اللہ کرے نیا سال سب کے لئے آسودگی، صحت اور تندرستی کا ضامن ٹھہرے اور اس جان لیوا وباء کا خاتمہ ہو جائے

281

ہم کتابوں میں پڑھتے آئے تھے اورلوگوں کی زبانی سنتے آئے تھے کہ جب کوئی وباء پھیلتی ہے تو بیک وقت لاکھوں، کروڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں، اکثر فلموں میں بھی ہولناک وبائی امراض کے مناظر دیکھتے تھے اور سمجھتے تھے ایسا بھلا کیونکر ممکن ہے، ضرور یہ سب کچھ فکشن ہے مگر اپنی زندگی میں ہی وباء کے مناظر اپنی آنکھوں سے کووڈ 19یا کورونا کی صورت میں دیکھ لئے ،آخری اطلاعات آنے تک دنیا میں اس سال اب تک ستر لاکھ، بہتر ہزار سے زیادہ انسان ہلاک ہو چکے ہیں، سب سے زیادہ اموات امریکہ میں ہوئی ہیں اس کے بعد یورپ اور انڈیا کا دوسرا اور تیسرا نمبر ہے، خود ہمارے کئی جاننے والے دوست احباب اس کا شکار بنے، میں یہاں ہیوسٹن میں بھی اور پاکستان میں بھی آخری افسوسناک خبر کراچی سے آئی ہے کہ ہیوسٹن کے رہائشی اور اردو ٹائمز سے ماضی میں وابستہ مرتضیٰ درانی کا کراچی میں کورونا کے باعث انتقال ہو گیا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اس سے قبل ہیوسٹن میں ہی دوستوں پرویز اقبال اور محسن جانگڑا بھی اس وباء کا شکار ہو چکے ہیں، غرض ہر فرد کا کوئی نہ کوئی جاننے والا یا رشتہ دار اس وباء کا شکار ہو چکا ہے، انسانیت نے جتنے دکھ اس سال جھیلے ہیں اور دنیا کو جتنی بڑی تعداد میں اس سال اموات کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انسان اپنی تمام تر مادی ترقی کے باوجود قدرت کے سامنے کس قدر بے بس ہے، حیرت کا مقام یہ ہے کہ سب سے زیادہ اموات اس ملک میں ہورہی ہیں جو دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور ہیلتھ سسٹم کے لحاظ سے صف اول میں کھڑا دکھائی دیتا ہے مگر وہ بھی اس معاملے میں انتہائی بے بس نظر آتا ہے، ہمارا اشارہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی طرف ہے، خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان اس معاملے میں بہت خوش قسمت ملک رہا اور حکومت نے جس طرح سے اس وباء کے ساتھ نمٹا ہے اس نے بے شمار بیش بہاء جانوں کو بچایا ہے، وہ قابل تعریف ہے، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے بھی اس سلسلے میں پاکستان کی حکومت کی ستائش کی ہے وگرنہ گیارہ ڈاکوئوں کے اپوزیشن کے ٹولے نے تو پاکستانیوں کو اس وباء میں جھونکنے سے کوئی کسر نہ اٹھا رکھی تھی، یعنی ہم سیاسی دشمنی میں اس قدر آگے نکل جاتے ہیں کہ پاکستانی مفاد اور عوام کی صحت کو بھی دائو پر لگانے سے ہر گز گریز نہیں کرتے۔
اب جبکہ اس بیماری کی دوا یاویکسین تیار ہو چکی ہے تو امید ہو چلی ہے کہ انشاء اللہ 2021ء میں اس وباء پر قابو پا لیا جائے گا اور انسانیت 2020 کی نسبت نئے سال میں زیادہ محفوظ اور تندرست رہے گی، امریکہ میں اور ہیوسٹن میں تو ویکسین لوگوں کو لگانا شروع کر دی گئی ہے مگر یہ دوا پاکستان کب تک پہنچے گی وہ بھی ایک مسئلہ ہے، کہتے ہیں کہ
جرم ضعیفی کی سزا مرگ مفاجات
غریب ممالک کا نمبر بھی سب سے آخر میں آتا ہے، جب ویکسین آ جائے اور بیماری پھیلے تو سب سے پہلے نمبر آتا ہے، دعا ہے کہ نیا سال پرانے سال کی نسبت زیادہ خوشیاں اور تندرستیاں لے کر آئے اور دنیا میں پھر سے خوشیوں اور آسودگی کا دور واپس آجائے، اللہ آپ سب کو نئے سال کی خوشیاں نصیب کرے۔آمین