نسلی امتیاز کے خلاف ویسٹ انڈین کرکٹرز بھی میدان میں

264

امریکہ میں سیاہ فام شخص کی پولیس تحویل میں ہلاکت اور ملک بھر میں ہنگاموں کے بعد کرکٹ کے حلقوں میں بھی نسلی امتیاز کے خلاف باز گشت سنائی دے رہی ہے۔

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان ڈیرن سیمی نے کہا ہے کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل اور تمام کرکٹ بورڈز مجھ جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کو نہیں دیکھ رہے۔ کیا وہ مجھ جیسے لوگوں کے ساتھ ہونے والی معاشرتی نا انصافی پر نہیں بولیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یہ صرف امریکہ میں ہی نہیں ہو رہا بلکہ یہ سیاہ فام افراد کے ساتھ روزانہ ہوتا ہے۔

سیمی نے مزید کہا کہ اب یہ وقت خاموش رہنے کا نہیں ہے۔ اس بار میں آپ کی طرف سے کچھ سننا چاہتا ہوں۔

یاد رہے کہ امریکہ میں 46 سالہ سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ پولیس کی تحویل میں تھا اور ایک اہلکار نے اس کی گردن پر اپنا گھٹنا رکھا تھا جو بعد ازاں دم توڑ گیا تھا۔

سیمی نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ اگر کرکٹ سے تعلق رکھنے والے افراد رنگت کی بنیاد پر ہونے والی ناانصافی کے خلاف کھڑے نہیں ہوں گے تو آپ بھی مسائل کا حصہ تصور کیے جائیں گے۔

انگلینڈ کے کرکٹ بورڈ نے اپنے آفیشل اکاؤنٹ سے ایک تصویر شیئر کی ہے جس میں انگلش وکٹ کیپر جوز بٹلر کو سیاہ فام فاسٹ بالر جوفرا آرچر کو گلے لگتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

اس تصویر پر انگلش کرکٹ بورڈ نے لکھا کہ ہم نسلی امتیاز کے خلاف کھڑے ہیں۔