لالچ اور ہوس کے مارے ان اندھوںنے خودداریوں کا سودا کر لیا ہے!

265

اس کرہ ارض پر بسنے والے تمام محب وطن پاکستانیوں کو قائداعظم محمد علی جناح(پونجا) کا یوم ولادت مبارک ہو، زندہ قومیں اپنے محسنوں، مسیحائوں کو فراموش نہیں کرتیں، بھولتی نہیں، تاریخ رقم کرتی ہیں تاکہ آنے والی نسلیں بھی انہیں یاد رکھیں، قائد کا یوم ولادت بھی دھوم دھام سے منایا جانا چاہیے، دارالحکومت میں 21تاپوں کی سلامی دی جائے، صوبوں میں 7,7توپوں کی سلامی، قائد کے مزار پر قرآن خوانی ہو اور مزار قائد کو روشنیوں سے سجایا جائے، دوسری نسل کے جو بچے تھے انہیں قائداعظم کے بارے میں کچھ پتہ نہیں تھا، یہ والدین اور اساتذہ کا فرض ہے کہ بچوں کو پاکستان کی تاریخ سے آگاہی فراہم کریں، قائد کو ایک رول ماڈل کی طرح پیش کیا جائے، طالب علموں کو بتایا جائے کہ پاکستان کتنی قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے تاکہ ان کے دلوں میں اپنے وطن سے محبت، آزادی کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو سکے اور وہ اس ملک خداداد کی جی جان سے خدمت کریں اور ترقی کی دوڑ میں اسے سب سے آگے لے جائیں، ملک کی سلامتی کو اپنی جان و مال پر مقدم جانیں، ایسے لوگوں کو مسترد کر دیں جنہوں نے ملکی خزانے کو لوٹا، اسے اپنی عیاشیوں کے لئے، اپنے محلات تعمیر کروانے پر خرچ کیا، اداروں کو اپنے من پسند فیصلے کروانے کے لئے رشوت کا انبار لگا دیا، اب ہر غیرقانونی کام لوگوں کی جیبیں گرم کر کے انجام دلوایا جائے گا، عوام کنگال ہو گئے، غریب، غریب تر ہوتا گیا، جو پیسہ ترقیاتی کاموں کے لئے مختص تھا وہ اپنے آپ کو ترقی دینے میں خرچ ہونے لگا۔
غرور و تکبر میں ڈوبی پھولن دیوی کہتی ہے’’ میرے دادا کا بہت بڑا کاروبار تھا‘‘ چچا حضور شہباز شریف فرماتے ہیں ’’مجھے فخر ہے کہ میں ایک کسان کا بیٹا ہوں‘‘ یہ تو تم لوگ خود کو کھلے عام عوام کے سامنے آشکار کررہے ہو، اب فیصلہ ہونا چاہیے کون سچ بول رہا ہے اور کون جھوٹا اور خائن ہے اور اس فقیرنی مریم نواز کے پاس تو لندن میں کیا پاکستان میں بھی کوئی جائیداد نہیں (اور اس جائیداد کو اپنے نام کروانے کے لئے لندن جانے کے لئے تڑپ رہی ہیں) میں تو والد کے زیر کفالفت ہوں وغیرہ، وغیرہ، بڑا دل گردہ اور جگرہ ہونا چاہیے بائیس کروڑ پاکستانیوں اور دنیا کے اور ملکوں کے باسیوں کے سامنے جھوٹ بولنے کا، کہہ رہی ہیں، ایک بی بی سی کے انٹرویو میں کہ یہ حکومت تو چل ہی نہیں سکتی، عوام رو رہی ہے بلک رہی ہے، بددعائیں دے رہی ہے، ہاں بالکل ایسا ہی ہے لیکن بی بی سی کی اس خاتون اینکر کو یہ بھی بتا دیجئے کہ تمام دولت تو آپ نے لوٹ لی اور عوام کو فاقے کرنے، بیماریوں سے مرنے کے لئے چھوڑ دیا ہے، وہ بلک رہے ہیں رو رہے ہیں، آپ کی لوٹ مار کی وجہ سے، آپ ان کے بدن سے چیتھترے بھی اتار لائی ہیں تو ظاہر ہے وہ منہ بھر بھر کر آپ کو آپکے پورے ٹبر کو نام بہ نام بدعائیں دے رہے ہیں لیکن تم تو بڑے ڈھیٹ، بے غیرت لوگ ہو، شرم و حیا کا چولا اتار پھینکا ہے، تمہاری بے حیائی بیان کرنے والے سارے لفظ لغت سے ختم ہو گئے۔
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
دیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں!
PDMمیں سارے غدار اور چور جمع ہیں، فضلو نے غداروں کی بھی ایک ٹولی ساتھ ملا لی ہے، یہ سب پاکستانیوں کے علم میں ہے کہ خان عبدالغفار خان عرف باچہ خان پاکستان کے وجود میں لانے کے حق میں نہیں تھا اور وہ آخر وقت تک پارٹیشن کی مخالفت کرتا رہا، نہرو اور گاندھی کی بغل میں گھسا رہا، کھایا پاکستان کا مرا تو لاش افغانستان میں لے جائی گئی، ملالہ باد میں تدفین ہوئی، بعض کا خیال تھا کہ اسے بھارت میں دفن کیا جائے گا مگر ایسا نہ ہو سکا وجہ نامعلوم، پھر ان کا سپوت ولی خان پاکستان کی بیخ کنی کے لئے اٹھ کھڑا ہوا، ان کی اہلیہ محترمہ دیار غیر کی سیر کے لئے گئی تھیں وہاں سے انہوں نے ایک سٹور سے Under Garmentچوری کر لئے تھے پکڑی گئیں مگر یہ لوگ بڑی ڈھیٹ ہڈی ہیں اپنے کرتوتوں پر شرمندہ نہیں ہوتے پیشانی پر ندامت کا پسینہ نہیں آتا، جس طرح خاندان شریفاں کسی طور اپنے افعال پر جم کر فخر کرتے ہیں، مریم غریبوں کی دولت پر ڈاکہ ڈال کر قیمتی جوتے اور کپڑے پہن کر تقریریں کرتی پھر رہی ہیں، ان میں احساس کا مادہ بھی ختم ہو گیا ہے اور انسان میں جب دوسروں کا درد اور حساس ختم ہو جاتا ہے تو چلی پھرتی بدبودار لاش کے سوا کچھ نہیں ہے، یہ مردہ ضمیر لوگ ندامت جانتے ہی نہیں اور اپنے افعال بد سے کبھی باز نہیں آئیں گے، جیسے کتے کی دم کے بارے میں مشہور ہے کہ سو سال بوتل میں سیدھی کر کے بند رکھو لیکن نکالو گے تو ٹیڑھی کی ٹیڑھی فضلو محمود اچکزئی یعنی اس اچکے کو بھی پکڑ لائے جو کراچی گیا تو اسے اردو زبان سے اذیت ہونے لگی اور وہ اسی زبان میں تقریر کررہا تھا اگر دوسری زبان میں کرتا تو کوئی سمجھ بھی نہ پاتا اردو قومی زبان ہے، محمود اچکزئی کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ اس پر ہرزہ سرائی کرے اور افغانستان کی مدح سرائی۔ مریں گے تو وہیں دفن ہوں گے، یہ غدار جس کا کھاتے ہیں اسی پر غراتے ہیں، یہ نمک حرامی کی انتہا ہے، پاکستان نے کتنے افغانیوں کو پناہ دی یہ پاکستانی پاسپورٹ پر ممالک غیر بھی جاتے رہے ، ان کے پاس شناختی کارڈ بھی پاکستان کا ہے اور اس ملک کے لئے یہ کلاشنکوف کا تحفہ لائے، کراچی کے بعد محمود خان لاہور میں پدھارے اور وہاں پر پنجابیوں کی حب الوطنی پر وار کیا، اینکرز چیخ پڑے اور لاہور والوں کی ہر دور میں قربانیوں کا سبق دہرا دیا، ہماری فوج کے شہید فوجیوں کا تعلق لاہور ہی سے ہے، بہادری کی تاریخ دہرا دی گئی، ان ناہنجاروں کو نہرو اور گاندھی کے جوتے سیدھے کرنے والوں کی اولادوں کو تاریخ کو پڑھنے کی زحمت ہی کہاں ہے اور بے حس لوگ ان کے ساتھ ہو جاتے ہیں اپنے مفاد کے لئے چاہے وہ ایک تھیلی بریانی یا قیمے کے نان ہی کیوں نہ ہوں، یہ تو وہ لوگ ہیں لالچ اور ہوس نے جنہیں اندھا کر دیا ہے، یہ بھیڑوں کا گلڑ ہے جہاں چارہ دیکھتے ہیں چل دیتے ہیں، ضمیر مر چکے ہیں خودداریوں کا سودا کر لیا ہے، اب ان کے او پر فاتحہ ہی پڑھی جا سکتی ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عریانی چھپانے کے لئے سارے شہر کو ننگا کیا۔
لوگ اُٹھتے ہیں جب تیرے غریبوں کو جگانے
سب شہر کے زردار پہنچ جاتے ہیں تھانے
کہتے ہیں یہ دولت ہمیں بخشی ہے خدا نے
فرسودہ بہانے وہی افسانے پرانے
اے شاعرِ مشرق! یہی جھوٹے یہی بد ذات
پیتے ہیں لہو بندہ ٔمزدور کا دن رات!!!
(حبیب جالب)