کیا قوم شعبدہ بازوں کی اسیر ہے؟

250

شعبدہ بازوں کے اسیر تو ہوتے ہیں، بالکل ہوتے ہیں۔ یہ نہ ہوتا تو ان حیلہ سازوں اور مکاروں کا کام کیسے چلتا جن کو نذرانہ دینے کیلئے سادہ لوح کیا کیا نہیں کرتے اور اس کے ساتھ یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ ان کے چمتکار سے ہر مشکل آسان ہوجائیگی اور پھر اس کے بعد ہر روز روزِ عید اور ہر شب شبِ برات ہوگی!
لیکن یہ بھی اکثر ہوتا ہے کہ شعبدہ گر اپنے ہی بچھائے ہوئے جال میں پھنس جاتا ہے۔ ایسی صورت میں اٹھائی گیرے تو اس ٹھکانے سے راہِ فرار اختیار کرتے ہیں اور کسی نئی جگہ پہ اپنا ٹھیلا جماتے ہیں اور نئے سرے سے اپنا جال بچھانا شروع کرتے ہیں۔ لیکن پاکستانی سیاست کے وہ شعبدہ گر جن کو سیاست وراثت میں ملی ہو اس قباحت سے بھی آزاد رہتے ہیں!
پاکستان کی موروثی سیاست کے بازار میں فی زمانہ سب سے زیادہ جس کیلئے گرمیٔ بازار ہے وہ مفرور مجرم اور سابقہ وزیرِ اعظم نواز شریف کی دخترِ نیک اختر مریم نواز ہیں جن کے بارے میں اندر کی بات یہ کہتی ہے کہ وہ نہ جانے کتنے پیروں فقیروں کی چوکھٹوں پر ماتھا ٹیک چکی ہیں، اور ٹیکتی رہتی ہیں، نذر نیاز بھی بہت کرتی ہیں اور اس تمامتر تگ و دو اور محنت سے ان کا ایک ہی مدعا ہے اور وہ یہ کہ وہ کسی طرح پاکستان کی دوسری بینظیر بھٹو بن جائیں اور، ہاں، بینظیر بننے کے بعد ان کا وہ انجامِ حسرتناک نہ ہو جو بی بی کا ہوا!
لیکن مریم کے ستارے لگتا ہے کہ ان دنوں زیادہ ہی گردش میں ہیں۔ گذشتہ ایک ہفتے میں ان کے پھینکے ہوئے دو پانسے الٹ گئے اور ان کے حق میں غلط پڑگئے!
پہلا حادثہ تو ان کے ساتھ یہ ہوا کہ لاہور کا بڑے ٹھسے اور اہتمام سے سجایا گیا عوامی جلسہ پھس ہوگیا اور بقول شخصے پانی میں بتاشے کی طرح بیٹھ گیا۔ لاہور مریم کی جنم بھومی ہے اور سیاسی تبصرہ نگار ایک عرصے سے یہ کہتے آرہے ہیں کہ لاہور تو شریف خاندان، یا خاندانِ لوہاراں، کا تخت ہے اور ان کی جو پذیرائی اس شہر میں ہے وہ پورے پاکستان میں کہیں اور ایسی نہیں ہے۔ لیکن پچھلے ہفتے کا جلسہ الٹ گیا۔ مریم اور ان کے حواریوں، جن میں وہ مفسدِ اعظم ملا فضل ان کے پیشوا کا کردار ادا کرہا ہے، کا خیال یہ تھا کہ لاہور تو ان کا اپنا شہر ہے تو وہاں مداریوں اور شعبدہ گروں کی یہ منڈلی ایسا کامیاب جلسہ کریگی کہ دور اسلام آباد تک جس کی بازگشت سنائی دیگی اور عمران حکومت کی چولیں ہل جائینگی لیکن جلسہ تو ہوا ہی نہیں۔ ٹی وی کے کیمروں نے مداریوں کی لٹیا سرِ بازار ڈبودی۔ دیکھنے میں یہ منظر آیا کہ کرسیاں خالی پڑی ہوئی تھیں اور کرائے کے سامعین بھی جلسہ گاہ سے دور خال خال اپنی ٹکڑیاں جما رہے تھے!
خود مداریوں اور شعبدہ بازوں کی خفت کا یہ عالم تھا کہ بہت سے تو جلسہ کے پنڈال سے غائب پائے گئے۔ ان کو تو منہ چھپانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی پنڈال میں کس منہ سے آتے؟ مختصر یہ کہ مداریوں کے پرانے آزمائے ہوئے حربے اس بار ان کے گلے پڑگئے اور مریم نواز کی یہ شیخی کہ لاہور کا جلسہ عمران حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی ان کیلئے بھاری پڑگئی!
اس ناکامی کا ایک نتیجہ تو یہ نکلا کہ اس سے پہلے تو شعبدہ باز ٹولہ عمران حکومت کے خاتمہ کیلئے سال کے آخری دن کی بات کررہاتھا لیکن اس کے بعد یہ مدٌت بڑھ کر اگلے برس جنوری کے اختتام تک ہوگئی۔ اور اب جلسوں کا سکہ بھی کھوٹا مڑگیا ہے تو پاکستانی منتظر ہیں کہ ملا فضل کی پوٹلی سے اب کونسا شعبدہ نکلتا ہے!
لیکن مریم کے بعد اس ہزیمت کے بعد جو دوسرا حادثہ ہوا وہ دلچسپ اور سبق آموز تھا اگرچہ یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ اس سے سبق بھی لیں۔ ہمارے موروثی سیاسی شعبدہ گروں کا ایمان یہ ہے کہ جب تک ان کے خاندان کے نام کا سکہ چل رہا ہے انہیں کوئی اپنا کاروبارِ منافقت جاری رکھنے سے باز نہیں رکھ سکتا۔ خیر، یہ تو دیکھا جائے گا کہ پاکستان کے بازارِ سیاست میں یہ کھوٹے سکے کب تک چلتے ہیں اور مریم بی بی اپنے ساتھ ہونے والی دوسری ہزیمت سے بھی کچھ سیکھتی ہیں یا نہیں لیکن ہوا یہ کہ اپنے زعم میں انہوں نے جو کیا وہ ان کیلئے باعثِ رسوائی بن گیا!
ہوا یوں کہ لاہور کے جلسہ کی ناکامی کے بعد شرمندگی چھپانے اور آنسو پونچھنے کیلئے مداریوں کی ٹولی نے ایک اور شرارت کی۔ شیطانی دماغ شرارت ہی کرسکتا ہے اس سے کسی تعمیری کام کی توقع رکھنا تو بیکار ہوتا ہے سو پاکستانی نیوز میڈیا کے ایک حلقے نے، جو ان مداریوں کے ٹکڑوں سے اپنا پیٹ بھرتا ہے، جلسہ کی خفت مٹانے کو یہ افواہ پھیلادی کہ عمران کی کابینہ کے ایک رکن نے برطانیہ کے راستے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا ہے تاکہ پاکستان اور اسرائیل کے تعلقات کی نہج ڈالی جاسکے۔ اس افواہ کو تقویت ملنے کے کام میں سہولت یوں ہوئی کہ سب جانتے ہیں کہ پاکستان پر آجکل اس کے عرب اخوان کی طرف سے کتنا دباؤہے کہ ان کی دیکھا دیکھی وہ بھی صیہونی اسرائیلی ریاست کو تسلیم کرلے اور عمران حکومت ہے کہ ان کے سامنے ہتھیار نہیں ڈال رہی کیونکہ پاکستانیوں کے ضمیر اب تک زندہ ہیں اور وہ ایسی سفاک ریاست کو جائز ہونے کی سند نہیں دے سکتی جس نے مظلوم فلسطینیوں کی زندگی عذاب کی ہوئی ہے۔
لیکن مریم، عمران کے خلاف ہرزہ سرائی کے اس موقع کو کہاں جانے دے سکتی تھیں لہٰذا انہوں نے عمران کے خلاف اسرائیل نوازی کا الزام لگانے میں پل بھر کی دیر نہیں کی اور جلے کٹے جملوں سے، جیسے کی ان کا وطیرہ ہے، بھرا ایک ٹوئیٹ داغ دیا اپنے ہی جیسے ایک اور ہارے ہوئے جواری ٹرمپ کی سنت کو پاکستان میں زندہ رکھنے کیلئے۔
لیکن مریم کی ٹوئیٹ کے ساتھ ہی یہ ہوا کہ اسرائیل کی ایک نیوز چینل نے اپنے ایک تھنک ٹینک کے سربراہ کی طرف سے ایک پیغام الم نشرح کردیا۔ اس اسرائیلی تھنک ٹینک کا یہ کہنا ہے کہ وہ دنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف محاز بنانا چاہتا ہے۔ تو اس کے سربراہ، جن کا نام نور دہری ہے، کا پیغام یہ تھا کہ مریم بی بی کے بابا نواز شریف نے اپنے دورِ اقتدار میں اسرائیل سے راہ ہموار کرنے کی نیت سے دو مختلف مواقع پر اپنے پیغامبر خفیہ دوروں پر اسرائیل بھجوائے تھے!
یہ خبر وائرل ہونے میں دیر نہیں لگی اور اس کے الم نشرح ہونے کے ساتھ ہی مریم کے پیروں کے نیچے سے زمین سرک گئی اور عمران کے خلاف ان کی ہرزہ سرائی کے غبارے سے تمام ہوا بھی نکل گئی۔ وہ تو سمجھ رہی تھیں کہ عمران کی مبینہ حرکت کے خلاف ان کی ٹوئیٹ ہلچل مچادیگی لیکن وہاں تو الٹی آنتیں گلے پڑگئیں۔ تو مریم بی بی اور کیا کرتیں شرمندگی میں انہوں نے اپنی ٹوئیٹ حذف کردی لیکن اس وقت تک، بقول شخصے، ان کی ہوا بگڑ چکی تھی اور ان کے بابا کی اسرائیل نوازی کا بھانڈا بھی پھوٹ چکا تھا۔
نواز کی طرف سے اسرائیل کو ٹٹولنے کا جو سلسلہ شروع کیا گیا تھا وہ اصل میں ان کے جگری یار نریندر مودی کی شہ پر تھا کیونکہ میاں صاحب تو مودی کے ہاتھ پر بیعت کرنے والوں میں سے تھے اور بیعت کرنے کی مجبوری یہ تھی کہ مودی کے حمایتی بھارتی تاجروں اور صنعتکاروں کے ساتھ وہ اور ان کے صاحبزادگان تجارتی رشتوں میں بندھے ہوئے تھے۔ یہ حقیقت میاں صاحب کے حق میں نعرے لگانے والوں پر جانے آشکار ہے یا نہیں کہ ان کے اور ان کے خاندان کیلئے سیاست محض ایک ذریعہ اور وسیلہ ہے ان کے تجارتی اور مالی مفادات کے فروغ کا۔ بزنس اولین ترجیح ہے سیاست بعد میں آتی ہے اور جب تجارتی مفاد غالب ہو تو یہ کون سوچتا ہے کہ پاکستان کا مفاد بھی اس سے وابستہ ہے یا نہیں۔ اپنا حلوہ مانڈہ پہلے ملک بہت بعد میں آتا ہے!
لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مریم یا ان کے باوا جان کی یہ دو رخی، یہ دوغلا پن دیکھنے کے بعد اور ان کے چہروں سے نقاب اتر جانے کے بعد کیا ان کے حق میں نعرے لگانے والے اپنے اس فعل سے تائب ہوجائینگے؟
تو ہم سے اگر آپ اس کا جواب پوچھیں تو ہم بلا تکلف یہ کہیں گے کہ یہ آس لگانا عبث ہوگا کہ ان کے مداح اپنی روش بدل لینگے اگرچہ لاہور کے پھسپھسے جلسے کے بعد کچھ امید پیدا ہوئی ہے کہ لاہور والوں کو عقل آنی شروع ہوگئی ہے لیکن اس عمل کی تکمیل میں کتنا عرصہ لگتا ہے اس کے متعلق کچھ کہنا مشکل ہوگا۔ مریم اور ان کے حلقہ بگوش یہ چاہیںگے کہ بیداری کا یہ عمل سست سے سست تر ہو کہ ان کی چاندی اور چودہراہٹ اسی سے وابستہ ہے اور ان کا تختِ لاہور اسی دم تک شاید محفوظ بھی ہے!
مسئلہ اصل میں وہی پرانا ہے ہمارا جاگیردارانہ نظام اور اس کی پیداوار وہ جاہلانہ فکر، وہ دقیانوسی سوچ جو جاگیردار یا چودہری کو خدا کا اوتار سمجھتی ہے اور اسی بیمار ذہن سے جس نے اس فکر کو جنم دیا ہے اس کی پرستش بھی کرتی ہے۔ یہ نہ ہوتا تو بھٹو آج تک زندہ نہ ہوتا۔
لعنت ہے ایسی بیمار اور افلاس زدہ سوچ پر جو پاکستان کو دو لخت کرنے والے کھلے دشمنِ پاکستان کو مسیحا گردانتی ہے اور اس کی قبر پر جاہل معتقدین نذرانے چڑھاتے ہیں اور منتیں مانتے ہیں۔ یہ اگر مسلمانی ہے تو بقولِ اقبال اور کافری کیا ہے؟
یہ نہ ہوتا تو زرداری جیسے چور اور ڈاکو کے لئے زندہ باد کے نعرے نہ لگتے۔ یہ نہ ہوتا تو زرداری کی جواں سال بیٹی آصفہ جسے سیاست کی ابجد بھی نہیں آتی بھان متی کے اس کنبے میں زرداری اور بلاول کی نمائندگی نہ کررہی ہوتی اور لعنت تو ان پر ہے جو اس کے بے ربط جملوں پر واہ واہ کر رہے تھے اور جئے بھٹو کے نعرے لگاتے ان کی سانسیں پھول رہی تھیں!
الم تو اس کا ہے کہ یہ بیمار سوچ جاہلوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ جاگیردارانہ سوچ کے حامل ہمارے بقراط اور خود ساختہ دانش ور بھی ہیں۔ ابھی ایک دو روز پہلے کسی نے اسی’’ بھٹو زندہ ہے‘‘ کے موضوع پر اپنی کھری کھری باتوں کا ایک ویڈیو کلپ لگایا جس کا لبِ لباب یہ تھا کہ پاکستان کو اگر آگے بڑھنا ہے اور فریبِ ماضی کے اس گرداب سے نکلنا ہے تو بھٹو کو دفن کرنا پڑیگا۔ یہ ویڈیو وائرل ہوا تو ’’بھٹو زندہ ہے‘‘ کے گرفتار بقراط طیش میں آگئے اور لگے الٹی سیدھی تاویلات دینے کہ پاکستان کو تو ان کی فہمِ کج کے مطابق آج تک بھٹو خاندان جیسی فہیم و بصیرت افروز سیاسی قیادت ملی ہی نہیں اور جو خلا یہ باپ بیٹی کی جوڑی چھوڑ گئی ہے وہ شاید کبھی نہ بھرسکے!
اللہ اللہ جس قوم کے دانشوروں کی بصیرت کا یہ حال ہو وہ کیسے فریبی بازیگروں اور سیاسی مداریوں کے جال سے باہر نکل سکتی ہے۔ یہ جال ہم نے خود اپنے لئے اپنے ہاتھوں سے بنا ہے اور ہم ہی اس کو کاٹ سکتے ہیں۔ نہ کاٹا تو پھر اس قوم کا اؒللہ ہی حافظ ہے جس کی سیاسی لگام مریم اور بلاول جیسے اناڑیوں کے ہاتھوں میں ہو۔ قائد اعظم کی قوم کے نگہبان وہ بننے کے دعویدار ہیں جنہیں اپنے قبلے کا تعین کرنا بھی نہیں آتا!