او باما کی کتاب

346

براک اوباما کی کتاب A Promised Land یعنی وہ سرزمین جسکا وعدہ کیا گیا (ارض موعود) میں میری دلچسپی صرف اتنی تھی کہ ایبٹ آباد کمپائونڈ پر حملے کا فیصلہ کیسے کیا گیا وہ کونسے سوالات ‘ مشکلات اور اندیشے تھے جو اس فیصلے کی راہ میں حائل تھے وہ فکری عمل‘ مشاورتیں اور مخالفتیں کیا تھیں جنکی پر خار وادی سے گذر کر ہی اسامہ بن لادن تک پہنچا جا سکتا تھا سات سو چھہ صفحات پر مشتمل اس کتاب کے کل ستائیس ابواب ہیں اسکا آخری باب جو تیس صفحات کا ہے میں ایبٹ آباد پر حملے کا ذکر بڑی احتیاط اور ڈپلومیٹک انداز میں کیا گیا ہے اسمیں کچھ باتیںایسی ہیں جو کتاب کی اشاعت تک اخفائے راز میں تھیںبراک اوباما لکھتے ہیں کہ بن لادن کو پکڑنے کا سودا انکے سر میں اسوقت سے سمایا ہوا تھا جب وہ سینیٹر بھی نہیں بنے تھے اس خواہش کا اظہار انہوں نے پہلی مرتبہ سینٹ کی انتخابی مہم کے دوران 2002 میں شکاگو فیڈرل پلازہ کی ایک تقریر میں کیا تھا وہ بعد میں یہ ذکر اپنی صدارتی مہم کے دوران بار بار کرتے رہے ان دنوں انہوں نے امریکی عوام سے وعدہ کیا کہ اگر حکومت پاکستان نے بن لادن کو گرفتار نہ کیا تو وہ بحثیت صدر یہ کام ضرور کریں گے اوباما نے لکھا ہے کہ اسوقت ہیلری کلنٹن اور جان مکین نے مجھے ایک جونیئر سینیٹر سمجھ کر یہ طنز کیاکہ مجھے خارجہ امور کے اسرار و رموز کا کچھ پتہ نہیںاور میں الیکشن جیتنے کیلئے مرد آہن بننے کی کوشش کر رہا ہوں جنوری 2009 میں صدارت سنبھالنے کے بعدبراک اوباما نے مئی میں پہلی مرتبہ اپنے چند مشاہیر سے کہا کہ وہ بن لادن کے تعاقب کے وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیںاسکے بعد اس مسئلے پر ہونیوالی میٹنگز میں ابو احمد الکویتی کا ذکر آیااسوقت تک سی آئی اے کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ اسی ایک شخص کے ذریعے بن لادن تک پہنچا جا سکتا تھاخفیہ ایجنسی نے الکویتی کی مصروفیات اور حرکات و سکنات سے یہ اندازہ لگایا تھا کہ بن لادن قبائلی علاقے میں نہیں بلکہ اسلام آباد سے پینتیس میل کے فاصلے پر ایک پہاڑی شہر ایبٹ آ باد میں واقع ایک بڑے کمپائونڈ میں رہتا ہے اسکے بعد Aerial Surveillance یعنی فضائی نگرانی کے ذریعے پتہ لگایا گیا کہ ایک طویل القامت شخص اس کمپائونڈ کے لان میں دائروں میں چکر لگاتا رہتا ہے اوباما کی ٹیم نے اس شخص کو Pacer یعنی چکر لگانے والے کا نام دیا اسے بن لادن اسلئے نہیں کہا گیا کہ اسوقت تک کسی کو بھی یقین نہ تھا کہ یہ شخص انکا مرد مطلوب تھا یہ فیصلہ شروع ہی میں کر لیا گیا تھا کہ اس مقصد کیلئے جو راستہ بھی اختیار کیا جائیگا اسکی اطلاع حکومت پاکستان کو نہیں دی جائیگی اوباما نے یہاں جنگِ دہشت گردی میں پاکستان کی تعریف کرنے کے ساتھ یہ بھی لکھا ہے کہ وہاںبن لادن سے ہمدردی رکھنے والوں کی کمی نہیں اسلئے وہاں سے کسی کو بھی اس مشن میں شامل نہیں کیا جا سکتااس دوران میں یہ سوال بھی زیر غور آیا کہ پاکستان جنگِ دہشت گردی میں امریکہ کا اتحادی ہے اور مجوزہ حملے میں اسکی sovereignty یعنی خود مختاری میں خلل اندازی ہو گی اس صورت میں امریکہ کا موقف کیا ہو گا اوباما نے اپنے مشاہیر سے کہا کہ یہ تو کسی ملک کے خلاف جنگ شروع کرنے والی بات ہے اس مسئلے پر طویل عرصے تک غورو خوض ہوتا رہا
اوباما کو بتایا گیا کہ ایبٹ آباد میں اپنا ہدف حاصل کرنے کیلئے صرف دو آپشنز ہیں پہلا اور آسان یہ کہ کمپائونڈ کو ایک فضائی حملے میں تباہ کر دیا جائے اسکا فائدہ یہ ہو گا کہ کسی امریکی کے ہلاک ہونیکا خطرہ نہ ہوگااسکا دوسرا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان کی امریکہ مخالف عوام سے انکی حکومت یہ کہہ سکے گی کہ اس واردات میں امریکہ کے ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت نہیں ملے اوباما نے لکھا ہے کہ جب انہوں نے تنہائی میں اس آپشن پر غور کیاتو اسمیں انہیں کئی خامیاں نظر آئیں پہلی اور سب سے بڑی خامی یہ تھی کہ اگر کمپائونڈ کو تباہ کر دیا جائے تو یہ کیسے ثابت کیا جا سکے گا کہ بن لادن اسمیں موجود تھا القاعدہ اگر اس حملے کے بعد بھی بن لادن کے زندہ ہونیکا دعویٰ کرے تو امریکہ کے پاس اسکا کیا جواب ہو گا اس آپشن میں دوسری خامی یہ تھی کہ کمپائونڈ میں بیس بچے اور چار مرد بھی رہ رہے تھے اور میزائل حملے میں آس پاس کے گھروںکا تباہ ہونا بھی یقینی امر تھا یہ سوچ کر اوباما نے اپنی ٹیم سے کہہ دیا کہ وہ درجنوں افراد کے قتل کا حکم اس صورت میں نہیں دے سکتے کہ انہیں سو فیصد یقین نہیں ہے کہ بن لادن اس کمپائونڈ میں موجود ہے یہ بات اسی اوباما نے لکھی ہے جس نے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں چارسوسے زیادہ ڈرون حملے کرواکے ہزاروںافراد کو ہلاک کیا عقل حیران ہے کہ ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں اتنا سفاک اور اتنا حساس کیسے ہو سکتا ہے۔
اس آپشن کے استرداد کے بعد دوسرے آپشن کا جائزہ لیا گیا اسمیں Navy SEALS یا کمانڈوز کی ایک ٹیم نے رات کی تاریکی میںہیلی کاپٹروں کے ذریعے حملہ کر کے اپنا ہدف حاصل کرنا تھااس حکمت عملی کو طے کرنے اور مشن کیلئے مطلوبہ تیاری کرنے میں دو سال گذر گئے کبھی کبھار ہونیوالی میٹنگز میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا کہ اگرحملے کے دوران پاکستان آرمی یا فضائیہ سے آمنا سامنا ہو گیا توپھر کیا کیا جائیگا اسکا حل یہ نکالا گیا کہ امریکی کمانڈوز پاکستان کی پولیس یا فوج سے جنگ کرنے کی بجائے بات چیت شروع کر دیں گے اور اس دوران میں امریکی سفارت کار اسلام آباد میں اپنے ہم منصبوں سے مذاکرات کر کے SEALS کی Safe Exit کا بندوبست کر دیں گے اس موقع پر سیکرٹری آف ڈیفنس رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ریمنڈ ڈیوس کے واقعے کی وجہ سے پاکستان کے عوام امریکہ کے خلاف خاصے مشتعل ہیںاسی لئے ریمنڈ کی رہائی کیلئے دو ماہ تک مذاکرات کرنا پڑے تھے رابرٹ گیٹس سے اتفاق کرتے ہوے اوباما نے کہا Two months of tense diplomatic drama had brokered Davis’s release یعنی دو مہینے کے کشیدہ سفارتی ڈرامے کے بعد ڈیوس کی رہائی ممکن ہوئی تھی رابرٹ گیٹس نے کہا کہ ان حالات میں SEALS کو وہاں سے نکالنا آسان نہ ہو گا اسلئے اس مہم جوئی سے گریز کیا جائے تو بہتر ہو گا اوباما نے گیٹس سے اتفاق کرتے ہوے کہا کہ ایک ناکام مشن کا مطلب اپنے کمانڈوز کو پاکستان کے حوالے کرنا ہو گااوباما نے مارچ 2011 میں ہونیوالی اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا کہ وہ اس حملے کی اجازت اسوقت تک نہ دیں گے کہ جب تک انہیں اسکی کامیابی کا مکمل یقین نہ ہو گا ( جاری ہے)