مولانا ڈیزل کے گرد گھیرا تنگ اور رفقاء بھی بجنگ آمد، نیب نے بھی طلب کرلیا

371

لاہور میں پی ڈی ایم کے ناکام جلسے کے بعدگیارہ کے ٹولے کو اس ہفتے دوسرا دھچکا لگا بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دھچکے پر دھچکے لگ رہے ہیں ۔ آمدنی سے زیادہ اثایہ جات کے قانون کے تحت قومی احتساب بیورو نے پی ڈی ایم کے صدر مولانا فضل الرحمن عرف مولانا ڈیزل کو آمدنی سے زیادہ اثاثہ جات رکھنے کے الزامات کاایک پلندہ تھماتے ہوئے چوبیس دسمبر کونیب میں تمام شواہد و ثوابت کے ساتھ پیش ہونے کانوٹس دے دیا ہے اور عدم حاضری کے بعد قانونی کارروائی کرنے کا عندیہ بھی دے دیا ہے ۔ دوسری طرف حکومتی وزیر گنڈا پور نے ایک پریس کانفرنس میں تمام ثبوتوں کے ساتھ غیرقانونی اثاثہ جات اور کرپشن کے الزامات لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن نے ذرائع آمدنی کے نہ ہوتے ہوئے پورے پاکستان اوردبئی اور متحدہ عرب امارات میں ان کے مختلف خاندان کے لوگوں کے ناموں سے لی گئی جائیدادوں کا حساب مانگا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اگر ان کے الزامات غلط ہوں تو مولوی صاحب پاکستان کی کسی بھی عدالت میں ان کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کرسکتے ہیں ۔ ابھی ان الزامات کامولانا ڈیزل نے جواب دینے کیلئے منہ کو کھولا بھی نہ تھا کہ مولانا فضل الرحمن کی اپنی پارٹی جمعیت علمائے اسلام کے ایک سینئر رہنما مولانا محمد شیرانی نے الزامات کی بوچھاڑ کردی اور فضل ا لرحمن پرجھوٹا اورموروثی سیاستدان کاالزام لگادیا، کہا کہ مولانا فضل الرحمن بہت بڑے جھوٹے شخص ہیں وہ عمران خان کو سلیکٹڈ کہتے ہیں جبکہ وہ خود ایک سلیکٹڈ شخص ہیں۔ مولانا شیرانی نے دعویٰ کیا کہ عمران خان نہ صرف پانچ سال تک وزیراعظم رہے گابلکہ وہ اگلے پانچ سالوںمیں بھی پاکستان کا وزیراعظم رہے گا ۔ مولانا شیرانی نے کہا کہ فضل الرحمن نے پارٹی کو مورثی بنا دیا ہے جوکہ خود اسلامی نظریئے کے خلاف ہے۔
یہاں یہ بات واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن کے والد مولانا مفتی محمود بھی پارٹی کے سربراہ تھے جن کی وفات کے بعد مولانا ڈیزل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ بن گئے ۔ اس وقت مولانا کے بیٹے مولوی اسد محمود تیار ہو رہے ہیں ۔ آئندہ قیادت کو سنبھالنے کے لئے فی الحال وہ قومی اسمبلی کے ممبر کے طورپر جتوائے گئے ہیں جن کے بعد کرسی صدارت مولانا کے دوسرے بیٹے اسجد محمود سنبھالیں گے ۔ اس طرح مولانا اپنے بھائی مولانا عطا ا لرحمن کو بھی اپنے دورحکومت میںوزارت کے عہدے سے نواز تھا اور وہ اب بھی پارٹی کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں ۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے مولانا شیرانی نے مولانا فضل الرحمن کی جھوٹ، کرپٹ اور منافقت کی سیاست پر نکتہ چینی کی ہے ، اس سے قبل مولانا کے قریبی ساتھی اور سینیٹر مولانا سمیع الحق بھی جمعیت علمائے اسلام اور مولانا موصوف سے اختلاف کرتے ہوئے علیحدہ ہو کر پارٹی کانیا گروپ ’’س‘‘ کے نام سے بنا چکے ہیں مولانا شیرانی سے قبل مولانا کفایت ،مولانا قاسمی اور دیگر رہنما بھی مولانا فضل ا لرحمن پر کھلی اور کڑی تنقید کر چکے ہیں مگر مولاناڈیزل کچھ ایسے چکنے گھڑے کی مانند ہیں جس پر سے سب کچھ پھسل جاتا ہے۔ یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کا بیان آج بھی ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے ایک بیان میں تنگ آ کر کہا تھا کہ میں اس مولوی کو پرمٹ دے دے کر تھک گئی ہوں مگر یہ شخص مانگنے سے نہیں کتراتا۔ ایک زمانے میں مولانا فضل الرحمن نے فتویٰ دیا تھا کہ کسی بھی ملک کی سربراہ کوئی عورت نہیں ہوسکتی ، غالباًاسی وجہ سے ان کا منہ بند کرنے کے لئے بینظیر بھٹو بلیک میل ہو کر بار بار مولانا کو پرمٹ دیتی رہی اور اسی نسبت سے ان کی کنیت مولانا ڈیزل اورمولانا پرمٹ کی جانے لگی۔ ہم سوچ رہے تھے کہ ملک کے لئے کس قدر شرم کامقام ہے کہ ہم مذہبی بلیک میلنگ کے خوف سے ایک مذہبی لبادے اوڑھے ہوئے مولوی کو سیاست میں موقع دیتے ہیںاورقیادت بھی سونپ دیتے ہیں۔