ایک اور نیازی ہتھیار ڈال چکا

334

۲۲ سالہ جدوجہد کرنے والا مجاہد، لن ترانیوں کا ماہر، گسٹاپوازم اور نازی ازم کا پیروکار، جھوٹے وعدوں ،بہتانوں اور مفروضوں کا پیشہ ور، دھوکہ اور فریب دہی میں تجربہ کار عمران خان کو ریاست پاکستان پر ایسا مسلط کیا گیا کہ جس نے ملک کو تباہ و برباد کر دیا، پاکستان کی کرنسی افغانستان، نیپال، کانگو، صومالیہ سے بھی گر چکی ہے، ملک کا خزانہ خالی پڑا ہوا ہے، سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل ہو چکی ہے، ایکسپورٹ صفر ہو چکی ہے، تمام ترقی اور ترقیاتی منصوبے بند پڑے ہیں، عمران خان نے حسب روایت اپنے رشتے دار جنرل اے کے نیازی کی طرح ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ میرا حکومت کرنے کا تجربہ نہ تھا، مجھے پتہ نہیں ہے کہ حکومت کیسے چلائی جاتی ہے، ہر شے میرے قابو سے باہر ہو چکی ہے، میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہوں ،مجھے پتہ نہیں چلتا ہے کہ میں کیا کروں، جس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ دوسرے سیاستدان جنہوں نے ملک کو سیاسی، معاشی اور سماجی طور پر بچا رکھا تھا وہ ماں کے پیٹ سے حکومت کرنے کا گر سیکھ کر آئے تھے، موصوف 22سال کی جدوجہد کا واویلا مچا مچا کر لوگوں کو بے وقوف بنا رہا تھا کہ ان کے پا س دنیا کے 2سو مشہور ماہرین کہاں چھپ گئے ہیں، وہ ایک کروڑ نوکریاں، پچاس لاکھ گھر، ڈالر 60روپے، قیمتیں آدھی، قرضوں سے پاک ملک یا پھر قرضے لوں گا تو خودکشی کر لوں گا، پاکستان کا دنیا میں نام ہو گا، پاکستانی پاسپورٹ کو دنیا عزت دے گی، دنیا بھر سے لوگ پاکستان ملازمتوں کے لئے آئیں گے، پاکستان میں کوئی بھوکا ،ننگا نہیں سوئے گا وغیرہ وغیرہ، جو سب جھوٹ، فریب اور دھوکہ نکلا جس کو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا کہ وہ شخص جس کو ایک بددیانت اور خیانت دار جج ثاقب نثار نے صادق اور امین کا خطاب دیا جو ساری زندگی جھوٹ بول بول کر لوگوں کو بے وقوف بناتا رہا ہے تاہم عمران خان اپنے جھوٹے بیانوں اور دعوئوں اور وعدوں کا ماہر ہے جو قرآنی قسمیں اٹھا اٹھا کر کچھ بھی کہہ سکتا ہے جس کے تمام شواہد اور ثبوت میڈیا پر موجود ہیں جو نہ کل پاپولر سیاستدان تھے نہ آج ہیں، جن کی 1997ء کے انتخابات میں ضمانت ضبط ہو گئی تھی، 2002ء میں جنرل مشرف نے بڑی مشکل سے میانوالی ان کی اپنی آبائی نشست سے کامیاب کروایا، 2013ء میں پھر خفیہ طاقتوں نے دو درجن نشستیں دلوائیں تھیں، 25جولائی 2018ء کو رات کی تاریکیوں میں انتخابی ڈاکہ زنی سے جتوایا جس کا وہ اقرار جرم کر چکا ہے کے مجھے کچھ علم نہ تھا میں جیت چکا ہوں کیونکہ انتخابات سے چند روز پہلے مسلم لیگ (ن) پی ٹی آئی سے 20پوائنٹ آگے تھی جس کو ہروانے کے لئے رات پونے بارہ بجے الیکشن کمیشن میں اندھیرا چھا گیا، پولنگ ایجنٹس باہر نکال دئیے گئے، الیکشن کمیشن عملہ یرغمال بن کر کمپیوٹر بند کر کے نتائج کو روک کرایک ایسا نتیجہ نکالا جس کا عوام کو تصور تک نہ تھا، جس کا ڈاکو اور لٹیرا موجودہ جنرل ٹولہ ہے جو موجودہ پاکستان کی تباہی و بربادی کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے کہ جنہوں نے ایک ایسا نظام سقہ پاکستان پر بٹھا دیا ہے جس نے ملک کو دنیا بھر میں اکیلا کر دیا ہے کہ جس کی واپسی ناممکن ہو چکی ہے جس کے قومی اثاثے خطرے میں پڑ چکے ہیں چنانچہ ڈھائی سال کے بعد عمران خان نیازی نے اپنی خاندانی روایات پر اس طرح ہتھیار ڈال دئیے تھے جو عمران خان کی طرح لن ترانیوں اور بھڑکیں مارہا تھا کہ میرا بنگال پر قابو ہے اور بھارت شکست کھا چکا ہے جبکہ دو دن پہلے ہتھیار ڈال کر شراب نوشی میں مست تھا، جس کا اعتراف اس وقت کے فوجی ترجمان بریگیڈیئر صدیق سالک نے اپنی کتاب ’’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘‘ میں بیان کیا کہ ہم دو دن سے بھارتی فوج کے منتظر تھے کہ وہ آ کر ہمیں بنگالیوں کے غیض و غضب سے بچائے جو آئی اورانہوں نے پاکستانی فوجی کو بنگالیوں سے بچایا ورنہ پاکستان فوج کی بنگالی تکہ بوٹی کر ڈالتے جن کے لاکھوں لوگوں کا قتل عام ہوا تھا اور ہزاروں خواتین کی بے حرمتی اور عزتیں لٹ چکی تھیں، جس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ بھارتی فوج ڈھاکہ میں موجود ہی نہ تھی جس کو ڈھاکہ پہنچنے میں دو دن لگے تھے لہٰذا پاکستانی فوج کو بنگالیوں نے گھیر رکھا تھا جو اب ماضی کا قصہ بن چکا ہے جس سے ہماری اسٹیبلشمنٹ نے سبق نہ سیکھا کہ عوام کے ساتھ جنگ لڑنا مشکل ہوتا ہے مگر جس کے باوجود پاکستانی عوام خاص طور پر بلوچ عوام کئی دہائیوں سے جنگ مسلط کررکھی ہے جس کے نہایت برے نتائج برآمد ہورہے ہیں مگر حکمران طبقہ کہتا جارہا ہے کہ میں کیا کروں، بہرحال عمران خان نے مہنگائی، بیروزگاری ، بھوک ننگ میں نئی تاریخ مرتب کی ہے لوگ خودکشیوں کے ساتھ ساتھ اپنے بچے دریائوں اور نہروں میں پھینک رہے ہیں، اربوں اور کھربوں کے نئے قرضے لے لئے ہیں، ڈالر 160روپے، مہنگائی چار گنا بڑھ چکی ہے، لوگوں کو مکان دینے کی بجائے ان کی جھونپڑیاں، جھگیاں اور چھابڑیاں تک گرا کر جلا دی گئی ہیں، روزگار تو کجا لاکھوں لوگوں کو بیروزگار کردیا ہے کہ آج پی آئی اے، سٹیل ملز کے ملازمین ننگے آسمان کے نیچے سو رہے ہیں، ملک کو عراق، شام، افغانستان، لیبیا کی طرح خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے، ملک کا مکمل طور پر دیوالیہ ہو چکا ہے جو کسی بھی وقت سرکاری طور پر نادہندگان قرار دے کر بنک کرپٹ قرار دیا جا سکتا ہے، ایسے موقع پر فوری طور پر موجودہ ٹولے کو ہٹا کر ملکی سیاستدانوں اور ماہرین کی ضرورت ہے جو ملک کو درپیش بحرانوں سے باہر نکالے کہ کہیں 1971والی کوئی نئی ٹریجڈی برپا نہ ہو جائے۔