عوام کو جاگ جانے دو!پھرپیروں میں رسی،گلے میں پھندا کہیں نہیں گئے!!!

337

دانائوں کا قول ہے ’’نہ کیچڑ میں اینٹ پھینکو نہ چھینٹ کھائو‘‘ شیشوں کے گھروں میں رہنے والوں کو دوسروں پر پتھر نہیں مارنے چاہئیں۔ چاند پر اگر تھوکو گے تو واپس تمہارے منہ پر ہی آ کر گرے گا۔ پھولن دیوی کو رہ رہ کر مروڑ اٹھتے ہیں اور پاگل ہو جاتی ہے کہ کہیں لوٹا ہوا مال ہاتھ سے نہ نکل جائے خطرہ ہے تو عمران خان سے کہ یہ پیسہ واپس مانگ رہا ہے، این آر او بھی نہیں دے رہا، اس کو کسی طرح ہٹا دیا جائے تو راستہ صاف ہو جائے گا، پھر میرے وارے نیارے ہوں گے، پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں ہو گا، لیکن بی مانو تمہیں خواب میں چھیچڑے ہی نظر آئیں گے، کیونکہ جو بھی حکومت آئے گی عدالتوں میں مندرج کیسوں پر تو اسے دھیان دینا ہی پڑے گا اور اگر عوام کا ضمیر بھی پوری طرح جاگ گیا تو پیروں میں رسی، گلے میں پھندا تو پڑے گا۔
چیئرمین نیب کے بارے میں بھی بڑی عجیب عجیب افواہیں سننے، دیکھنے اور پڑھنے میں آرہی ہیں، حیرت تو ہوتی ہے کہ واجد ضیاء کہاں کہاں سے ثبوت تلاش کر کے فائلوں کا پیٹ بھرتا جارہا ہے اور وہ فائل ہی میں بند ہیں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوتا، کسی بھی جرم کا پردہ بڑے زور و شور سے اٹھایا جاتا ہے، عوام پورے جوش و خروش سے نتائج کا یا سزائوں کااعلان سننے کے لئے بے چین ہوتے ہیں لیکن پھر نیب کے ہونٹوں پر ٹیپ لگ جاتی ہے، عدالتیں خاموش ہو جاتی ہیں، ان کا ایک ہی عذر ہوتا ہے کہ نیب اتنا ڈھیلا ڈھالا کیس بنا کر بھیجتی ہے کہ کوئی کارروائی ممکن ہی نہیں ہوتی لہٰذا مجرمان کو ضمانتیں دینی پڑتی ہیں، پروڈکشن آرڈر مل جاتے ہیں، کوئی تو بتائے کہ وہ کون سا ادارہ ہے جہاں سے سنگین جرائم کے مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا؟ ماڈل ٹائون کے لواحقین کو انصاف کب ملے گا؟ ساہیوال کے یتیم بچوں کو سایہ کون دے گا، نقیب اللہ محسود کے قاتل رائو انوار کو کب انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا؟ اپوزیشن کو تو صرف موجودہ حکومت میں کیڑے نکالنے کے سوا کوئی کام نہیں رہا، ان کا کوئی ایجنڈا نہیں، PDMمیں پھوٹ پڑ گئی، بڑے کروفر سے وہ روسیاہ مولانا اپنی عاقبت کی مٹی پلید کرنے نکل کھڑا ہوا تھا، اسلام میں اپنی زمین سے غداری کرنے والا، اپنی زمین میں فساد پھیلانے والا واجب القتل ہے، ان کواپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا دوسروں کی آنکھ کا تنکا تک نظر آجاتا ہے، نواز نوسرباز کی بیٹی ذرا اپنے گریباں میں تو جھانک کر دیکھے کہ باپ کا دادا کہاں پھول بیچتا تھا اور کیا کہلاتا تھا اور وہ زرداری کا باپ حکم علی زرداری جو ساحلی علاقوں میں ڈاکے ڈالا کرتا تھا، قائداعظم کے بارے میں کس قسم کے الفاظ استعمال کرتا تھا، اگر وہ ویڈیو محب وطن پاکستان دیکھ لیں تو حاکم کی قبر سے ہڈیاں بھی نکال کر دریائے سندھ میں بہا دیں، یہ نمک حرام لوگ جو پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تھے، ان کی جاہل اولادیں جہاں لوٹ مار کر کے عیش کررہی ہیں، بھٹو خاندان نے مقبرہ بنا لیا ہے جہاں لوگ آ کر نیاز نذر دیتے ہیں منتیں مانگتے ہیں، اس مقبرے کی تعمیر میں بھی عوام کا پیسہ لگا ہے، عوام کا حافظہ کیوں اتنا کمزور ہے، ماضی قریب کی باتیں بھی یاد نہیں رہتیں، جب یہ چور ڈاکو اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لئے بغاوت کا نقارہ بجاتے ہیں یہ ناعاقبت لوگ ان کے پیچھے ہو لیتے ہیں، انہیں اتنا شعور نہیں کہ یہ جس ڈال پر بیٹھے ہیں اسی کو کاٹ رہے ہیں، ان کم عقلوں کو اتنا بھی احساس نہیں کہ ان کا آشیانہ اجاڑا گیا تو یہ کہاں جائیں گے، یہ چور ڈاکو تو لوٹی ہوئی دولت کے سہارے کہیں بھی پناہ لے لیں گے ، تمہاری آزادی سلب ہو جائے گی اور جس غلامی سے قائداعظم نے اپنی زندگی کو دائو پر لگایا کر تمہیں آزادی دلائی تھی تم اسی کا سودا کررہے ہو، تم نے محب وطن لوگوں کا ساتھ نہ دیا، غداروں سے مل گئے، اب بھی وقت ہے ہوش میں آجائو، دنیا میں وقار سے جینا سیکھو تماشا مت بنو، جیسے یہ فضلو ڈگڈگی بجارہا ہے اور اس کے حواری ناچ رہے ہیں، بھارت مزے لوٹ رہا ہے، یہ غدار انسان پیسے لے کر پاکستان میں افراتفری پھیلارہا ہے، دشمنوں کو خوش کررہا ہے، ادھر سعودی عرب دبائو ڈال رہا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کر لو، غریب لاوارث فلسطینیوں کا خون معاف کردو، ان کے بچے بھوک، پیاس، دوا، علاج سے محروم مرتے ہیں تو مرنے دو، کشمیری نوجوانوں کے جنازے اٹھتے دیکھتے رہو، مائوں، بہنوں کی عصمت دری ہونے دو، خاموش رہو، صرف اپنا مفاد دیکھو، ذرا سوچو یہ کتنی ناپائیدار سوچ ہے اپنے ہاتھوں سے اپنے گلے میں پھندا ڈالنا، ہاتھوں کو ہتھکڑیوں میں جکڑنا کہاں کی عقل مندی، اپنے تھوڑے سے فائدے کے لئے شہیدوں کے خون کا سودا مت کرو، تاریخ سے سبق سیکھو کہ ایسی قوموں کا کیا حشر ہوا، انہیں لوگوں کے لئے شاعر نے کہا ہے۔
یہ لوگ پائوں کے نہیں ذہن کے اپاہج ہیں
ادھر چلیں گے جدھر رہنما چلاتا ہے
یہ لوگ کیا ہیں جو دو چار خواہشوں کے لئے
تمام عمر کا کردار بیچ دیتے ہیں
عوام سوچ لیں
بدترہے موت سے بھی غلامی کی زندگی
مرجائیو مگر یہ گوارہ نہ کیجئیو!!!
(حفیظ میرٹھی)
لاہور پولیس کو عمر شیخ کی صورت میں ایک دبنگ، نڈر پولیس چیف مل گیا ہے، اس نے محکمے سے کالی بھیڑوں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، جو ملازمین سیاست دانوں کی جوتیاں سیدھی کیا کرتے تھے ان کا بھی قبلہ درست کر دیا گیا ہے، رشوت کا بازار بھی بڑی حد تک ٹھنڈا پڑ گیا ہے، مدتوں سے ایک ہی حلقے میں تعینات لوگوں کے تبادلے کر دئیے گئے ہیں، نوٹس لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا جب تک مجرمان کو قرار واقعی سزائیں نہیں دی جائیں گی، جرائم کو ختم کرنے کے لئے مجرمان کو کنارے لگانا پڑے گا، پولیس میں بھی ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے پاس آمدن سے زیادہ اثاثے، قیمتی گاڑیاں، وسیع کوٹھیاں اور دوسری جائیدادیں ہیں، ان پر بھی قبضہ کر کے قرقی کی جائے اور پیسہ قومی خزانے میں جمع کیا جائے، غریبوں کا مال غریبوں کی بہتری میں کام آئے ’’حق بہ حق دارد رسید‘‘ حمزہ کو پروڈکشن آرڈر مل گئے ہیں تو حضور دست بستہ عرض ہے جب تک ان کرپشن کے شہنشاہوں کو لٹکایا نہیں جائے گا کرپشن کا کاروبار چلتا رہے گا، کسی تبدیلی کی آرزو عبث ہے، یہ ڈھیلی ڈھالی حکومت کیا تبدیلی لائے گی، عوام کی امیدیں خاک میں ملتی نظر آرہی ہیں۔