پاکستانی ریاست، سیاست،ہراست اور حراست

305

ریاست کا وجود تب عمل میں آتا ہے جب قبائل پر مشتمل کوئی اتحاد قائم ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ ریاست کی شکل اختیار کر جاتا ہے جو قواعد و ضوابط تیار کر کے قانون نافذ کرتے ہیں جس میں جغرافیہ طے پاتا ہے تاکہ ریاست کا قانون لاگو کیا جائے، زمانہ قدیم میں ریاست کی بجائے سلطنت کا دور دورہ تھا جس کی طاقت ہوا کرتی تھی وہ اردگرد کے علاقوں پر قبضہ کر لیتی تھی ، بعد میں ریاستوں کا سلسلہ چل نکلا ،اقوام عالم کی تنظیم اقوام متحدہ نے ہر ریاست کے جغرافیہ کو تسلیم کرتے ہوئے ممبر شپ نظریہ دیا جس کی وجہ سے آج زیادہ ممالک وجود میں آچکے ہیں جن کے اپنے اپنے قانون اور آئین ہیں جس کے تحت وہ اپنی ریاستیں چلارہے ہیں، جب ریاست وجود میں آتی ہے تو سیاست جنم لیتی ہے جو ریاست کو قانون اور آئین فراہم کرتی ہے جس پر عمل درآمد کرنے والے سیاستدان کہلاتے ہیں جن کو آج کے جاگیرداری، سرمایہ داری، رسہ گیری، اجارہ داری، اقربا پروری نظام میں سیاست کو گالی بنا کر پیش کیا جاتا ہے جبکہ سیاست ایک عبادت ہے جو شہریوں کو حقوق و فرائض کا درس دیتی ہے جس کی بنیاد پر جدید ریاست کا وجود قائم ہوتا ہے جو قانونی اور آئینی ادارے تشکیل دیتی ہے جس سے ایک جدید اور خوشحال آزاد معاشرہ قائم ہوتا ہے جس کو مغربی دنیا میں جمہوریت کا نام دیا گیا ہے۔
تاہم پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جس کا وجود ہندوستان کی کوکھ سے لایا گیا تاکہ مسلمان ہند کی ایک الگ مسلم ریاست بن پائے، بعدازاں پاکستان کی کوکھ سے بنگلہ دیش بنا، کل کلاں برصغیر کی کوکھ سے کوئی دوسری ریاست بن سکتی ہے ، برصغیر کئی کئی ریاستوں میں بٹا ہوا تھا جو صرف اور صرف گپتا خاندان کے دور سلطنت، مغلیہ سلطنت یا پھر فرنگیوں کے دور میں ایک فیڈریشن نما ایک ملک ہندوستان بنا جو آخر کار 1947ء میں آزاد ہوا جس کے دو حصے بنے جس میں ہندوستان میں اصلاحات نافذ کر کے ملک کو متحد کیا گیا جس کو ہندوستان کے پہلے وزیراعظم نہرو نے آئین دیا، ملک میں جاگیرداری کا خاتمہ کیا گیا جو انگریز نے جاگیرداری نظام اپنی مدد کے لئے بنایا تھا کہ جس میں ہندوستان کی وطن دشمن طاقتوں کو بڑی بڑی جاگیریں بھی عطاء کی گئی تھی جبکہ پاکستان کو آئین اور اصلاحات سے محروم رکھا گیا، جب 1956ء کا آئین بنا تو گورنر جنرل اور صدر سکندر مرزا نے جنرل ایوب کی شہ پر آئین منسوخ کر دیا جس کے بعد جنرلوں نے مسلسل چار مرتبہ آئین منسوخ اور معطل کیا جس سے پاکستان ایک بنانا ریاست بن کر رہ گئی کہ آج ملک میں آئین کے ہوتے ہوئے آئینی ادارے کمزور اور غیر آئینی ادارے طاقتور نظر آرہے ہیں، سیاستدانوں کو حراست کا شکار بنایا جاتا ہے، کبھی ایبڈو اور کبھی نیبڈو کے ذریعے، بلیک میل کر کے جیلوں میں قید کیا جاتا ہے جو معافی مانگتے ہیں وہ آزاد پھرتے ہیں جو مخالفت کرتے ہیں وہ حراست میں رہتے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان میں آج تک سیاست پنپ نہ پائی ہے بہرکیف پاکستان میں حراست کا دور دورہ ہے جس میں مخالف سیاستدان کو چھوٹے مقدمات میں آئے دن جیلوں میں ٹھونسا جارہا ہے جس کا اعادہ سپریم کورٹ کئی مرتبہ کر چکا ہے کہ پاکستان میں ھراست اور حراست سے ملکی سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کی بنا پر ملکی سرمایہ کار ترک وطن پر مجبور ہوا جس نے آج بنگلہ دیش جیسی ریاست میں اپنا سرمایہ لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے ملک میں بے تحاشا بے روزگاری اور بھوک و ننگ کا بازار گرم ہے جس کی موجودہ مسلط حکمرانوں پر کوئی اثر نہیں ہورہا کہ آج پاکستان دنیا کی کمزور ترین ریاست بن چکا جس کا درآمدات، برآمدات، معاشیات، مالیات اور خزانہ زیرو ہو چکا ہے، فوج کو بچانے کے لئے مشرق وسطیٰ کی محتاجی اختیار کرنا پڑی ہے جو دیوالیہ پن کے قریب ہے۔
وہ پاکستان جو زرعی ملک کہلاتا تھا وہ آج پیاز اور ٹماٹر افغانستان اور ایران سے خرید رہا ہے، وہ ملک جو گندم، گنا، کپاس اور دوسری اجناس پیدا کرنے میں پیش پیش تھا وہ آج آٹا، چینی اور کپڑے دوسرے ملکوں سے امپورٹ کررہا ہے، بہرحال پاکستانی ریاست کی بدحالی اور بے حالی کی ذمہ دار پاکستان اسٹیبلشمنٹ ہے جس نے ملکی سیاست میں مداخلت کر کے پاکستان کو تباہ و برباد کر رکھا ہے جس سے ملکی آئینی ادارے کمزور و ناتواں پائے جارہے ہیں جو اب دنیا میں تنہا ہو چکا ہے کہ آج پاکستان کی خارجہ اور داخلہ پالیسیاں ناکام اور ناکارہ ثابت ہوئی ہیں، ملکی ادارے کمزور ہو چکے ہیں جس کی وجہ سے ملک میں لاقانونیت اور کرپشن کا طوفان برپا ہے جس سے ملکی سلامتی خطرے میں پڑی ہوئی ہے مگر پاکستان کا نیرو ملک کو آگ لگنے کے باوجود بانسری بجارہا ہے جو ۲۲ کروڑ کے عوام کی ریاست کے لئے لمحہ فکریہ ہے کہ وہ اپنی سیاست سے کس طرح ریاست کو بچائے گی جس کی قیادت کوہراست اور حراست میں رکھا ہوا ہے شاید وقت آپہنچا ہے کہ ملک میں مسلسل تحریکوں کو جنم دیا جائے تاکہ جمہوریت کو بحال کیا جائے یہی ایک حل ہے۔