دیکھئے پاتے ہیں۔۔۔ کیا۔۔۔؟

361

عام طور سے ایک سال جب گذرتا ہے تو دکھ کا ایک احساس ہوتا ہے کہ زندگی کا ایک اور برس بیت رہا ہے اور یہاں زمین پر ہماری عمر کی مدت میں کمی آرہی ہے!
لیکن یہ سال،2020عیسوی کا، تو دنیا بھر کیلئے ایسا عذاب بن کے آیا تھا کہ یہ اب گذر رہا ہے تو ایک طمانیت کا احساس ہورہا ہے کہ چلو خدا خدا کرکے یہ سال اب جارہا ہے اور دنیا پر سے اس کا آسیب جیسا سایہ اٹھنے کو ہے!
خوشی ہے اس سال کے ختم ہونے کی، بہت خوشی ہے اور اس وجہ سے ہے کہ دنیا امید پہ قائم ہے سوہر لب پہ ایک ہی دعا ہے کہ اس سال کے بیت جانے کے بعد جس نئے سال کا سورج طلوع ہو وہ اپنی کرنوں کے ساتھ ہماری دنیا کی اس بلکتی ہوئی اور دکھی انسانیت کیلئے ایک نئی صبح کا پیغام لے کر آئے اور اس کے ساتھ ہی یہ کرونا کا عذاب دنیا سے اٹھ جائے!
مجھے احساس ہے کہ میری یہ دعا، جس میں میں اپنے تمام پڑھنے والوں کو بزعمِ خود شریک کررہا ہوں اسلئے کہ میں جانتا ہوں کہ کر ہّ ارض پر بسنے والا ہر انسان یہ چاہتا ہے کہ اس عالمی وبا سے نجات مل جائے اور جتنی جلد ممکن ہو نجات کا لمحہ آجائے، نہ صرف میرے ہر قاری کے دل کی دعا ہے بلکہ ہر وہ شخض بھی اس میں شریک ہے جو اس کالم کو نہیں پڑھے گا یا پڑھ نہیں سکتا!
پوری دنیا بلبلا اٹھی ہے اس کرونا کے عذاب سے اور فی الحال تو اس کے ختم ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں بلکہ موسمِ سرما کے ساتھ یہ یوں لگتا ہے جیسے انتقامی جوش و جذبہ کے ساتھ پلٹ کر وار کرنے کیلئے آگیا ہو۔ یہ دوسرا وار زیادی قاتل ہے کیونکہ وائرس نے کہتے ہیں کہ اپنا چولا بدل لیا ہے۔ آج سے پہلے ہم یہی کہاوت سنتے آئے تھے کہ چولا بدلنے والا شاطر اور بڑا کھلاڑی ہوتا ہے لیکن اس وائرس نے جو چولا بدلا ہے تو اس کا نیا روپ زیادہ ہی بھیانک اور مہلک لگ رہا ہے۔! امریکہ میں تو اس سال پورے وقت برا حال رہا ہے اور آثار و شواہد یہ کہ رہے ہیں کہ اطمینان کا سانس لینے کی علامتیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ اور امریکہ کے حوالے سے تو دانائے راز یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ کرونا کی نحوست تو اپنی جگہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ایک اور نحوست بھی اس ملک پر مسلط ہے جس کی شدت کا احساس تو اب ہمیشہ سے زیادہ ہورہا ہے کہ دنیا کہہ رہی ہے کہ تمہیں ہار ہوگئی ہے، مات ہوگئی ہے، سو، پیارے ہتھیار ڈال دو لیکن وہ ظالم ہے کہ اب بھی اڑا ہوا ہے، ٹس سے مس ہونے کو آمادہ نہیں ہے۔!
ہم نے دیکھا ہے کہ شر کیسے پھیلتا ہے۔ زیادہ کہنے کی نہ گنجائش ہے نہ ضرورت لیکن شر کے جواب میں قدرت کی طرف سے جو عذاب نازل ہوتا ہے اسے دنیا دیکھ رہی ہے۔ یہ عذاب ہے قدرت کی طرف سے چاہے لاکھ اس سے انکار کیا جائے لیکن چمکتے سورج کی طرف سے آنکھیں بند کرنے کے بعد یہ کہنے سے کہ روشنی نہیں ہے اندھیرا ہے سورج کی حقیقت ماند نہیں پڑتی۔ یہ عذاب ہے قدرت کا بالکل اسی طرح جیسے قرآن کے مطابق ان امتوں پر جنہوں نے گناہ کئے اور ان سے تائب نہیں ہوئیں عذاب نازل کئے گئے۔ قدرت اپنے قوانین نہیں بدلا کرتی اور جب زمین پر گناہ اس کی برداشت سے بڑھ جائیں تو قدرت عذاب نازل کرنے میں دیر نہیں کرتی!
لیکن معتوب اور ذلیل و خوار ہوتی ہیں وہ قومیں جو عذاب سے بھی سبق حاصل نہیں کرتیں اور ان میں سرِ فہرست وہ قوم ہے جو اپنے وطنِ مرحوم میں پائی جاتی ہے بلکہ یوں کہنا قرینِ قیاس ہوگا کہ سیاستدانوں کی وہ انوکھی، نہیں عجیب و غریب، قماش جو وہاں پائی جاتی ہے شاید ہی اس کرہّ ارض پہ کہیں اور پائی جاتی ہو!
کرونا کی یہ دوسری لہر پاکستان میں بھی ایک نئی شدّت کے ساتھ آئی ہے۔ ہم اللہ کا بڑا شکر ادا کرتے تھے کہ پاکستان میں عمران حکومت کی بروقت پالیسیوں نے، جن کی تعریف دنیا بھر میں ہوئی لیکن نہ ہوئی تو عمران کے تنگ دل اور بد نہاد سیاسی مخالفین کے عیب دار منہ سے، اس بلا کو زیادہ پھیلنے اور پنپنے کا موقع نہیں دیا، لیکن اب صورتِ حال تشویشناک ہے اور حکومت پوری تندہی سے اس پہ قابو پانے کیلئے کوشش اور محنت کر رہی ہے لیکن لعنت ہو ان بدبختوں پر جنہیں اپنے سوا اور کچھ نظر ہی نہیں آتا۔ کوئی شعور، کوئی احساس ہی نہیں ہے ان غرض کے بندوں کو کہ یہ جو پیسے دیکے اپنے جلسوں میں غریب اور ان پڑھ عوام کو لیکر آتے ہیں تو ان کیلئے کیسا خطرہ بڑھ جاتا ہے اس وبا کی لپیٹ میں آجانے کا! یہ جو عمران کو حکومت سے ہٹانے کی رٹ لگائے ہوئے ہیں ان کی اپنی حیثیت کیا ہے، کیا مقام ہے ان کا سوا اس کے کہ کوئی پاکستان سے مفرور نامی چور نواز شریف کی بیٹی ہے تو کوئی ایک اور نامی ڈاکو زرداری کا فرزند ہے۔ اب ان سیاہ کاروں کو ہر گذرتے دن کے ساتھ اپنی گردن کے گرد پھندا تنگ ہوتا ہوا نظر آرہا ہے۔!
ملک کے عوام فریب کھانے میں ماہر سہی لیکن پھر بھی اب تک انہیں اتنا تجربہ تو ہوچکا ہے کہ جانتے ہیں کہ یہ جو دو قبیلے ہیں، ایک نام کے شریفوں کا اور دوسرا بھٹوزرداری کا، یہ سیاست کو دکانداری سمجھتے ہیں اور سیاست ان کیلئے صرف کھانے کمانے کا وسیلہ ہے۔ ملک سے یا قوم سے انہیں رتی برابر بھی ہمدردی نہیں ہے یہ سارا تماشہ اس دولت کو بچانے کیلئے ہے جو ملک و قوم سے لوٹی گئی ہے۔ یہ اتنے کم ظرف ہیں کہ آج اگر عمران ان کو یقین دلادے کہ وہ انہیں این آر او دیکر ملک سے بھاگ جانے کی سہولت دے دیگا تو یہ بے غیرت اس کے پاؤں دھو دھو کر پینے کو آمادہ ہونگے لیکن عمران چونکہ اپنی بات کا سچا اور کھرا ہے اور ان چوروں کو نہ کوئی ڈھیل دے گا نہ ان سے ویسے سودا کرے گا جیسا رنگیلے مشرف نے کیا تھا تو یہ ہر کوشش کر رہے ہیں کہ وہ ان کے جلسوں سے مرعوب ہوکر ان کی طرف مائل ہوجائے!
تو قصہ مختصر کہ ہمارا پاکستان دنیا میں انوکھا اور بے مثال ہے، کردار اور نظام کے حوالے سے نہیں بلکہ ساری غلط باتوں کیلئے۔ وہ جن کا زعم یہ ہے کہ وہ عمران سے بہتر حکومت چلاسکتے ہیں وہ صرف اپنی کھال میں مست قوم کو تباہی کے دہانے پر لیجانے سے بھی باز نہیں آرہے۔ اس تمام صورتِ حال میں ایک بات یہ ضرور اچھی ہوئی کہ اس منافق ملا کی پارٹی میں پھوٹ پڑگئی جو مریم نواز اور بلاول کا اتالیق بنا ہوا ہے اور ان کو وہ تمام حربے سکھانا چاہ رہا ہے جن میں وہ خود طاق ہے لیکن اس کے قریبی ساتھی، جن میں مولا شیرانی جو اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں، سرِ فہرست ہیں۔ انہوں نے پارٹی کے تین اور سرکردہ اراکین کے ہمراہ ملا فضل کی سربراہی کے خلاف اعلان بغاوت کردیا ہے اور پارٹی سے نکل گئے ہیں۔ ملا فضل کے غبارہ میں سے البتہ ہوا نکل گئی ہے اور اب ایسی ہی ہوا مریم اور بلاول کے غباروں سے بھی بہت جلد نکلنے والی ہے۔ ملا فضل، جس کی اپنی رکنیت کسی اسمبلی کی نہیں ہے، ایک عرصہ سے یہ چاہ رہا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے اراکینِ اسمبلی اپنی نشستوں سے استعفی دے دیں۔ اس کا یہ مطالبہ اس کبڑی بڑھیا کی کہانی کی طرح ہے جس سے بادشاہ نے خوش ہوکر پوچھا تھا کہ بتاؤ کیا انعام چاہئے اور بڑھیا نے جواب میں کہا تھا کہ بادشاہ سلامت میں یہ چاہتی ہوں کہ سب میری طرح کبڑے ہوجائیں! تو ملا فضل کے اس مطالبہ پر نواز لیگ اور پیپلز پارٹی دونوں کے اراکین برہم اور نالاں ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ عمران حکومت خالی نشستوں پر فوری ضمنی انتخاب کرواکر ان کا مستقبل تاریک بنا دیگی۔ سو مفسد ملا کا یہ وار بھی خالی جاتا دکھائی دے رہا ہے اور اب اس کیلئے یہ نیا امتحان پیدا ہوگیا کہ اپنے گھر کو ٹوٹنے سے کیسے بچائے۔ خدا کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے!
قائل ہونا پڑتا ہے کہ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ ملا فضل کو یہ زعم ہوگیا تھا کہ وہ عمران کا جینا حرام کردیگا اب اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ ہر فرعون کیلئے ایک موسی پیدا کردیتا ہے جو اس نابکار کو غرق کردے۔ اس ابلیسی چیلے کا انجام بھی قریب آگیا ہے!
یہ اس سال کا آخری کالم ہے۔ میری دعا ہے کہ میرے سب پڑھنے والے آنے والے سال میں شاد و آباد رہیں اور ہم سب پر سے، بلکہ دنیا پر سے، اس آسیب، اس نحوست کا سایہ اس نئے سال کے سورج کے نکلنے کے بعد سمٹنا شروع ہوجائے۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ اس وبا، اس بلا، سے مکمل نجات کب ملے گی لیکن جب بھی ملے دعا کرنی چاہئے کہ پھر یہ نحوست دنیا کو اپنے حصار میں نہ لینے پائے۔ دنیا بھر میں ۸۱ لاکھ انسان ابتک اس بلا کے ہاتھوں لقمہٗ اجل بن چکے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ یہ تعداد اب اور نہ بڑھنے پائے۔
آپ سب کو نیا سال مبارک ہو اور یہ اپنے جلو میں صحت و عافیت اور سب کیلئے خوشیوں کا سامان لیکر آئے!(آمین)
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ