بھارت کے ایما پر کن جماعتوں نے کالا باغ ڈیم نہیں بننے دیا ؟(دوسری قسط)

260

۱۔ بھارتی منصوبہ کی پہلی شق کے مطابق ، بھارت نے پاکستان کے کئی سیاستدانوں کو چناجو کسی نہ کسی وجہ سے عوام میں کامیاب تھے ، لالچی بھی تھے اورافواج پاکستان سے بھی نالاں تھے۔ ان میں سر فہرست اے این پی کے سیاستدان، مہاجر موومنٹ کے الطاف بھائی، پی پی پی کے زرداری اور نواز لیگ کے سر غنہ نواز شریف شامل تھے۔اے این پی تو سرحدی گاندھی کی وجہ سے ہی پاکستان سے نالاں تھی۔الطاف حسین سمجھتا تھا کہ مہاجروں کو پاکستان نے انکا جائز حق نہیں دیا۔ پی پی پی فوج کے خلاف بھٹو کو پھانسی دینے کی وجہ سے تھی۔ نواز شریف کو فوج سے خدا واسطے کا بیر تھا جسمیں ایک بڑی وجہ اس کی جلا وطنی تھی جو جنرل پرویز مشرف کی وجہ سے ہوئی تھی۔نواز شریف کے بارے میں سب جانتے تھے کہ وہ کس طرح بھارت نوازی کرتا رہا ہے ۔ حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں نواز شریف کی اصلیت پر سے پردہ اٹھایا۔اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم کو معتبر ذرائع سے یہ معلومات ملی ہیں۔
وزیر اعظم عمران خان نے اپنے حالیہ بیان میں کہا کہ نواز شریف، بھارت کے ایما پرافواج کو بد نام کر کے ایک نہایت خطرناک کھیل کھیل رہے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایک جمہوری نظام میں کسی بھی شخص کی اخلاقی جرأت ہی تو ہوتی ہے جو کہ نواز شریف میں نہیں تھی اور اس وجہ سے افواج پاکستان اس کے ساتھ نہیں تھیں۔ شریف صاحب نے بتایا تھا کہ جب وہ سری لنکا کے دورے پر تھے تو جنرل پرویز مشرف نے انکو بتائے بغیرکارگل پر حملہ کیا۔ اگر انکی جگہ میں ہوتا تو میں فوج کے سپہ سالار کو فارغ کر دیتا کہ اس نے کیوں مجھے بتائے بغیر اتنا بڑا قدم اٹھایا۔فوج ہمیشہ میرے ساتھ رہی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ نواز شریف کو، جنرل قمر باجوہ سمیت، جن کو انہوں نے خود تعینات کیا تھا، سب فوج کے سپہ سالاروں سے اختلاف کرتے رہتے تھے۔ نواز شریف میں جمہوریت نام کی بھی نہیں تھی۔ انہیں تو سیاست میں لانے والی بھی فوج ہی تھی۔وزیر اعظم نے کہا کہ فوج کو بدنام کر کے نواز شریف اچھا نہیں کر رہے۔ الطاف حسین نے بھی یہی کھیل کھیلاتھا۔ مجھے سو فیصد یقین ہے کہ بھارت نواز کی اعانت کر رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ فوج کو کمزور کرنے میں کس کو دلچسپی ہو سکتی ہے سوائے ہمارے دشمن بھارت کے؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ چندبیوقوف آزاد خیال لوگ ہیں جو نواز کے بیانیے سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم ایل نون کے سرغنہ، فوج پر حملے کر کے ایک فتنہ کو ہوا دے رہے ہیں۔ نواز شریف لندن میں بیٹھ کر جن لوگوں سے ملاقاتیں کر رہا ہے اور پاکستان کے خلاف سازشیں کر رہا ہے ،ہمیں ان کا پتہ ہے۔بھارت پاکستان میں فتنہ فساد چاہتا ہے اس لیے شعیہ ۔سنی کو آپس میں لڑوانا چاہتا ہے۔ہمیں تین مہینے پہلے معلوم تھاکہ بھارتی شعیہ اور سنی علماء قتل کروانا چاہتے تھے۔ خدا کا شکر ہے کہ ہمارے اداروں نے ان دہشت گردسازشیوں کو پنجاب میںپکڑ لیا۔
۲،اکتوبر 2020 کی ڈان میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق،جب نریندر مودی نے لاہور میں نواز شریف کے گھر تشریف آوری کی تو ا س سے پاکستان کو کچھ نہیں ملا۔ حقیقت یہ تھی کہ بھارت کے سٹیل کے بادشاہ ،جندال، افغانستان میں لڑائی کے بعد چھوڑے ہوئے جنگی ساز و سامان کو بھارت پہچانا چاہتا تھا۔ نواز شریف اور اس کے بیٹوں کے بھارتی بزنس مینوںکے ساتھ کئی سودے تھے۔جو نواز شریف نے اپنی پوزیشن کی وجہ سے بنا رکھے تھے۔ پاکستان کے خلاف ان کالے دھندوں میں زرداری اوراے این پی بھی شامل تھے۔ نریندر مودی نے نواز شریف کو یقین دلا دیا تھا کہ پاکستانی فوج ان کی مشترک دشمن ہے۔ اور دوسری طرف ایم کیو ایم، اے این پی اور پی پی پی نے کا لا باغ ڈیم نہیں بننے دیا جو پاکستان کو پانی کا بم مارنے کے مترادف تھا۔اے ایم پی نے چابکدستی سے پاکستان ریلوے کو نا کارہ بنایا۔اس کا سہرا غلام احمد بلور کے سر ہے جب پی پی پی کی حکومت تھی۔ ایم کیو ایم نے نظم و نسق کو تباہ کیا جس سے پاکستان کی اقتصادی حالت کو سخت نقصان ہوا۔اور بھارتی حکمت عملی کو فائدہ جو کراچی میں خونریزی سے ہوتا تھا۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سیاستدانوں نے بھارت سے بغیر کثیر فوائدحاصل کیے (جو نقد اور اسکے علاوہ بھی ہوں گے) پاکستان سے دشمنی کی؟ الطاف حسین کے بارے میں معلوم ہے کہ کس طرح بھارت اس کے نو جوانوں کو کراچی سے بُلا کر دہشت گردی کی تربیت دیتا تھا اور اسلحہ مہیا کرتا تھا۔ الطاف حسین کو لندن میں بھی بھاری رقومات دی جاتی تھیں۔ کراچی کی اقتصادی حالت کو تباہ کر کے بھارت پاکستان کی معیشت کو کمزور دیکھنا چاہتا تھا۔ایک اور بھارتی سفارت کا ر، پربھو دیال نے اپنی کتاب ’’کراچی حلوہ‘‘ میں بھارتی سفارت خانے کی کرتوتوں کا ذکر کیا تھا (1982-1985)۔ جن میں مہاجروں کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے، بھارت کونصلیٹ کے کراچی کے دفتر کو ہدایات تھیں کہ مہاجروں کو انڈیاجانے کے لیے ویزے آسانی سے دئیے جائیں۔’’ انہیں فراخ دلی سے دیئے گئے ویزوں کی پالیسی کے تحت الطاف کے سینکڑوں کارکنوں کو بھارت لے جا کر نشانہ بازی، فتنہ فساد، بھتہ خوری، بلیک میلنگ، چائینہ کٹنگ، اور بد امنی پھیلانے کی تربیت دلوائی۔‘‘ اس راقم کی رائے میں، اسی دوران، الطاف حسین کو پاکستان کے خلاف ، اور خاص طور پر پاکستانی فوج کے خلاف ، اکسایا گیا۔اسے سکھایا گیا کہ کیسے اپنے کار کنوں کو فوج کی طرح سیکٹروں میں پورے ڈسپلن کے ساتھ تیار کرو۔ اس کو بغاوت کرنے کی با قاعدہ تربیت دی گئی، جو بھارتی سفارت خانے کی اور (RAW) کی اعانت اور مالی امداد سے کی جاتی تھی۔
۲۔ ممبئی اور دوسرے دہشت گردی کے واقعات کا بدلہ لینے کے لیے پاکستانی اور افغانی طالبان اور غریب نو جوانوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا۔ اس کام کے لیے RAW کا بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلانا ،اس میں ملوث نو جوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دینا ، اہداف دینااور وسائل مہیاکرناتھا۔ یہ کوششیں کئی سال سے جاری تھیں۔ مختلف گروہ بنتے بگڑتے رہے۔ سن 2000 بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اسی سال22 جولائی کو کوئیٹہ کی مارکیٹ میں بم چلایا گیا جس سے 7 افراد ہلاک ہوئے اور25 زخمی۔ انکا آخری حملہ23نومبر2018ء میں چائینیز سفارت خانہ کراچی میں کیا گیا جس میں سات افراد مارے گئے۔
BLA ایک قومیت پرست مزاحمت کاروں کا گروہ تھا۔ جو زیادہ تر مری اور بگتی قبائل کے افراد پر مشتمل تھا۔ جن کا مقصد پاکستان کی حکومت سے لڑ کرصوبہ کی خود مختاری کے لیے زیادہ رعائتیںلینا تھا۔ اس گروہ نے ہر قسم کے ہتھیاروں جیسے نہفتہ بم، گولہ باری، نسل کشی، اور چھوٹے ہتھیاروں سے پاکستان کے حکومتی اہل کاروں، پنجابیوں اور غیر ملکی کارکنوں کو نشانہ بنایا۔ اس گروہ کے مطالبوں میں خود مختاری کے علاوہ بلوچستان کے لیے زیادہ وسائل ، اور بلوچستان کے قدرتی وسائل کو ہاتھ نہ لگانا شامل تھے۔سن 2005 میں اس گروہ نے صدر پرویز مشرف کی قیام گاہ کیمپ کوہلو پر حملہ کیا، جسے صدر کی ذات پر حملہ بتایا گیا اور جوابی کاروائی میں پاکستان کے علاوہ یو کے اور امریکہ میں اس گروہ کو دہشت گرد قرار دیا گیا اور سرکاری سیکیورٹی کے اداروں نے اس گروہ کے خلاف کاروائی شروع کر دی اور اسی میں سردار اکبر بگتی ایک حملہ میں مارے گئے۔ اور کچھ دیر بعد میر بلوچ مری بھی مارے گئے۔2014ء میں اس گروہ میں اختلافات کی وجہ سے ایک نیا مخالف دھڑا بن گیا۔ اپریل 2017 میں حکومت نے جنگ بندی کا اعلان کیا اور500 مزاحمت کاروں نے ہتھیار پھینک دیئے۔ اس گروہ کو چین اور پاکستان کے تعاون سے بننے والے ترقی کے منصوبوں پر سخت اعتراض ہے (جو بھارت کی ہدایات ہیں)۔2018 میں ایک نیا گروہ پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کے نام سے بنایا گیا جس کا مقصدبلوچستان اور کے پی کے صوبوں میں عسکری اورریاستی تشدد سے شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اور دیگر سماجی کام کرنا ہے۔
بلوچستان کی آبادی مسلمان ہے، اس کا بھارت سے کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ وہ قدرتی طور پر پاکستان کا حصہ ہے۔اور رہے گا۔ پاکستان کی فوج اور حکومتوں نے گمراہ گروہوں کو قابو میں لانے کے لیے بہت سی جانوں کی قربانیاں دیں اور بلوچستان کے عوام کے لیے زیادہ سے زیادہ وسائل مہیا کئے، جن سے حالات کافی بہتر ہوگئے لیکن بھارتی ایجنٹ ابھی بھی کچھ عناصر کو بہکا کر دہشت گردی کے واقعات کرواتے رہتے ہیں۔بلوچستان بطور ایک صوبہ کے ملک کے جمہوری نظام کا با قاعدہ حصہ ہے۔ اس کو وہ تمام حقوق اور وسائل مہیا ہیں جو دوسرے صوبوں کو ہیں۔ بلوچستان کے نمائیندے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بیٹھتے ہیں۔ان کو جو شکایات ہوں ان کا ذکر اعلیٰ سے اعلیٰ سطح پر کیا جا سکتا ہے۔ بھارت کافی حد تک اپنے مکروہ عزائم میں ناکام ہو چکا ہے۔ اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ بھارت کو پاکستانی عسکری قیادت ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ پاکستان کو بلو چستان کے بارے میںبھارتی سازشوں سے ہر وقت خبردار رہنا پڑے گا، کیونکہ یہ ہمسایہ ملک کمینہ، سازشی اور دھوکہ باز ہے۔ اور اسکی حرکات جاری و ساری ہیں۔
ہمارے بیان کو پاکستانی انگریزی کے اخبار (The News, 14 Dec 2020) کی تازہ رپورٹ سے تائید ملتی ہے۔ جس کے مطابق، بھارت پندرہ سال سے بلو چستان میں علیحدگی کی مہم ـ’’Destabilize Balochistan ‘‘ پر کام کر رہا ہے۔ اور جب سے پاکستان نے سی۔پیک پر کام شروع کیا ہے بھارت نے اپنی سر گرمیاں تیز کر دی ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ بلوچ مزاحمت کار چین کے خلاف ہیں۔ بھارتیوں نے افغانستان میں دس کیمپ بنا رکھے ہیں جہاں دہشت گردوں کو پاکستانی فوج کے خلاف لڑنے کی تربیت دی جاتی ہے۔اور یہ افغانستان سے آ کر فوجی ٹرکوں اور بسوں پر حملے کرتے ہیں۔ چینی سفارت خانے اور کارکنوں پر سب حملہ بھارت نے کروائے۔کراچی کے سٹاک ایکسچینج پر حملہ بھی انہیں لوگوں کی کارستانی تھی۔بھارتی، افغانستان میںانتہا پسند اور کٹر ملاوؤں کو جو پاکستان کے خلاف ہیں، مالی امداد دیکر دہشت گرد بھرتی کرتے ہیں۔بھارت ہر پاکستان مخالف شخص اور گروہ کو بھارت میں بلا کر پیسہ اور ہدایات دیتا ہے کہ وہ کس طرح پاکستان میں تخریب کاری کریں۔ ان کے علاوہ بھارتی را اور فوجی افسروں کو بھی پاکستان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے جس کی ایک مثال کلبھوشن یادیو ہے۔ ان حرکات کے افشاء ہونے سے بھارت کی عالمی ساکھ مٹی میں مل گئی ہے۔(باقی آئیندہ)