جلسے اور جمہوریت

248

لاہور میں پی ڈی ایم کے جلسے میں لوگوں کی تعداد پر بحث ابھی تک جاری ہے سیاسی جماعتوں کی کامیابی کا اندازہ الیکشن میں انکی جیتی ہوئی سیٹوں سے یا جلسوں میں شرکاء کی تعداد سے لگایا جا تا ہے صدر ٹرمپ بیس جنوری 2017 کو صدارت سنبھالنے کے بعد ایک طویل عرصے تک اس بحث میں الجھے رہے کہ انکی تقریب حلف وفاداری میں لوگوں کی تعداد زیادہ تھی یا براک اوباما کے حلف اٹھانے کی تقریب میں زیادہ لوگ آئے تھے مخالفین نے خم ٹھونک کر انہیں غلط ثابت کرنے کیلئے دلائل کے انبار لگا دئے دونوں تقریبات کی سٹیلائٹ تصویریں شائع کی گئیں مگر صدر ٹرمپ آج تک اپنی ضد پر قائم ہیںکسی بھی دوسرے سیاسی تنازعے کی طرح اس قضیے کا فیصلہ بھی آج تک نہیں ہو سکا لاہور میں پی ڈی ایم کا جلسہ بھی ہمیشہ متنازعہ رہیگا حکومت تو تیرہ دسمبر کی صبح ہی سے کہہ رہی تھی کہ چار پانچ ہزار لوگ ہوں گے پولیس اور سپیشل برانچ کی رپورٹوں کے مطابق چودہ پندرہ ہزار لوگ تھے بی بی سی ‘ الجزیرہ اور لاہور کے چند کالم نگاروں کی رائے میں شرکا کی تعداد تیس چالیس ہزار تھی پی ڈی ایم کو اس جلسے میں حکومت‘ کورونا اور موسم کی مشکلات کے علاوہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی اسیری جیسے مسائل کا بھی سامنا تھا انکی موجودگی میں شرکاء کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی اسکے باوجود آزاد اور غیر جانبدار مبصرین کی رائے میںیہ ایک کامیاب جلسہ تھا
پی ٹی آئی حکومت کے دعووں کے مطابق اسے ناکام تسلیم کر بھی لیا جائے تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ پی ڈی ایم کی گیارہ جماعتیں فروری کے پہلے ہفتے لانگ مارچ میں ایک ہزار گاڑیاں اور آٹھ دس ہزار لوگ لیکر اسلام آباد نہیں پہنچ سکتیں اتنی تعداد میں لوگ دارلخلافے میںکاروبار زندگی مفلوج کرنے کے علاوہ ملکی اقتصادیات کو بھی ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گے خان صاحب کیونکہ خود چھہ سال پہلے اسی شہر میں 126 دن تک دھرنا دے چکے ہیں اسلئے وہ اس تحریک کی مخالفت کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے حزب اختلاف کے استعفے اس بحران کو مزید گمبھیر بنا دیں گے اس پولیٹیکل تھیٹر کی قیمت 2014 میں بھی عوام نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں ادا کی تھی اور اب بھی ایسا ہی ہو گا
امریکہ میں اگر اس سوال پر غور ہو رہا ہے کہ کیا امریکی جمہوریت ڈونلڈ ٹرمپ کے لگائے ہوے زخموںسے جانبر ہو سکتی ہے تو پاکستان میں بھی اسی مسئلے کے حسن و قبح کا جائزہ لیا جا سکتا ہے ایک ترقی پذیر ملک کی جمہوریت آخر کب تک آئے روز کے دھرنوں اور مظاہروں کا بوجھ اٹھا سکتی ہے کیا کسی بھی ملک میں جمہوریت اتنے صدمے برداشت کر سکتی ہے اسلام آباد میں اسوقت فریقین میں جو مکالمہ ہو رہا ہے اسکی شدت ظاہر کرتی ہے کہ ہمارا جمہوری نظام سخت خطرات میں گھرا ہوا ہے نیوز میڈیا جس بے نیازی سے اس بحران کی خبر رسانی کر رہا ہے وہ اپنی جگہ ایک افسوسناک معاملہ ہے طاقتور ریاستی ادارے بھی اس سیاسی مبارزت سے لا تعلق نظر آرہے ہیںگویا کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں، والا معاملہ ہے کہتے ہیں کہ جمہوی نظام نہایت لچکدار اور ڈھیٹ واقع ہوا ہے بالکل جنگل کے درختوں کی طرح جو طوفانی ہوائوں کے گذر جانے کے بعد بھی سر اونچا کئے کھڑے رہتے ہیںامریکہ اور پاکستان دونوں ممالک میں پاپولسٹ حکمرانوں نے جمہوری نظام کو آمرانہ انداز سے چلانے کی کوشش کی ہے اسکے باوجود جمہوریت ٹوٹ کر بکھرنے کی بجائے کسی لچکدار ٹہنی کی طرح جھکتی رہی ہے لیکن اسکا لچکدار ہونا اس بات کی ضمانت نہیں ہے کہ یہ ٹوٹ نہیں سکتی ایک اچھا نظام حکومت شدید دبائو کے اندر بھی چلتا رہتا ہے دنیا میں ہر جگہ ریاستی اداروں کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور سیاستدانوں کا اداروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنا بھی کسی ایک ملک تک محدود نہیںصدر ٹرمپ نے چار سال تک سی آئی اے‘ پینٹا گون‘ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ کو دیوار سے لگائے رکھااس سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے ریپبلیکن پارٹی کو بھی اپنی مرضی کے مطابق استعمال کیا گذشتہ ماہ کے انتخابات میں انہوں نے چھ ریاستوںکے انتخابی اداروں‘ عدالتوں حتیٰ کہ سپریم کورٹ کو بھی انتخابی نتائج کو مسترد کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سوا دو سو سال تک جمہوری نظام پر کاربند رہنے والے ملک میںبھی جمہوریت کا حلیہ بگاڑا جا سکتا ہے فرانس میں صدر ایمینویل میکرون کہ جنہیں ڈارلنگ آف دی لیفٹ کہا جاتاتھا نے ڈیڑھ سال بعد ہونیوالے انتخابات میں فتحیاب ہونے کے لئے مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجایا ہوا ہے میکرون دائیں بازو کے ووٹروں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کیلئے مسلمانوں کے خلاف نئے قوانین لاگو کر رہے ہیںیہ بھی ریاستی اداروں کو ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرنیکی ایک مذموم کوشش ہے
موجودہ عالمی فضا میں قنوطیت ایک بہتر فکری رویہ نظر آتا ہے امریکہ میں یہ رحجان رکھنے والے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس مرتبہ اگر انکی جمہوریت ڈونلڈ ٹرمپ کی یلغار برداشت کر گئی ہے تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آئندہ بھی ایسا ہی ہو گا اسکے بر عکس خوش گمان لوگوں کا کہنا ہے کہ انکا نظام حکومت اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی شعلہ مزاجی‘ بے حکمتی ‘ بہتان بازی او ر فتنہ و فساد برداشت کر گیا ہے تو یہ اسکے ناقابل تسخیر ہونیکا ثبوت ہے بہ زبان شاعر وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ؎
رات بھر اک چاپ سی پھرتی رہی چاروں طرف
جان لیوا خوف تھا لیکن ہوا کچھ بھی نہیں!!
امریکہ اور پاکستان دونوں ممالک میں اس امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ داخلی بحرانوں نے انکی جمہوریتوں کو ایسے زخم لگائے ہوں جو فی الحال نظر نہیں آ رہے یہ نقصانات دور رس بھی ہو سکتے ہیںفی الحال اس خوش گمانی میں پناہ لی جاسکتی ہے کہ ایک جمہوری نظام کی وجہ سے ڈونلد ٹرمپ جیسا بے ڈھب حکمران اپنے انجام کو پہنچا‘ پاکستان میں پی ڈی ایم اگر شفاف انتخابات‘ آئین کی سربلندی اور اداروں کو انکی حدود میں رکھنے کے مطالبات منوانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ کہا جا سکے گا کہ جمہوریت نے نہ صرف اپنے ثمرات عوام تک پہنچا دئے ہیں بلکہ یہ ایک حکومتی نظام کے طور پر جان لیوا مشکلات سے نبرد آزما ہو کر کامیابی سے ہمکنار ہونیکی صلاحیت بھی رکھتی ہے