بالغ عورت پسند کی شادی،مذہب تبدیل کرنے میں بااختیار ہے، بھارتی عدالت

291

کلکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ بالغ عورت اپنی پسند کی شادی اور مذہب تبدیل کرنے میں بااختیار ہے اور کوئی بھی عدالت اس میں مداخلت نہیں کر سکتی ہے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ پر مشتمل ججز سنجیب بینر جی اور اریجیت بینر جی نے یہ فیصلہ نادیہ ضلع کے گاؤن درگاپور کے رہائشی کی جانب سے  بیٹی کی گمشدگی کا پتہ لگانے سے متعلق درخواست کی سماعت کے بعد سنایا ہے۔

بھارتی شہری نے درخواست میں کہا تھا کہ اس کی 19 سالہ بیٹی 15 ستمبر کو یہ کہتے ہوئے چلی گئی تھی کہ وہ بینک جارہی ہے اور اگلے دن اسے معلوم ہوا کہ اس کی بیٹی نے مذہب تبدیل کیا ہے اور مسلمان نام اپنا ہے اور مسلمان سے شادی کی ہے۔

درخواست گزار نے الزام لگایا تھا کہ اس کی بیٹی کو یا تو اس پر مجبور کیا گیا ہے یا لال دیکر اس سے شادی کی گئی ہے۔