وائرس کی نئی لہر اور ویکسین کی دوڑ

346

امریکہ میں موسم سرما کی تعطیلات میں کرونا کے خطرات کے باوجود لوگ بڑی تعداد میں ہوائی سفر کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے گھروں میں یا عزیزوں کے ساتھ کرسمس اور نئے سال کے تہوار منا سکیں۔ جمعے اور ہفتے کو 10 لاکھ سات ہزار لوگوں نے ہوائی سفر کیا۔ ہوائی جہازوں پر سفر کرنے کی یہ شرح پچھلے سال کے مقابلے میں 60 فی صد کم ہے۔ لیکن اس سال کے شروع میں امریکہ میں کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد کے رجحانات کے مقابلے میں یہ شرح زیادہ ہے۔کرونا 900ارب ڈالرز کا ریلیف پیکج کا بھی اعلان کردیا ہے۔ اس امدادی پیکج کے تحت بالغ افراد اور بچوں کو 600 ڈالرز کے حساب سے براہ راست دئیے جائیں گے۔
امریکہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں کرونا وائرس کی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہو چکا ہے اور کئی ملکوں میں کچھ ممکنہ ویکسینز کی آزمائش جاری ہے۔ پاکستان میں بھی ایک ویکسین آزمائشی مرحلے میں ہے۔ چین سے آنے والی یہ ویکسین ہزاروں رضا کاروں کو لگائی جا چکی ہے۔ امریکہ میں میڈیکل سٹاف کو کورونا وائرس سے بچائو کی ویکسین لگنی شروع ہو گئی ہے لیکن عام عوام تک پہنچنے میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔فائزر’ کے بعد ‘موڈرنا’ دوسری کمپنی ہے جس کی ویکسین کو امریکی حکام نے کرونا وائرس کے وبائی مرض کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر استعمال کی اجازت دی تھی۔امریکہ دنیا میں کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک ہے اور اب تک جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادو شمار کے مطابق اس موذی مرض کے ایک کروڑ اور 76 لاکھ کیس سامنے آ چکے ہیں جب کہ تین لاکھ 16 ہزار امریکی ہلاک ہو چکے ہیں۔ جنوری کے پہلے ہفتے تک دونوں کمپنیوں سے حاصل کی گئیں ویکسینز کی دو کروڑ خوراکیں ریاستوں کو پہنچا دی جائیں گی۔ دنیا کے امیر ممالک نے ان ویکسینز کے تجربات کے نتائج سے بھی پہلے ان کے حصول کے معاہدے کر لیے تھے۔پاکستان نے چین سے ویکسین کا معاہدہ کر رکھا ہے۔ اس وقت پاکستان میں چین میں تیار کردہ ویکسین اے ڈی فائیو نوول کورونا وائرس ویکسین کے ٹرائل جاری ہیں۔ پاکستان میں ویکسین کے کامیاب تجربہ اور پھیلائو سے قبل ہی عوام کو ویکسین سے متعلق منفی پروپیگنڈا سے گمراہ کیا جا رہا ہے۔۔ وزیراعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کہتے ہیں ویکسین کے منفی پروپیگنڈے کی طرح کرونا ویکسین کے بارے میں بھی پاکستان میں منفی پروپیگنڈا ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول کرونا کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اسکولوں کی بندش سمیت، شادی ہالز میں ان ڈور سرگرمیوں کی بندش جیسے اہم اقدامات کیے گئے۔ لہذٰا ان اقدامات سے وائرس کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملی۔ اُن کے بقول ایک جانب حکومت وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے کوشاں ہے، لیکن دوسری جانب جلسوں کی وجہ سے وائرس پھیلنے کے خطرات ہیں جس سے کیسز کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنے معروضی حالات، معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے ویکسین سے متعلق اپنی پالیسی بنائے گا۔۔۔امریکہ میں بھی ایک طبقہ ویکسین لگوانے کے حق میں نہیں، میڈیکل عملہ کو ویکسین لگ رہی ہے اور عوام بھی بے چینی سے منتظر ہیں۔کرونا وائرس ویکسین کی پہلی خوراکیں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا میں دی جانے لگی ہیں، لیکن ایک نئی تحقیق کے مطابق دنیا کی ایک چوتھائی آبادی تک ویکسین 2022 تک ہی پہنچ پائے گی۔۔ برطانیہ میں کرونا سے بچائو کی ویکسین لگائی جا رہی ہے جبکہ مزید وائرس’’میوٹیٹ‘‘ کر رہا ہے،یورپی ممالک نے برطانیہ کیلئے پروازیں معطل کردیں، برطانوی وزیراعظم نے کہاہے کہ نئی قسم سے منتقلی کی شرح 70 فیصد زیادہ ہو سکتی ہیتاہم عالمی ادارہ صحت نے کہا کہ صورتحال کاجائزہ لے رہے ہیں۔ماہرین کو خدشہ ہے یہ نئی دریافت بھیانک ہوسکتی ہے، جو برطانیہ کے مختلف علاقوں میں تیزی سے پھیل بھی رہی ہے۔ جنوب مشرقی برطانیہ اور لندن میں اس نئی بیماری کے ہزاروں کیسز رپورٹ بھی ہوچکے ہیں، سائنس دان ابھی نئی قسم کی اصل جڑ تک نہیں پہنچ سکے ہیں۔یورپ کے تمام ممالک برطانیہ کیساتھ زمینی، فضائی اور بحری سفری پابندیاں لگانے والے ہیں۔