عدالتوں میں اسلامی احکام نافذ کردیں !جمہوری اقدار خودبخود اسلامی ہو جائینگے!!

373

عدالت عظمیٰ کے سربراہ جناب جسٹس گلزار احمد نے عدلیہ کے نظام کو درست کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ عدلیہ میں جمہوری اقدار لائیں گے، وکلاء اور ججز کے درمیان دیوار گرا دی ہے۔ ججوں کا تقرر وکلا کے مشورے سے کریں گے۔ وکلا تشدد چھوڑ دیں فیصلہ پسند نہ ہو تو ججوں سے جھگڑا نہ کریں۔ انہوں نے ہڑتال کا کلچر ختم کرنے پر وکلا کو مبارک باد بھی دی۔ جسٹس گلزار نے مقدمات کی سماعت تیزی سے کرنے یا نمٹانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔ ان کا یہ کہنا بھی بجا ہے کہ دادا کے مقدمے کا فیصلہ پوتے کے وقت ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے بہت سی اہم باتیں کہی ہیں اور عدلیہ کا رخ بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف چیف جسٹس ایسی ہی باتیں کر گئے ہیں لیکن یہ عزائم کبھی حقیقت میں نہیں تبدیل ہوئے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ چیف جسٹس ایک بات کہتے ہیں وہ اخبارات کی زینت بنتی ہے جس کا حوالہ خود چیف جسٹس صاحب نے دیا ہے کہ جو کہتے ہیں رپورٹ ہو جاتا ہے۔ جب ان کا کہا رپورٹ ہوتا ہے تو تمام اخبارات اور چینلز کی بریکنگ نیوز اور شہ سرخی بنتا ہے لیکن ایسا حقیقتاً کیوں نہیں ہوتا اس کی وجہ ہے اور وجہ یہ ہے کہ پوری عدلیہ کا رخ غلط ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی عدلیہ کو اپنے فیصلوں کے لیے اسلامی احکامات کو مرکز و محور بنانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔ اگر دادا کے زمانے میں کہا گیا تھا کہ پاکستان کے دستور میں ملک میں کوئی قانون اسلام کے منافی بنانے کی ممانعت ہے تو آج پڑپوتے نہیں تو پوتے کے دور میں بھی اس حکم پر عمل نہیں ہو سکا۔ چونکہ چیف صاحبان تقریبات میں یا کسی مقدمے کی سماعت میں ریمارکس کے طور پر ایسی باتیں کہتے ہیں اس لیے یہ نافذ نہیں ہو پاتیں اور نظیر نہیں بنتیں۔ اور جب عدالت عظمیٰ کے سربراہ کی باتیں نظیر نہ بنیں تو عدلیہ درست رخ پر کیسے جا سکتی ہے۔ دادا ہی کے زمانے کا فیصلہ ہے کہ پاکستان سے سود ختم کر دیا جائے۔ لیکن پڑپوتوں کا دورآگیا سود ختم نہیں ہو سکا۔ اس کام کے لیے انہیں اس مقصد بلکہ جن مقاصد کا انہوں نے اعلان کیا ہے ان کو حاصل کرنے کے لیے اپنے دور میں کوئی نظام بنانا ہوگا تاکہ عدلیہ اپنے درست راستے پر چل پڑے۔ جب یہ نظام قائم ہوگا توآنے والے تمام ججز بھی اس کی پابندی کریں گے۔ ورنہ ایک جج کے فیصلے یا چند ججوں کے فیصلے کو تیس چالیس سال بعد کالعدم یا غلط قرار دے دیا جاتا ہے جیسا کہ ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمے کا فیصلہ۔ اسے عدالتی قتل عدالت ہی نے قرار دیا کسی اور نے نہیں۔ اگر کسی اصول کے تحت کسی نظام کے تحت فیصلے کیے گئے ہوتے تو چیلنج بھی نہیں کیا جا سکتا تھا اور تبدیل بھی۔ چیف جسٹس کا یہ عزم کہ عدلیہ میں جمہوری اقدار لائیں گے اچھا بھی ہے اور قابل غور بھی۔ کہ عدلیہ میں جمہوری اقدار پہلے ہی نافذ ہیں۔ اکثریت سے جو فیصلہ ہو اسے ہی عدالت کا فیصلہ کہا جاتا ہے۔ سات میں سے چار جج جو فیصلہ دے دیں اسے فیصلہ قرار دیا جاتا ہے۔ اختلافی نوٹ موجود رہتے ہیں۔ لیکن ہمارا کام عدلیہ میں جمہوری اقدار لانا نہیں۔ ہمارا کام عدلیہ میں اسلامی احکام لانا ہے۔ جمہوریت کے نام پر تو اس ملک کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ ادارے ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے بندوں کو آگے لانے کے لیے ہاتھ پائوں مارتے ہیں۔ عدلیہ کے ججوں کے تقرر میں بھی یہ کوششیں ہوتی ہیں بلکہ ہو رہی ہیں۔ ججوں کی جانب سے دباؤ کی شکایات بھی سامنے آچکی ہیں۔ عدلیہ میں جمہوری اقدار کو تو ہونا ہی نہیں چاہیے۔ یہ عدل اور انصاف کے بھی منافی ہے۔ اگر اکثریت کسی کے خلاف فیصلہ دے رہی ہو اور واضح ثبوت موجود ہوں کہ وہ بے گناہ ہے تو پھر اس کو سزا دینا خلاف اسلام ہو جائے گا۔ اسلام میں جو جمہوریت اور مشاورت ہے اس کا مغربی جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں بلکہ مغربی جمہوریت تو اسلام کی روح قبض کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر چیف صاحب چاہتے ہیں کہ عدلیہ کا رخ درست ہو جائے تو مقدمات کی سماعت میں طوالت نہ ہو تو ایک مرتبہ فل کورٹ طلب کرکے آئین کی ان دفعات کے مطابق فیصلہ دے دیں کہ آئین پاکستان کا حکم ہے کہ کوئی قانون قرآن و سنت کے منافی نہ بنے۔ اور جو قوانین ہیں ان کو ختم کیا جائے۔ اس کے بعدآنے والی عدلیہ اور چیف صاحبان اس فیصلے کے پابند ہوں گے۔ اسے آئین کی پشت پناہی بھی حاصل ہوگی۔ اگر جمہوریت ہوگی تو سرکاری وکیل آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہے گا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بغیر سود ختم نہیں ہو سکتا اور چیف جسٹس منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ ایسے وکیلوں کا تو لائسنس منسوخ ہو جاتا اگرآئین کی یہ دفعات بروئے کار ہوتیں کہ قر آن و سنت کے قوانین کے منافی کوئی قانون نہیں بنے گا۔ لہٰذا گزارش ہے کہ عدلیہ میں جمہوری اقدار نہیں اسلامی احکام لائیں۔ باقی عزائم اچھے ہیں ان پر بھی ایک نظام بنائیں۔ اور نیب پر بھی نظر کرم فرمائیں سارا عدالتی اور ملکی نظام تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ تین سال بعد بندہ بے گناہ ثابت ہوتا ہے یا استغاثہ ثابت نہیں ہوتا۔ یہ کون سی اقدار ہیں۔