اپوزیشن کی فوج کے خلاف منظم مہم ! لگتا ہے دشمن کی فوج کے خلاف بولا جا رہا ہے

295

لاڑکانہ میں بے نظیر کی برسی میں مریم نواز نے شرکت کر کے اپنے والد کے ‘‘ نظریاتی ‘‘ ہونے کی مکمل نفی کر دی ہے اور پاکستانی عوام میں یہ تاثر اب یقین میں بدل گیا ہے کہ زرداری پارٹی اور نواز شریف پارٹی اپنے اپنے مفادات کے لئے مولانا فضل الرحمان کے مدرسے کے بچوں کو آگے لگا کر عمران حکومت کو ختم کروا کر اپنی حکومت بنانے کے ایک نکاتی ایجنڈے ہی پر کا م کر رہے ہیں
ایسا لگتا ہے کہ بے نظیر کی برسی پر زرداری نے ایک بار پھر ن لیگ کو استعمال کر کے مریم سے پھولوں کی چادر چڑھا کر اور دْعا میں شامل کرنے کے بعد واضع انداز میں پی پی پی کے اس اہم ترین فیصلے کو میڈیا میں لیک کر دیا ہے کہ ’’جب تک نواز شریف لندن سے واپس نہیں آئیں گے تب تک پی پی پی کے ممبران استعفے نہیں دیں گے ‘‘
مطلب زرداری نے ن لیگ کو ہری جھنڈی دکھا دی ہے اب مریم پی ڈی ایم کو بچائیگی ؟؟ یا مریم اپنے ابا کو بچائیگی ؟؟ اس کا مطلب تو یہی ہے کہ؎
نہ ڈھولا ہوسی
نہ رولا ہوسی!
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ ستمبر 2020 میں کورونا سے بچتے بچاتے قائم ہوئی۔ کراچی اور لاہور میں جلسے منعقد کیے۔ مگر اسلام آباد کے جلسے کی تاریخ سے قبل ہی اب دم توڑ رہا ہے۔ حالانکہ یہ تحریک حکومتی اقدامات کا بھی شکار نہیں ہوئی۔ 14 دسمبر کے لاہور میں ہونے والے جلسے پر اپنا تجزیہ لکھتے ہوئے اس بات کا خدشہ ظاہر کر دیا تھا کہ اگر پی ڈی ایم میں نظم و ضبط کا فقدان برقرار رہا تو اسلام آباد کے جلسے سے پہلے پی ڈی ایم ختم ہو سکتی ہے۔ یہ بات دراصل اس لیے لکھی گئی تھی کہ سبھی نے دیکھا تھا کہ لاہور میں ہونے والے جلسے میں بدنظمی واضح تھی۔ خیال رہے کہ پی ٹی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے لاہور کے جلسے سے اپنا اختتامی خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ آئندہ جلسہ اسلام آباد میں ہوگا۔ لیکن دسمبر کے سرد اختتامی دنوں میں ایسا کچھ ہوا کہ پی ڈی ایم کی بانی جماعت جمعیت علمائے اسلام ہی میں اختلافات پیدا ہو گئے، جس کے نتیجے میں مولانا فضل الرحمن نے 4 سینئر رہنماؤں کو پارٹی سے باہر نکال دیا۔ عام خیال ہے کہ جے یوآ ئی سے سینئر رہنماؤ ں کو برطرف کرنے کا فیصلہ انتہائی جذباتی اور غیر مناسب وقت پر کیا گیا۔ اس فیصلے سے جے یوآئی کی تنزلی کا سلسلہ شروع ہو ہی جائے گا مگر مولانا فضل الرحمن صاحب کی تشکیل کردہ پی ڈی ایم کو ناقابل ِ تلافی نقصان پہنچنے کا امکان صاف نظرآرہا ہے بلکہ ممکن ہے کہ پی ڈی ایم بغیر سرگرمی کے خاموشی سے تحلیل ہی ہو جائے۔ اگر ایسا ہوا تو سب سے بڑا سیاسی نقصان مولانا فضل الرحمن کو پہنچ سکتا ہے جب کہ اس سے وفاقی حکومت اور عمران خان کو غیر معمولی فائدہ پہنچنے کے امکانات ہیں۔ یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ جس تحریک سے ان کو سب سے زیادہ خطرہ تھا وہ خود ہی دم توڑنے لگی۔
وزیراعظم عمران خان نے چکوال میں یونیورسٹی کی تقریب خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپوزیشن فوج کو اقتدار میں آنے کی دعوت دے رہی ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا اپوزیشن فوج سے کہہ رہی ہے کہ حکومت گرا دو یاآرمی چیف کو ہٹا دو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ڈی ایم کے فعال ہونے سے عمران خان اور ان کی حکومت گھبرائی ہوئی نظرآرہی تھی لیکن جے یو آ ئی میں اختلافات کی وجہ سے یقینا اس گھبراہٹ میں کمی واقع ہوئی ہوگی۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں یہ بھی عندیہ دیا تھا کہ تھا کہ وہ جلد ہی قوم سے خطاب کریں گے جو اب جے یوآئی کی تازہ صورتحال کے بعد چند روز کے لیے موخر کیا جاسکتا ہے۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ اپنے قیام کے بعد ہی سے غیر مستحکم رہی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہو رہا تھا اس تحریک کی قیادت کون کرے گا۔ تحریک کی سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد بھی مولانا فضل الرحمن کی گرفت اس موومنٹ پر کمزور نظرآرہی تھی۔ بعدازاں موومنٹ میں شامل مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی میں احتجاجاً استعفا دینے کے فیصلے پر بھی اختلافات سامنے آنے لگے۔ گو کہ پی ڈی ایم ایک کمزور تحریک نظر آ رہی تھی اور اس کے جلد ختم ہوجانے کے امکانات بھی نمایاں ہورہے تھے، جواب واضح ہو چکے ہیں۔
اگرچہ پی ڈی ایم بغیر کوئی ’’تیر مارے‘‘ ختم ہوتی نظرآرہی ہے۔ اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ حکومت مضبوط ہے یا مستحکم ہے۔ یہ پاکستان تحریک انصاف نے ڈھائی سال کے مختصر عرصے میں قوم کو بہت زیادہ مایوس کیا۔ تبدیلی کی بازگشت میں صرف عمران خان کے اپنے بیانات تبدیل ہوتے رہے جبکہ وعدے ہوا ہوتے رہے۔ انتخابات کے دنوں میں جو وعدے عمران خان نے کیے تھے ان میں سے ایک بھی ڈھائی سال میں پورا نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے عوام حکومت سے مایوس ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان کو ہمیشہ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہونے کے بعد سے سب سے زیادہ فوج پر انگلیاں اٹھائی جا رہی ہیں یقینا یہ بات زیادہ دن تک برداشت نہیں کی جا سکتی فوج یا کوئی اور ادارہ بلا جواز اپنی طرف اٹھتی انگلیوں کو برداشت نہیں کر سکتا اور کرنا بھی نہیں چاہیے۔ فوج تو مسلسل ملک و قوم کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ اس کا سیاست سے ویسے بھی کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی وہ سیاست میں کسی قسم کا کرادر ادا کرنا چاہتی ہے اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو بھی فوج پر تنقید کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ حقیقت تو یہ بھی ہے کہ پاک فوج کو ملک اور قوم کے لیے بعض اوقات بحالت مجبوری کڑوے اور ناپسندیدہ فیصلے بھی کرنا پڑے ہیں اور پڑتے ہیں لیکن ان فیصلوں پر عمل
در آمد سے قبل ملک کی آ ئینی شخصیات سے مشورہ بھی کیا جاتا ہے جن کی حتمی رائے سے فیصلوں پر عمل
در آمد کیے جاتے ہیں۔ راقم پورے پورے یقین کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ہماری فوج ملک اور قوم کے لیے جو بھی فیصلے کیا کرتی ہے وہ مکمل دیانتداری اور ایمانداری سے صرف ملک اور قوم کے مفاد میں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری فوج کو اسلامی دنیا کی تمام افواج پر اہمیت اور فوقیت بھی حاصل ہے۔۔