موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دو!!

264

بات یہ نہیں ہے کہ لوگ کچھ کرنا نہیں چاہتے، کرنا تو بہت کچھ چاہتے ہیں مگر موقع نہیں ملتا اور وہ کچھ ہی لوگ ہوتے ہیں جنہیں ’’موقع‘‘ زندگی میں مل پاتا ہے، شاید وہ خوش نصیب ہوتے ہیں یا پھر اتفاق ہوتا ہے لیکن کوئی ایسا نہیں ہوتا کہ وہ جو چاہے کر سکے صرف ہم نہیں بلکہ دنیا کے پچانوے فیصد 95%لوگ ایسا ہی سوچتے ہیں جب وہ اپنے آس پاس، ٹی وی پر یا فیس بک کی پوسٹ پر ایسے کسی شخص کو دیکھتے ہیں۔سمجھدار لوگ جو زندگی میں صحیح فیصلے کرتے ہیں وہ بھی یہی سوچ رکھتے ہیں کہ کاش کبھی موقع مل جائے تو میں یہ کر جائوں وہ کر جائوں۔
ٹونی روبنزکی بات اس لئے اہم ہے کیونکہ یہی وہ سوچ ہے جو اکثر انسانوں کو بہت کچھ کرنے سے روک دیتی ہے یعنی یہ کہ مجھے کوئی چیز مل جائے جیسے بہت سارے پیسے یا بہت سی طاقت تو میں یہ کر جائوں لیکن اس بات کی جو اصل سچائی سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ جو انسان سچ مچ کرنے والا ہوتا ہے وہ کسی بھی وقت چیزوں کو بدل دیتا ہے اپنے جذبے سے کوئی کام بھی کسی بڑے موقع پر نہیں ہوتا بلکہ وہ کام ہوتا ہے ’’بڑے جذبے‘‘ سے اور یہ بات دنیا کے پانچ فیصد لوگ ہی سمجھ پاتے ہیں جو سچ میں کامیاب ہوتے ہیں۔
کئی لوگوں کو لگتا ہے کہ کہنا آسان ہے اور کرنا مشکل اگر کسی کو صحیح موقع نہ ملے تو وہ کچھ خاص نہیں کر پاتا ہے تو چلیئے اس پر ذکر کرتے ہیں وین ہن زیگ کا۔
شکاگو کے ایک غریب سے علاقے میں وین بڑے ہوئے ان کے والد مشکل سے گھر چلاتے تھے اور اس لئے وین کو اچھی تعلیم بھی نہیں دے پائے لیکن یہ ضرور سکھا دیا کہ وہ دنیا میں جو چاہیں کر سکتے ہیں اب مسئلہ یہ تھا کہ وین کے پاس نہ تو تعلیم تھی اور نہ کوئی ہنر جس کو بنیاد بنا کر وہ کوئی ڈھنگ کی نوکری حاصل کر پاتے لیکن کوئی نہ کوئی کام کرنا تو ضروری تھا، انہوں نے کئی جگہوں پر ملازمت کے لئے کوششیں کیں مگر ہر جگہ سے نفی میں جواب ملا، صرف ایک ایسا کام تھا جس کے لئے کسی تجربے کی ضرورت نہیں تھی اور وہ کام تھا کچرا اٹھانے کا اسی لئے انہوں نے ایک کچرا اٹھانے والی کمپنی میں نوکری کر لی۔
کوئی بھی انسان جسے کوئی نوکری نہ ملتی ہو وہ ایسے بھی اپنا سارا اعتماد کھو بیٹھے گا اوپر سے نوکری ملے بھی تو کچرا اٹھانے کی تو وہ ہر دن اپنے بارے میں برا محسوس کرے گا کہ دوسرے لوگ تو ایسے جاب کر رہے ہیں جن وہ بہتر کام کررہے ہیں اور میں کچرا اٹھا رہا ہوں لیکن ایسا نہیں ہوا۔
وین نے کچرا اٹھانے کے کام کو وہ موقع سمجھا جس سے وہ اپنے آس پاس کے لوگوں کیلئے آسانی پیدا کر سکتا سوسائٹی میں ایک اچھا بدلائو لا سکتاہے، پہلے تو وین نے ایک کمپنی میں کام کیا اور جب وہاں سے کچھ تجربہ حاصل کر لیا تو خود اپنا کام شروع کر دیا۔
وین اپنی کمپنی میں اکیلے کام کرنے والے ،1962میں انہوں نے کچرا اٹھانے کا ایک ٹرک خریدا وہ روز رات ڈھائی بجے نکلتے اور بارہ بجے دن تک کچرا اٹھاتے رہتے، کچرا اٹھا کر وہ واپس آتے اور تمام وقت لوگوں کو فون پر اپنی کمپنی سے متعلق اطلاع دے کر کام مانگتے۔
وین جانتے تھے کہ ان کا کام ایک ہی صورت میں چل سکتا ہے کہ وہ کسٹمر کو خوش رکھیں، انہوں نے کبھی بھی کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیا، وقت گزرنے کے ساتھ دوسرا تیسرا اور پھر کئی ٹرک خرید لئے، ساتھ ہی انہوں نے کئی ایسی چیزوں کو اہمیت دی جو باقی کمپنیاں نہیں کررہی تھیں جیسے ماحولیات کو مدنظر رکھنا کچرے کو صحیح طرح سے ٹھکانے لگاتا اور ری سائیکلنگ۔
وین نے کچھ عرصے بعد گاربیج کے چھوٹے چھوٹے بزنس خرید کر اپنی کمپنی میں ملانے شروع کر دئیے اور 1982یعنی بیس سال میں وین امریکہ کی سب سے بڑی گاربیج کمپنی ویسٹ مینجمنٹ بنانے میں کامیاب ہو گئے۔
آج یہ کمپنی پبلک ٹریڈنگ کمپنی ہے اور بلین آف ڈالرز کی قیمت رکھتی ہے، وین کے مطابق انہوں نے سمجھ لیا تھا کہ گاربیج انڈسٹری چھوٹی چھوٹی بزنسز میں بٹی ہوئی ہے، اسی لئے ان کے لئے اسے بڑی کارپوریشن بنانا آسان ہو گایہ اپروچ انہوں نے کئی دوسری جگہوں پر بھی اپلائی کی اور سو(100)سے زیادہ انڈسٹریز کھولیں، جیسے گھاس کاٹنے، پانی کی بوتلوں اور ہوٹلز وغیرہ کا بزنس۔
کچرے کو چھوڑ کر دوسرے بزنسز سے 1986ء تک وین ہر سال سو ملین ڈالرز سے زیادہ کماتے تھے، 1994میں وین نے مشہور ویڈیو کی چین بلاک بنائی اور 1996میں گاڑیوں کی بہت بڑی ڈیلر شپ بھی شروع کی۔
آج وہ بزنسز کے ساتھ کئی سپورٹس ٹیموں اور سٹیڈیم کے بھی مالک ہیں اور ان کی نیٹ ورتھ ڈھائی بلین ڈالرز ہے اور انہیں لگتا ہے کہ ابھی تو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
شاید جب وین نے کچرا اٹھانا شروع کیا ہو گا تو ہو سکتا ہے اس سال ہزار دو ہزار لڑکوں نے بھی یہی کام شروع کیا ہو وہ لڑکے جنہوں نے سوچا ہو گا کہ کسی دن جب ہمیں موقع ملے گا تو ہم بھی بہت کچھ کر جائیں گے لیکن ساری زندگی انہیں وہ موقع نہیں ملا جس کا وہ انتظار کرتے رہ گئے۔
موقع ملتے نہیں بنائے جاتے ہیں جو وین نے سمجھ لیا تھا، جو بھی موقع زندگی میں آپ کے سامنے آئے اور آپ اس کے سہارے آگے بڑھ جائیں تو آپ کو ترقی کے راستے پر گامزن ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔