عالمی رہنماؤں کی ایران کو جوہری معاہدے کو بچانے کا موقع ضائع نہ کرنے کی تجویز

340

برلن: ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق 2015 کے معاہدے کو زندہ رکھنے کی کوشش کرنے والے ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جو بائیڈن انتظامیہ کے تحت معاہدے میں امریکی واپسی کے امکان کو مثبت طور پر حل کیا جائے۔

جرمنی کے وزیر خارجہ نے ایران پر زور دیا کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ کرے جو اسے آخری ونڈو کہتے ہیں۔

معاہدے کے بارے میں فریقین کے درمیان وزرائے خارجہ کی سطح پر ورچوئل اجلاس امریکا کے ایران پر دباؤ اور تہران کی معاہدے کی خلاف ورزی کے تنازع کے ایک سال بعد سامنے آیا۔

دیگر ممالک، جرمنی، فرانس، برطانیہ، چین اور روس، جنہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کیے تھے وہ 2018 میں امریکا کے یکطرفہ معاہدے کو ختم کرنے کے بعد اسے مکمل طور پر اختتام سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تینوں یورپی قوتوں نے اُمید ظاہر کی ہے کہ واشنگٹن میں انتظامیہ کی تبدیلی کے ساتھ ہی امریکا کو اس معاہدے میں واپس لایا جاسکتا ہے جس کا مقصد ایران کو ایٹمی بم بنانے سے روکنا ہے جس کے بارے میں تہران نے کہا ہے کہ وہ ایسا نہیں کرنا چاہتا۔

صدر منتخب جو بائیڈن نے کہا کہ وہ اُمید کرتے ہیں کہ امریکا اس معاہدے میں واپس آئے گا جس پر مذاکرات اس وقت کیے گئے تھے جب وہ نائب صدر تھے۔

اس میں مزید پیچیدگیاں اس وقت پیدا ہوئیں کہ جب ایران اس معاہدے میں طے شدہ بیشتر بڑی پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے جس میں اجازت دی گئی یورینیم کی افزودگی کی بحالی بھی شامل ہے۔

اجلاس کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ اس معاہدے کے شرکا، جو جے سی پی او اے کے نام سے جانے جاتے ہیں، نے معاہدے کو برقرار رکھنے کے اپنے عزم پر ایک بار پھر زور دیا اور اس حقیقت پر تبادلہ خیال کیا کہ جے سی پی او اے کے مکمل اور مؤثر نفاذ سب کے لیے اہم ہے۔