہلو میں دفن کر دیا گیا یہ رشیدہ عیاں کی خواہش تھی کہ ان کو ان کے شوہر کے پہلو میں دفن کیا جائے اور تدفین کے لئے شمیم مرحوم کے پہلو والی زمین ان کے انتقال کے فوراً بعد خرید لی گئی تھی، سو بروز پیر ان کی خواہش اور وصیت کے مطابق ان کی تدفین عمل میں لائی گئی، جب تک یہ سطور آپ تک پہنچیں گی رشیدہ عیاں اس زمین کو اوڑھ چکی ہیں، آسمان ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے) انا اللہ وانا علیہ راجعون(
رشیدہ عیاں سے میرا تعارف 1990 میں ہوا، یہ ایک شعری نشست تھی اور پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا اور یہ تعلق ان کے سانحہ ارتحال تک جاری رہا، ایک دو سال پہلے ان کی سماعتوں کا آوازوں سے تعلق کمزور پڑنے لگا تھا اور ان کی بصارت بھی اس دنیا کی بدصورتی دیکھتے دیکھتے اکتانے لگی تھی تو گفتگو کا دورانیہ بھی طویل ہو گیا تھا، یہ دعویٰ کسی بھی غلو سے پاک ہے کہ رشیدہ عیاں سے میرا دوستی اور رفاقت کا سفر کسی اور سے زیادہ طویل اور بے تکلفی کی حد تک خوش گوار رہا، وہ ایک سادہ اور نیک طینت خاتون تھیں، بے حد پراعتماد اور راسخ العقیدہ، مجھے نہیں معلوم کہ رشیدہ عیاں کی مجھ جیسی فکری طور پر منتشر شخص کے ساتھ اعتبار و اعتماد کی سطح اتنی بلند کیسے ہو گئی، آپ اس کو اخلاص کا نام دے کر مطمئن ہو جائیں تو مجھے اعتراض نہیں ہو گا شائد ایسا ہی ہو میں سوچ سکتا ہوں کہ ایسا ہی ہو گا بظاہر کوئی اور وجہ تو نہیں، ہمارے درمیان شعری نظریات کا تفاوت تو موجود تھا ہی اور ہم دونوں ہی اپنے نظریات کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہ تھے، یہ اعتراف میں بہت خلوص نیت کے ساتھ کر سکتا ہوں کہ میں نے ان سے مباحث کے دوران ان میں لچک دیکھی، ان کو نہ جانے کیوں مجھ پر اتنا یقین کیسے ہو گیا کہ میں تنقید میں سچ کو برتنے کا عادی ہوں، مجھے یاد ہے کہ حنیف اخگر کی فرمائش پر جب انکی دو کتابوں پر میں نے ایک تنقیدی مضمون لکھا تو ان کی جبیں پر شکنیں نمودار ہو گئی تھیں مگر رشیدہ عیاں کی تین کتابوں پر جو مضامین میرے قلم سے نکلے تو انہوں نے مسرت کا اظہار کیا اور ناگواری کا کوئی شائبہ ان کی گفتگو میں نہیں تھا، یہ ان کا بڑا پن تھا اور تنقید سہہ جانے کا حوصلہ۔
رشیدہ عیاں1932 میں پیدا ہوئیں 1975 میں امریکہ آئیں، اس وقت میں معاش کے اس مرحلے میں تھا کہ مجھے سردیوں کے لئے نئی جیکٹ خریدنے کے لئے اپنی جیب میں ڈالرز کی گنتی کرنی پڑتی تھی، رشیدہ عیاں نے اوائل عمری میں ہی شعر گوئی کا آغاز کر دیا تھا پھر یہ سلسلہ رکا نہیں رشیدہ عیاں نے جوشؔ اور جگرؔ کے ساتھ مشاعرے بھی پڑھے اور داد پائی، بھارت اور پاکستان کے بیشتر رسائل اور جرائد میں رشیدہ عیاں کا کلام چھپا رہا،یہ ان کا ہی اعزاز تھا کہ شمالی امریکہ میں اردو میں چھپنے والی پہلی کتاب ان کی تھی اور پھر اشاعتوں کا یہ سلسلہ جاری رہا چند سال قبل ان کی کلیات ’’روشنی کا سفر‘‘ کے نام سے چھپ کر منظر عام پر آگئی تھی ان کی چودہ کتابیں منظر عام پر آئیں، میں ان کے ہاں ارتقاء کا جائزہ لیتارہا اور مجھے یہ کہتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ ’’ابھی پروازجاری ہے‘‘ اور حرف اعتبار میں ہمیں ایک مختلف رشیدہ عیاں نظر آئیں، شمالی امریکہ کی کسی اور شاعرہ میں ارتقاء نظر نہیں آیا بیشتر شاعرات اپنی پہلی تخلیق کے بعد وہی ٹھٹک گئیں، یا اپنے آپ کو دہرانے میں عافیت جانی، یہ اعزاز بھی پہلے پہل رشیدہ عیاں کو ہی نصیب ہوا کہ شمالی امریکہ کی کسی شاعرہ پر پہلا تحقیقی مقالہ2006 میں کراچی کی ریسرچ اسکالر شبانہ غزل نے لکھا جس کو کراچی یونیورسٹی نے ’’رشیدہ عیاں‘‘۔ احوال و آثار‘‘ کے نام سے بہ اہتمام شائع کیا، یہ مقالہ303 صفحات پر مشتمل ہے، اس کے بعد رعنا اقبال نے ایک تحقیقی مقالہ ’’رشیدہ عیاں شخصیت اور فن‘‘ کے نام سے دنیائے ادب نے شائع کیا جو223 صفحات پر مشتمل ہے، رشیدہ عیاں کے کلام پر بھارت اور پاکستان کے بیشتر نامور تنقید نگاروں نے قلم اٹھایا، اس محبت اور خلوص سے کسی اور شاعرہ یا شاعر پر نہیں لکھا گیا، تنقیدی مضامین کا یہ انبار ایک ضخیم نمبر کی شکل میں شائع ہو سکتا ہے اور پاکستان اور بھارت کے کسی بھی تخلیق کار کے لئے قابل رشک ہو گا، مگر رشیدہ عیاں نے اس طرف توجہ نہیں کی میں مستقل اصرار کرتا رہا مگر بے سود، چند ماہ پہلے رشیدہ عیاں نے وہ تمام تنقیدی مضامین مجھے بھجوا دئیے تھے مگر ان کی زندگی میں یہ کام مکمل نہ ہو سکا جس کا مجھے دکھ اور اس مواد کی اشاعت کا ارادہ رکھتا ہوں۔
رشیدہ عیاں کے ہاں بھارت اور پاکستان کے عظیم شعراء نے مہینوں قیام کیا، ان کو ان نشستوں سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا مگر رد و قبول بھی جاری رہا، حنیف اخگر اور رشیدہ عیاں خوبصورت عالمی مشاعرے بھی برپا کرتے رہے اور صاحبان ذوق ان مشاعروں میں شرکت کرتے تھے، ان مشاعروں پر ٹکٹ بھی لگتا تھا اور یہ ٹکٹ خوشی خوشی خریدے جاتے تھے، ان مشاعروں میں سامعین اعلیٰ شعری ذوق سے مرصع تھے ان مشاعروں کے انعقاد سے کچھ بازی گروں کو ایسالگا کہ ایسے مشاعرے تو وہ بھی کراسکتے ہیں لہٰذا انہوں نے بھی جعلی ادبی انجمنیں بنا لیں چالیس سال کی عمر میں ان کو یہ کشف بھی ہوا کہ ان کے اندر بڑا شاعر موجود ہے، سو ان PARA TROOPERSنے چند سکوں کی ہوس کے لئے وہ صاف ستھرا شعری ماحول روند ڈالا جولوگوں کے ذوق کی تسکین کرتا تھا اور سامعین کی یہ کلاس نہ جانے کہاں کھو گئی جن کو دیکھنے کو آنکھیں ترستی ہیں، جوحنیف اخگر اور رشیدہ عیاں کو میسر تھی، اب انہیں ڈھونڈ چراغِ رخِ زیبا لے کر، اب نیویارک اور نیوجرسی ویران ہیں۔
رشیدہ عیاں ہم میں نہیں ہیں، نیوجرسی اور نیویارک میں سوگ کی اس گھڑی میں میں اکیلا ہی ہوں جو ہیں وہ رشیدہ عیاں سے واقف نہیں، رشیدہ عیاں نیوجرسی اور نیویارک کے ادبی حلقوں کا وقار اور افتخار تھیں، ذمہ داری سے کہہ رہا ہوں ان سا کوئی نہ تھا، سادگی ،محبت اورشفقت کا مرقع، بہت مہمان نواز اور فیاض، زود گوئی میں بھی کمال اور معیار بدست، سراپا ایک مکمل مشرقی عورت، اولیاء اور صوفیا پر جان چھڑکنے والی اور اپنے خدا سے پیار کرنے والی، سماجی مسائل کے حوالے سے اشتراکیت سے بھی متفق، طبقاتی نظام سے بھی متنفر، عورت کی آدھی گواہی کو نہ ماننے والی اور محبت کی آواز، اب شائد ایسی شخصیت کم از کم مجھے نہیں ملے گی، ایسے لوگ نہ جانے کیوں چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر نہیں آتے، رشیدہ عیاں سے میرا گہرا تعلق رہا ،جو اب بکھر چکا۔
ازل سے کام سونپا ہے اجل کو دستِ قدرت نے
چمن سے پھول چننا اور ویرانوں میں رکھ دینا!