جب سے کورونا وائرس نے عالمی وبا کی شکل اختیار کی ہے اس وقت سے ہی متعدد ٹیکنالوجی کمپنیاں وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے سرگرم دکھائی دے رہی ہیں۔ متعدد کمپنیوں کی جانب سے جدید ماسک تیار کیے جا رہے ہیں تو وہیں کچھ کمپنیاں ایسی پروڈکٹس بھی پیش کر رہی ہیں جس سے جراثیم کا پھیلاؤ کافی حد تک کم ہو سکتا ہے۔ اب حال ہی میں معروف کورین ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ نے ایک ایسی پروڈکٹ پیش کی ہے جو کہ آپ کے کپڑے سینیٹائز کر کے اسے جراثیم سے پاک کر دے گی۔ سام سنگ کی جانب سے ‘ائیر ڈریسر’ پیش کیا گیا ہے جو کہ ایک پورٹ ایبل وارڈروب کی طرح ہے اور یہ آپ کے کپڑے سینیٹائز کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بھی پڑھیں خبردار، صرف ایک مس کال سے بھی آپ کا موبائل فون ہیک ہوسکتاہے 2020: پاکستان میں گوگل پر سب سے زیادہ کونسے اسمارٹ فونز سرچ کیے گئے؟ کیا ایپل کا مذاق اڑانے والی کمپنی بھی فون کے ساتھ چارجر نہیں دے گی؟ اس پروڈکٹ میں ‘جیٹ اسٹیم’ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ سام سنگ نے دعوی کیا ہے کہ ان کی یہ پروڈکٹ آپ کے کپڑوں کو 99 اعشاریہ 9 فیصد تک وائرس اور بیکٹیریا سے پاک کر سکتی ہے جبکہ یہ دیگر مضر مادوں کا بھی خاتمہ کرتا ہے۔ سام سنگ کے فرج کی طرح دکھنے والے ائیر ڈریسر میں ایک اور خاص بات بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ یہ آپ کے کپڑوں میں کسی بھی طرح کی بدبو کو بھی ختم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ سام سنگ کی یہ پروڈکٹ صارفین آن لائن یا سام سنگ کے اسٹورز سے 1500 ڈالرز میں حاصل کی جا سکتی ہے۔

327

اوریگون: امریکی سائنسدانوں نے میانمار (برما) سے ایک ایسے پھول کا رکاز دریافت کرلیا ہے جو 10 کروڑ سال قدیم ہونے کے باوجود صحیح سلامت ہے کیونکہ یہ ایک شفاف عنبر کے ٹکڑے میں قید ہے۔

اگرچہ یہ دریافت میانمار میں عنبر کی ایک کان سے ہوئی ہے جو شمالی نصف کرے میں خطِ استوا کے قریب ہے، تاہم جس وقت یہ پھول وجود میں آیا تھا تب خود میانمار کا یہ پورا علاقہ ہی قطب جنوبی کے قریب واقع تھا اور ماضی کے عظیم الشان براعظم ’’گونڈوانا لینڈ‘‘ کا حصہ تھا۔

واضح رہے کہ عنبر سے مراد کسی درخت یا پودے سے خارج ہونے والی وہ قدرتی اور گاڑھی رال ہے جو کھلی فضا میں پہنچ کر جم جاتی ہے اور ایک شفاف پتھر جیسی صورت اختیار کرلیتی ہے۔

اگر رال خارج ہوتے وقت کوئی کیڑا مکوڑا وغیرہ اس کی زد میں آجائے تو وہ بھی اس کے اندر قید ہوجاتا ہے اور وقت کے اثرات سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ یعنی لاکھوں کروڑوں سال تک اس کے اجزاء اور خد و خال محفوظ حالت میں رہ سکتے ہیں۔

میانمار سے دیافت ہونے والا پھول، جسے ’’والویلوکیولس لیرسٹامینیس‘‘ (Valviloculus pleristaminis) کا سائنسی نام دیا گیا ہے اسی طرح کی ایک مثال ہے۔

بظاہر یہ آج کے اس پھول کی طرح دکھائی دیتا ہے جسے ’’کرسمس فلاور‘‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ نہ صرف دس کروڑ سال قدیم ہے بلکہ موجودہ کرسمس فلاور سے قدرے مختلف بھی ہے۔

یہ ایک ’’نر پھول‘‘ ہے جس کی چوڑائی صرف دو ملی میٹر ہے لیکن پھر بھی اس میں ’’مردانہ تولیدی حصوں‘‘ یعنی ’’اسٹیمنز‘‘ کی تعداد 50 کے لگ بھگ ہے جو کسی چکر دار سیڑھی کی طرح نظر آتے ہیں۔ علاوہ ازیں اس کے اینتھر (زیرہ دان) کا رُخ بھی اوپر کی سمت ہے۔

اگرچہ یہ معدوم پھول کی ایک بالکل نئی قسم ہے لیکن اس سے پھول دار پودوں کے ارتقاء سے متعلق بحث ایک بار پھر گرم ہوگئی ہے۔

ارتقائی ماہرین کا کہنا ہے کہ پھول دینے والے پودے آج سے 14 کروڑ سال سے لے کر 25 کروڑ سال پہلے کے درمیان کسی وقت وجود میں آئے تھے۔ اب تک پھول دینے والے پودوں کے جو رکازات ہمیں دستیاب ہوسکے ہیں، وہ زیادہ سے زیادہ 13 کروڑ سال قدیم ہیں۔