فرانس اوراٹلی میں 34 افراد کورونا کی نئی قسم سے متاثر

306

ڈنمارک میں 33 افراد کورونا وائرس کی نئی قسم سے متاثر ہوئے ہیں، جو برطانیہ میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ڈنمارک کے اسٹیٹ سیرم انسٹی ٹیوٹ کے حکام کا کہنا تھا کہ یہ کیسز 14 نومبر سے 14 دسمبر کے درمیان کیے گئے ٹیسٹ سے سامنے آئے ہیں۔

پہلی لہر میں ڈنمارک میں 7 ہزار 805 کیسز رپورٹ ہوئے تھے اور مثبت کیسز کی شرح اعشاریہ 4 فیصد تھی۔

خیال رہے کہ نیا کورونا وائرس برطانیہ میں 56 فیصد زیادہ تیزی سے پھیلنے لگا ہے۔

ماہرین کے مطابق نیا کورونا وائرس پرانے وائرس سے زیادہ خطرناک ہو رہا ہے اور برطانیہ میں یہ وائرس 56 فیصد زیادہ تیز رفتاری سے پھیل رہا ہے۔

نئی تحقیق میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ نیا کورونا وائرس برطانیہ میں زیادہ اموات کا سبب بن سکتا ہے تاہم یہ ابھی یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ نیا وائرس پرانے وائرس کے مقابلے میں کم یا زیادہ مہلک ہے

ماہرین کا کہنا ہے کہ وائرس سے اسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ بڑھے گا ۔  نومبر میں کیا گیا لاک ڈاون بھی کورونا کیسز میں کمی کا سبب نہیں بن سکا۔ دوسری جانب

فرانس میں برطانیہ سے آنے والے نئی قسم کے کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے۔

واضح رہے کہ سارس کووڈ وائرس ٹو کی جینیاتی طور پر اس تبدیل شدہ شکل کو سائنس دانوں نے بی ون ون سیون کا نام دیا ہے۔

ستمبر میں انگلینڈ میں سامنے آنے والے اس وائرس میں جینیاتی طور پر 23 تبدیلیاں یعنی میوٹیشنز نوٹ کی گئی ہیں، یہ 50 سے 70 فیصد زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے مگر امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ محض اس لیے بھی ہو سکتا ہے کہ یہ گنجان آبادی میں رہنے والوں کو لاحق ہوا ہو جن سے وائرس پھیلنا نسبتاً  آسان ہوتا ہے۔