ٹی وی کی کہانی

255

آج ہم سب کے گھر میں ٹی وی سیٹ رکھا ہے، نہ صرف ایک بلکہ کئی کئی Sets، کرکٹ میچ سے لے کر موسم اور انٹرٹیمنٹ تک ہم سب ٹی وی کا رخ کرتے ہیں لیکن کبھی سوچا کہ یہ ٹی وی کب اور کیسے ایجاد ہوا اور یہ اپنی موجودہ شکل تک کیسے پہنچا؟
یہ بات جان کر شاید آپ حیران ہوں کہ امریکہ میں صرف اکیس برس کے نوجوان نے ٹی وی ایجاد کیا تھا، 1927ء میں Philotaylerاس کا موجد تھا، فِلو کے گھر میں تو چودہ سال کی عمر تک بجلی بھی نہیں تھی لیکن انہیں شوق تھا کہ تصویروں کے ذریعے وہ کسی طرح موشن پیدا کر سکیں، انہیں لگتا تھا کہ اگر ایسی کوئی چیز ایجاد ہو گئی تو وہ تعلیم کے میدان میں بڑی مدد گار ثابت ہو گی، ان کے ذہن میں ٹی وی کو لے کر انٹرٹینمنٹ جیسی کوئی چیز نہیں تھی، ایسا نہیں کہ فِلو سے پہلے کسی نے کوشش نہیں کی تھی اس سلسلے میں، لیکن کسی کا بھی ٹی وی فلو سے بہتر نہیں تھا، ٹی وی آیا تو بہت زیادہ دیر نہیں لگی، یہ سوچنے میں کہ اسے تفریحی مقاصد کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے اور پھر کوئی نہ کوئی ٹی وی سٹیشن بھی آنا ہی تھا، چارلس فرانسس وہ پہلا شخص تھا جس نے پہلی مرتبہ امریکہ میں دو جولائی 1928ء کو ٹی وی سٹیشن شروع کیا، ٹی وی سٹیشن کے ذکر پر ذہن میں لمبا چوڑا سٹوڈیو اور آفس آتا ہے لیکن یہ پہلا ٹی وی سٹیشن ایک آفس کے کمرے کے کونے میں رکھی میز پر شروع کیا گیا تھا، ابھی تک امریکہ میں ٹی وی عام نہیں تھا۔
امریکہ میں چلنے والے پہلے ٹی وی شو کانام تھا ’’The Qeeens message‘‘اور وہ چار ٹی وی سیٹس پر براڈ کاسٹ کیا گیا تھا جی ہاں صرف چار کیونکہ نہ ہی ٹی وی کی ماس پروڈکشن تھی اور نہ ہی یہ مارکیٹ میں بیچا جا سکتا تھا، 1938ء یعنی تقریباً دس سال بعد پہلا کمرشل ٹی وی سیٹ مارکیٹ میں آیا اور آتے ہی عام لوگوں میں زبردست ہٹ ہو گیا، ہر شخص اپنے گھر کے لئے ٹی وی لینا چاہتا تھا، ایک نئی سوچ لوگوں میں پیدا ہوئی کہ جس گھر میں ٹی وی ہے وہ ایک خوشحال گھرانا ہے۔
ٹی وی بکنا شروع ہوا تو دو تین ٹی وی چینلز بھی آگئے اور مختلف پروگرام شروع ہو گئے لیکن ٹی وی پر پہلا کمرشل یعنی اشتہار 1941ء میں چلا جو کہ ایک گھڑی کا تھا، اس اشتہار کا دورانیہ محض دس سکینڈ کا تھا، اس سے پہلے ٹی وی پر اشتہارات چلانے کا آئیڈیا کسی کو نہیں آیا تھا، 1946ء میں شروع ہوئی رنگین ٹی وی کی جنگ’’ سی بی ایس‘‘اور ’’آر سی اے‘‘ دو ایسی کمپنیاں تھیں جو اپنے اپنے ٹی وی مارکیٹ میں لانا چاہتی تھیں لیکن سی بی ایس ٹی وی کے ساتھ مسئلہ یہ تھا کہ وہ صرف رنگین پروگرام چلا سکتا تھا اور آر سی اے پر بلیک اینڈ وائٹ اور رنگین دونوں پروگرام چل سکتے تھے، حیران کن طور پر ایف سی سی نے سی بی ایس کوامریکن ٹی وی سٹینڈر بنا دیا، آر سی اے نے احتجاج کیا اور کہا کہ ان کا ٹی وی بہتر ہے۔ آر سی اے نے بھی میدان نہیں چھوڑا اور ٹی وی بناتے رہے اور 1953میں ایف سی سی بھی یہ ماننے پر مجبور ہو گیا کہ آر سی اے کے ساتھ ریموٹ کنٹرول بھی متعارف کروایا، رنگین ٹی وی کے ساتھ بھی وہی ہوا جو عموماً نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس کو اپنانے والے کم ہوتے ہیں، ٹی وی سیٹ جو لوگ بھی خریدتے ان کو لگتا کہ رنگین ٹی وی مہنگا بھی ہے اور اس کی پروگرامنگ بھی کم ہے یعنی کوئی بھی ٹی وی سٹیشن زیادہ کلر پروگرام نشر نہیں کررہا۔ 1954ء سے 1965تک کلر ٹی وی کی سیل نہ ہونے کے برابر تھی، 1966ء میں امریکہ کے ہر ٹی وی سٹیشن پر کلر پروگرامنگ آگئی اور سب نے رنگین ٹی وی خریدنے شروع کر دئیے، 1966ء وہ سال تھا جب لوگوں نے اتنے کلر ٹی وی خریدے کہ وہ مارکیٹ سے آئوف آف سٹاک ہو گئے۔
1952ء میں امریکہ میں بیس ملین ٹی وی دیکھنے والے تھے، جو پچھلے سال کی نسبت 33%زیادہ تھے، 1958تک امریکہ بھر میں تقریباً چھ سو ٹی وی کیبل سروسز موجود تھیں اور کوئی ساڑھے چار لاکھ لوگ اپنے ٹی وی کیبل کے لئے ماہانہ ادائیگی کرتے تھے، ٹی وی نے ایک ایک تاریخ بنائی ہے، 1960میں نکسن اور جان ایف کینیڈی کی الیکشن کمپین کے سلسلے کی چار تقاریر ہمیشہ یاد رہیں گی، یہ آغاز تھا ان صدارتی تقریروں کا لائیو دکھانے کا جو آج تک جاری ہے۔
1963میں ٹی وی نے جب ہسٹری بنائی کہ جب اس نے پرنٹ میڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا، پول کے مطابق لوگ اب ٹی وی کو زیادہ معتبر سمجھتے تھے نسبتا پرنٹ میڈیا کے۔
بٹیلز میوزک گروپ EdSullivanشو پر آیا جسے تہتر(73)ملین لوگوں نے ٹی وی پر دیکھا۔
1965میں این بی سی نے اپنے آپ کو فل کلر سٹیشن کہنا شروع کیا جس کے بعد امریکہ نے کبھی بلیک اینڈ وائٹ کی طرف مڑ کر نہیں دیکھا، 1969میں نیل آرمسٹرانگ کو چاند پر چلتے دکھایا گیا جو کہ انسانی تاریخ کا ایک اہم ترین واقعہ تھا۔
1980ء ایم ٹی وی اور سی این این جیسے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز آگئے جو چوبیس گھنٹے اپنی نشریات دکھاتے( جاری ہے)