ماحول

300

جب یونان میں فلسفہ پھل پھول رہا تھا اس وقت فنونِ لطیفہ بھی اپنا جادو جگارہے تھے، شاعری ہورہی تھی، نقاشی کا دور دورہ تھا اور موسیقی بھی ترقی کررہی تھی، ایسا معاشرہ جس میں فنونِ لطیفہ پھول پھل رہے ہوں وہ ایک اعتدال پسند معاشرہ کہلاتا ہے، سوچنے کی آزادی ہوتی ہے اور معاشرے میں برداشت ہوتی ہے، تنقید کو قبول کر لیا جاتا ہے بلکہ تنقید کو خوش دلی سے قبول کیا جاتا ہے کیونکہ تخلیق کار جانتا ہے کہ تنقید اس کے فن میں نکھار لائے گی، اس سے لوگوں میں فن کی پرکھ کا شعور بھی پیدا ہوتا ہے، یہی معاشرے کی خوب صورتی ہے، فلسفہ کی بنیاد ہی سوال و جواب پر ہوتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فلسفہ Interrogativeہے، سوال کرنے کا حوصلہ دیتا ہے اور سوال کرنا بھی سکھاتا ہے، پاکستان میں جب تک فنون لطیفہ کا چرچا رہا پاکستان میں اچھی شاعری، خطاطی، مصوری، مجسمہ سازی ہوتی رہی اور اچھا ادب لکھا جاتا رہا اس دوران پاکستان نے بہت اچھے کھلاڑی بھی پیدا کئے، اس دوران پاکستان میں برداشت کا کلچر تھا تنقید لکھی جاتی تھی، تنقید کی جاتی تھی اور سوچ کا سفر جاری تھا، بھٹو اپنی سیاست میں شدت کے موجد تھے، یہ بھٹو ہی تھے جو کہا کرتے تھے کہ آئے تو فلاں فلاں کو Fixکردیں گے، یہ بھٹو تھے جنہوں نے سیاست میں عدم برداشت کو روشناس کرایا، انہوں نے اسمبلی کے اجلاس میں مشرقی پاکستان جانے والے سیاست دانوں کو یہ کہہ کر روک دیا کہ ’’اگر کوئی مشرقی پاکستان گیا تو اس کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی‘‘ سیاست میں یہ شدت پہلی بار دیکھی گئی، اس کے باوجود اس دور میں مزاحمتی ادب لکھا جاتا رہا، جس کے سرخیل حبیب جالب اور انعام درانی تھے، مگر ضیاء الحق کے دور میں سیاست میں انتہا پسندی کا آغاز ہو چکا تھا، نام نہاد افغان جہاد نے اس کی بنیاد رکھی اور پھر سپاہِ صحابہ اور سپاہِ محمد کے درمیان جنگ کی سی کیفیت پیدا ہو گئی تھی، امام بارگاہوں، مسجدوں میں بم دھماکے اور وہ قتل و غارت گری کہ الااماں الحفیظ، خون بہتا رہا اور معاشرے میں عدم برداشت بڑھتی رہی پھر سرکاری دفاتر میں حکومت کے حکم پر جبراً نماز پڑھائی جانے لگی، مذہب کے نام پر انتہا پرستی دہشت گردی میں تبدیل ہو گئی، مذہب چونکہ AUTHORATATIVEہوتا ہے سو افغانستان میں گوتم بدھ کے نادر مجسمے گرائے جانے لگے، انسانوں کو ذبح کیا جانے لگا اور رفتہ رفتہ اس روش نے معاشرے پر قدغن لگا دی کہ سوچنا بند کر دیا جائے اور علماء کے احکامات کو مذہب کے احکامات سمجھ کر مانا جائے۔
ہر کتاب کا ایک پیغام ہوتا ہے، قرآن کا بھی ایک پیغام ہے اور وہ پیغام صرف یہ ہے کہ ایک پرامن معاشرہ جس میں ہر ایک ذی نفس کو جینے کا حق ہو مگر یہ پیغام مسلمانوں سے چھپا لیاگیا، یہ بتایا گیا کہ مسلم ملک میں صرف مسلمانوں کو جینے کا حق ہے ان اصولوں کے مطابق جو دینی رہنما وضع کر دیں، گویا معاشرہ مکمل طور پر فسطائیت کی آغوش میں چلا گیا، ان نام نہاد دینی رہنمائوں نے جب چاہا موسیقی کو حرام قرار دیا اور جب چاہا اس کی کسی شکل کوجائز قرار دے دیا، یہی حال تصویر بنانے کا بھی ہے، شراب پر پابندی کا کوئی صریحاً حکم کتاب میں موجود نہیں ہے مگر شراب حرام ٹھہری، ڈھب یہ بنا کہ جو ان دینی رہنمائوں کے منہ سے نکلا وہ حکم ایزدی ہی ٹھہرا، ایک نئی وضع بنا لی گئی کہ عرب کلچر کو اپنا لیا جائے تو آپ مسلمان دیلھیں گے چاہے آپ کے اعمال کچھ ہی ہوں، پچھلے چالیس سالوں میں معاشرے سے فنون لطیفہ کا خاتمہ ہو گیا، فلم، تھیٹر، مصوری، شاعری پر زوال آیا ہر تخلیق کو حلال اور حرام کے پیمانے پر جانچا جانے لگا، سوچ پر پابندی یوں لگی کہ نئی فکر کو بھی ویزے کی ضرورت پڑ گئی اسلام آباد میں راہ چلتے ایک شخص کے ہاتھوں سے Timesکا شمارہ چھین لیا گیا اور کہا گیا کہ یہ پڑھنے کی چیز نہیں، یہ کفر ہے، اس ماحول کو بنانے میں تین چیزوں کااہم کردار رہا، ایک یہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور اس کا اقتدارِ اعلیٰ اللہ کے پاس ہے، بھٹو نے اس ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان رکھ کر اورآئین میں یہ شق درج کروا کے ظلم کیا کہ اس ملک میں کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بن سکتا ملک کے باسیوں کی قسمت مولویوں کے حوالے کردی، گویا مکمل عمل داری دینی جماعتوں کے ہاتھوں میں چلی گئی بعد میں آنے والے واقعات کو سامنے رکھ کر میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ بھٹو نے یہ اشارہ دیا تھا کہ آئندہ اس ملک کو مذہب ہی چلائے گا اور ان کے جیتے جی اگر افغان مسئلہ سراٹھاتا تو وہ عالمی دبائو میں وہی فیصلے کرتے جو ضیاء الحق نے کئے بس اتنا ہوتا کہ وہ شاید اس کی زیادہ قیمت مانگتے، دوسرا فیکٹرپاکستان کا معاشی طور پر خودکفیل نہ ہونا اور بیرونی امداد کا دستِ نگرہونا ہے جس سے بیرونی مداخلت کی راہیں کھلیں اور تیسرا اہم فیکٹر اس پورے پلان کو Executeکرنے کے لئے فوج کو استعمال کیا گیا، عالمی طاقتیں جس انداز میں تیسری دنیا کے ممالک میں دخل اندازی کرتی ہیں میں قیاس کر سکتا ہوں کہ پاکستان کے بارے میں یہ فیصلہ بہت پہلے کر لیا ہو گا، یہ کبھی نہ ہوتا اگر ابتدا میں ہی ملک کی قیادت ان ہاتھوں میں ہوتی جن کوجدید سیاسی شعور ہوتا، سائنس کی اہمیت کا احساس ہوتا اور معاشیات سے آگاہی ہوتی۔
شیلے نے کہا تھا کہ شاعر دنیا کے UNANNOUNCED LEGISLATORSہوتے ہیں، شاید یہ بات دیگر تخلیق نگاروں کو پسند نہ آئے مگر یہ سچ ہے کہ شاعری دیگر اصناف کو خوراک مہیا کرتی ہے، نئی سوچ شاعری سے ہی آتی ہے، شاعر کے خیال میں ایک حسین دنیا آباد ہوتی ہے جہاں ہر ذی نفس جی سکتا ہے، پاکستان میں نئی سوچ کو پنپنے سے روک دیا گیا، میں نے اردو کے کئی بزرگ اساتذہ سے سوال کیا کہ انہوں نے طلباء کو جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے بارے میں کیا پڑھایا ، میں نے فیس بک پر بھی سوال رکھا کہ اگر جدیدیت کو Defineکیا جائے تو کیا کفر کے فتوے لگ سکتے ہیں، افسوس کہ اس ملک سے مذہبی انتہا پسندی کی وجہ سے عملی بحث بھی نہیں کی جا سکتی، ادبی تھیوریز پر شائد جامعات میں چند لوگ بند کمروں میں بیٹھ کر بحث کر لیتے ہوں مگر ابلاغ عامہ میں یہ بحث نہیں کی جاسکتی، پاکستان میں سارے فنون لطیفہ کو سرعام قتل کر دیا گیا، اس سے نئی سوچ بھی مر گئی، جنید جمشید جو پاکستان میں نئی موسیقی بنانے کے خواب لے کر گیا تھا، اس کو اپنا خواب خود توڑنا پڑا اور اس نے پیسہ کمانے کے لئے نعت خوانی کا پیشہ بنایا، ذہین آدمی تھا سمجھ گیا کہ اس ملک میں موسیقی کا کوئی مستقبل نہیں سو نعت خوانی کی اور خوب پیسہ بنایا، شاید اتنا دھن موسیقی سے نہ برستا جتنا نعت خوانی سے برسا، دنیا میں وہ معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں تازہ فکر جوان رہتی ہے جہاں انسانی اقدار کا چلن ہوتا ہے، سائنس سے مدد لی جاتی ہے اور شخصی آزادی پر قدغن نہیں ہوتی، یہ سب ماحول فنون لطیفہ ہی بناتے ہیں، جہاں فنون لطیفہ مر جاتے ہیں وہاں ترقی بھی مر جاتی ہے۔