احتجاج، جلاؤ گھیراؤ، لوٹ مار: امریکہ میں کیا ہو رہا ہے؟ کیوں ہو رہا ہے؟

379

واشنگٹن:

امریکہ میں گزشتہ ہفتے ایک سیاہ فام شہری کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد مظاہروں کا سلسلہ سات روز سے جاری ہے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ میں نسلی تعصب کے معاملے پر بحث ایک بار پھر زور پکڑ گئی ہے۔

امریکہ کے علاوہ دنیا کے مختلف شہروں میں بھی اس واقعے کی مذمت اور اس پر احتجاج ہو رہا ہے۔

امریکہ کی ریاست منی سوٹا کے شہر منیاپولس میں گزشتہ پیر کو 46 سالہ جارج فلائیڈ پولیس کی حراست دم توڑ گیا تھا۔

فلائیڈ کی گرفتاری کے وقت کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ جارج فلائیڈ کی گردن پر پولیس اہلکار نے گھٹنا رکھ کر دباؤ ڈالا ہوا ہے۔

ویڈیو میں جارج فلائیڈ کو مسلسل فریاد کرتے دیکھا جاسکتا تھا کہ اس کا سانس گھٹ رہا ہے، لہذٰا اسے چھوڑ دیا جائے۔ واقعے کی عکس بندی کرنے والے راہ گیروں نے بھی فلائیڈ کے اوپر سوار پولیس اہلکار سے ہٹنے کی بارہا درخواست کی تھی لیکن پولیس اہلکار ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ کچھ دیر بعد فلائیڈ بے ہوش ہو گیا تھا جس کے بعد موقع پر پہنچنے والی ایمبولینس اسے لے گئی تھی اور بعد ازاں فلائیڈ کی ہلاکت کی خبر آئی تھی۔

جارج فلائیڈ کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی ویڈیو منظرِ عام پر آنے کے بعد ابتداً منیاپولس شہر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا جو اب پورے امریکہ میں پھیل گیا ہے۔

مظاہرین نے ریاست منیاپولس کے مختلف علاقوں میں زبردست احتجاج کیا تھا جس پر بعض مقامات پر پولیس نے طاقت کا بھی استعمال کیا تھا اور مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں اور آنسو گیس کی شیلنگ کی تھی۔

اس دوران مشتعل مظاہرین نے منیاپولس کے ایک پولیس اسٹیشن کو بھی نذرِ آتش کر دیا تھا۔

واقعے کے بعد حکام نے فلائیڈ کو گرفتار کرنے والے پولیس اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا تھا۔ لیکن مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ فلائیڈ کی گردن پر سوار ہونے والے پولیس اہلکار کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے۔

پولیس کے مطابق جارج فلائیڈ منیاپولس کے ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور سے 20 ڈالر کے جعلی نوٹ پر خریداری کرنا چاہتا تھا۔ شکایت ملنے پر پولیس نے اسے حراست میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن اس کی مزاحمت پر پولیس اہلکاروں کو طاقت استعمال کرنا پڑی تھی۔ منیاپولس کی پولیس نے کہا تھا کجہ یہ واقعہ حادثاتی تھا اور پولیس اہلکاروں کا فلائیڈ کو جان سے مارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

بعد ازاں احتجاج میں شدت آنے اور واقعے پر امریکہ بھر میں شدید غم و غصے کے اظہار کے بعد بالآخر منیاپولس کی مقامی انتظامیہ نے جمعے کو فلائیڈ کی گردن پر گھٹنا رکھنے والے پولیس اہلکار ڈیرک چاون کے خلاف ‘تھرڈ ڈگری قتل’ کا مقدمہ درج کرلیا تھا۔

‘تھرڈ ڈگری مرڈر’ سے کیا مراد ہے؟

تھرڈ ڈگری قتل سے مراد یہ ہے کہ متعلقہ پولیس اہلکار کی جارج فلائیڈ کو قتل کرنے کی نیت نہیں تھی اور یہ قتل اہلکار کی غلطی سے ہوا۔ لیکن اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ پولیس اہلکار نے انتہائی غیر ذمہ دارانہ عمل کیا اور اس کے نزدیک انسانی زندگی کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ اس نے متاثرہ شخص کی زندگی کو کوئی اہمیت نہیں دی جس سے وہ ہلاک ہو گیا جو ایک طرح سے اقدامِ قتل کے زمرے میں آتا ہے۔

فرسٹ اور سیکنڈ ڈگری قتل کی دفعات میں نیت کا عمل دخل ہوتا ہے کہ مذکورہ شخص نے کسی دوسرے شخص کو مارنے کی نیت سے اُس پر تشدد کیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی پولیس اہلکار کے خلاف اتنی تیز رفتاری سے کارروائی کرتے ہوئے تھرڈ ڈگری قتل کا الزام عائد کیا گیا ہو۔