قائدِ اعظم اور یہ چھٹ بھیے!

285

معلوم نہیں عمران خان کو اس کا شعور ہے کہ نہیں کہ اب پانی سر سے اونچا ہوگیا ہے! عمران کی حکومت اور اقتدار کو ہم یہ ماننے کو تیار ہیں کہ ان چوروں اور رہزنوں کے جلسوں سے کوئی خطرہ نہیں کیونکہ یہ عوامی اجتماع نہیں بلکہ پاکستان کے لوٹے ہوئے پیسے سے کرائے پر لائے ہوئے جاہلوں اور شرپسندوں کے اجتماعات ہیں جو ملا فضل جیسے منافق اور مفسد کی سربراہی میں کئے جارہے ہیں اور13 دسمبر کو لاہور میں مینارِ پاکستان پر کیا جانے والا تماشہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا اور وہ سب جن کے دل پاکستان کی محبت میں دھڑکتے ہیں انہیں یہ دعا کرنی چاہئے کہ بھانڈوں کا یہ آخری تماشہ ہو!
لیکن قائدِ اعظم علیہ الرحمتہ کی روح آج عالمِ بالا میں بہت مضطرب اور بے چین ہوگی اس ہرزہ سرائی کے بعد جو چوروں اور ملک دشمنوں کی اس منڈلی میں کی گئی ملک کے سب سے بدنام مجرم اور مفرور کو پاکستان بنانے والے کی ذاتِ عظیم سے تشبیہ دیکر!
کالم تو آپ بعد میں پڑھئے گا پہلے وہ ثلاثی پڑھئے جو اس تماشہ کے جواب میں میں نے آج فیس بک پر اپنی دیوار پر لگائی ہے اور اسے پڑھنے کے بعد آپ اس کالم کی روح سے اتفاق کئے بغیر نہیں رہینگے!؎
زعم چوروں کا کہ وہ قائد کے ہمسرہوگئے
الاماں یہ وہم کہ بونے زعیمِ قوم ہیں
وائے پاکستان کہ رہزن مقدر ہوگئے!!
میں نے تو ان تین مصرعوں میں اپنے دل کا غبار نکال دیا لیکن آپ سوچئے کہ وہ چھٹ بھیے جنہوں نے پاکستان کو اس حال پہ پہنچادیا کہ بیچارے عمران کو اس کی صحت کو سنبھالنے اور بحال کرنے میں ناکوں چنے چبانے پڑ رہے ہیں، ان کو یہ جسارت ہوگئی ہے کہ وہ، قد کاٹھ کے بونے اور سیاست کے بالشتیئے اپنے آپ کو بابائے قوم سے ملارہے ہیں اور وہاں قاعدِ اعظم کے ساتھ کھڑے ہونا چاہتے ہیں جہاں ان کا کیا کسی اور کا مقام نہیں!
لاہور میں حکومت کی بار بار اپیل اور درخواست کے باوجود جلسہ کیا گیا، اس حقیقت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے یہ اجتماع ہوا کہ ایسے وقت میں جب پاکستان کے طول و عرض میں کرونا کی وبا انتقامی جذبے کے تحت پلٹ پلٹ کر حملہ آور ہورہی ہے اس پیمانے پر عوام کو ایک جگہ جمع کرنا خطرہ کو دعوت دینا ہے۔
اس سے یہ تو ثابت ہوگیا کہ ان چوروں کو عوام سے اور ان کے مفاد سے یا ان کی زندگیوں سے ذرّہ برابر بھی کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ ان کواپنا مفاد عزیز ہے اور وہ مفاد صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح عمران خان کو بلیک میل کرکے یہ اپنا اُلو سیدھا کرسکیں اور وہ انہیں ویسی ہی سہولت فراہم کردے جیسی مشرف نے این آر او دیکر انہیں پھر سے پاکستان کے سینے پر مونگ دلنے کیلئے مسلط کردیا تھا۔ لیکن ہم پہلے بھی بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ مشرف اور عمران میں اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا قطبِ شمالی کا قطبِ جنوبی سے ہے۔ مشرف کو پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں تھی اور ان کا زاویہٗ نگاہ صرف اپنی ذات تک محدود تھا لہٰذا اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے انہوں نے پاکستان کو بلی چڑھادیا لیکن ان کا اقتدار تو انہی چوروں اور ڈاکووٗں کے ہاتھوں سے ختم ہوا جنہیں اُنہوں نے سیاست میں پھر سے بحال کیا تھا لیکن پاکستان کی گردن پریہ پیرانِ تسمہ پا پھر سے مسلط ہوگئے اور اگرچہ ان کے کالے کرتوتوں نے انہیں قوم کے سامنے بے نقاب کردیا ہے لیکن بے غیرت اب بھی قوم کی جان نہیں چھوڑنا چاہتے۔ بضد ہیں کہ عمران کسی طرح ان کی اس عوامی مقبولیت سے مرعوب ہوجائے اورجو وہ پیسہ، پیسہ بھی حرام کا کمایا ہوا، خرچ کرکے خرید رہے ہیں۔
عمران کا یہ موقف کہ وہ ملک لوٹنے والے ان چوروں اور لٹیروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دینگے لائقِ ستائش ہے لیکن حکومت کی ڈھیل سے ان چھٹ بھیوں کے حوصلے بڑھتے جارہے ہیں۔ کمینے اور کم ظرف کی پہچان یہی ہے کہ وہ شریف انسان کی شرافت کو اس کی کمزوری پر محمول کرتا ہے کیونکہ اس کی اپنی کم ظرفی صرف ڈنڈے کی زبان جانتی اور اسی سے مرعوب ہوتی ہے۔ عمران حکومت کی شرافت اب ان لوگوں کو بھی کمزوری نظر آنے لگی ہے جو عمران کی سچائی پر ایمان رکھتے ہیں۔ ذات کی شرافت اپنی جگہ لیکن قوم و ملک کی سربراہی اور منصبِ اقتدار کی ذمہ داری یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے جائز موقف کو منوائے اسلئے کہ نہ منوانے کی صورت میں اس کا احترام اور قانون کا خوف جاتا رہتا ہے!
عمران اور پنجاب حکومت کا لاہور میں ہونے والے جلسے کے ضمن میں ابتدائی موقف یہ تھا کہ کرونا کی وبا کے جوابی حملے کو دیکھتے ہوئے جلسہ کرنا عوام کی صحت اور کرونا پر قابو پانے کی مہم کے حق میں زہر ہوگا۔ اسی لئے بار بار پی ڈی ایم کے نام سے ملا فضل نے جو بھان متی کا کنبہ جوڑا ہے اس سے اپیل کی گئی کہ جلسہ نہ کرے لیکن شر پسند ملا اور اس کے حواری شرافت کی زبان جانتے ہی نہیں سو وہ اپنے اصرار پہ قائم رہے کہ وہ ہر حال میں جلسہ کرینگے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت بھی اپنی جگہ ڈٹی رہتی اور جلسہ نہ کرنے دیتی لیکن حکومت نے کمزوری دکھائی اور اس کمزوری نے نہ صرف حکومت کی ساکھ کو زک پہنچائی بلکہ چنڈال چوکڑی کو حکومت کے خلاف ہرزہ سرائی کا ایک اور پلیٹ فارم مہیا کیا اور کمینہ فطرتوں نے اس سے بھرپور فائدہ اٹھایا!
نواز شریف کا خطاب اس جلسہ کا کلیدی خطبہ تھا جس سے اس مفرور مجرم نے اپنی اوقات سے بڑھکر فائدہ اٹھایا۔ کم ظرف کی شناخت یہی ہے کہ اسے چھنگلی پکڑائی جائے تو وہ پہنچہ پکڑنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اس موقع پر نواز نے حد ہی کردی۔ شرم تو ظاہر ہے اس میں کہاں سے ہوسکتی ہے جو اپنی گردن بچانے کی خاطر اس حد تک گرجائے کہ اپنی ماں کی قبر کو مٹی دینے سے بھی جان چھڑالے لیکن پاکستان اور اسکے بنانے والے قائدِ اعظم کی ذات اور مقام ہر ماں سے بڑھ کر ہے۔ تو کیوں نہ ہر اس شخص کو غصہ آئے جسے پاکستان سے محبت ہے کہ ایک ایسے بے ایمان اور خائن کو یہ جراٗت ہوگئی کہ وہ اپنے آپ کو بانیٔ پاکستان سے ملا رہا ہے، اسکی یہ مجال کہ کہے کہ جو قائدِ اعظم کا موقف تھا وہی اس بدذات کا بھی ہے!
قائد کا موقف ایمانداری اور وطن پرستی تھا ان کا ایمان پاکستان تھا جبکہ نواز جیسے چور کا ایمان پیسہ اور صرف پیسہ ہے۔ شرم نہیں آتی پاکستان کو لوٹ کر اپنا گھر بھرنے والے چور کو کہ پاکستان کو کنگال کرکے ساری دولت بیرونِ ملک لے گیا اور کہتا ہے کہ اس کے دل میں بھی وہی درد اور محبت ہے پاکستان کیلئے جو قائد کے دل میں تھی!
قائد نے پاکستان کو بنایا تھا اپنا خون پسینہ ایک کرکے اور نواز جیسے چھٹ بھیے نے پاکستان کو لوٹا ہے، دونوں ہاتھوں سے اور ایسی بیدردی سے کہ کوئی پاکستان دشمن بھی لوٹنے سے پہلے سوچے گا۔ لیکن آج وہی ڈاکو یہ کہہ رہا ہے کہ اس کے دل میں بھی پاکستان کیلئے وہی محبت ہے جو پاکستان بنانے والے کے دل میں تھی! جھوٹ، سفید جھوٹ۔ اور وہ بھی انگلستان میں بیٹھ کر۔ قائد نے پاکستان کو فرنگی راج سے نجات دلوائی تھی لیکن نواز جیسا کاسہ لیس فرنگیوں کی گود میں بیٹھا ان کو طعنے دے رہا ہے جنہوں نے اس نیم خواندہ کو پاکستانی سیاست میں آنے کا موقع فراہم کیا۔
قائد جمہوریت کے سچے پاسبان تھے جن کی جمہوریت کی بنیادی قدر، یعنی قانون کی پاسداری اور احترام کا یہ عالم تھا کہ پاکستان کے حصول کی طو ل جدو جہد اور صبر آزما مہم میں بھی انہوں نے کبھی قانون کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لیا۔ کسی قانون کو توڑا نہیں۔ کانگریسی لیڈروں کے پرستار اب بھی یہ طعنہ دیتے ہیں کہ محمد علی جناح کبھی جیل نہیں گئے جبکہ گاندھی، نہرو، مولانا ابوالکلام آزاد وغیرہ وغیرہ آئے دن جیل یاترا کیا کرتے تھے۔ ہمارے اپنے بناسپتی دانشور کچھ ہیں جو قائد کے قد کاٹھ کو گھٹانے کی کوشش میں اس کانگریسی الزام سے اتفاق کرتے ہیں لیکن یہ ان کی کم عقلی اور جہالت ہے جو ان سے کانگریسی راگ گواتی ہے۔ کیوں جاتے قائد جیل، کیوں توڑتے وہ انگریز کا قانون جبکہ انہیں اپنے موقف کی سچائی پر ایمان تھا اور اعتماد تھا اپنی بصیرت اور سیاسی فکر پر کہ وہ پاکستان کے خلاف ہر مزاحمت کو پامال کرسکیں گے اور پاکستان کو حاصل کرکے رہینگے؟ اور پاکستان کے قیام نے، ہر مخالفت کے باوجود، قائد کے موقف کی سچائی پر مہرِ تصدیق ثبت کرکے سب مخالفین کے طعنوں کا منہ بند کردیا!
اور ادھر نواز جیسا کم ظرف ہے جو سیاسی فہم و بصیرت سے عاری ہے، قد کاٹھ کا بونا ہے لیکن پاکستانی قانون کی دسترس سے جعلسازی اور فریب دہی کے ذریعہ ملک سے فرار ہونے والا کہہ رہا ہے کہ وہ قائد کی طرح جمہوریت کا رکھوالا ہے! آگئی خاک کے ذرّہ کو بھی پرواز ہے کیا!
لیکن یہاں یہ کہتے ہوئے بھی دکھ ہوتا ہے کہ پاکستانی عوام کی ایک تعداد ان کی ہے جو آج بھی نواز جیسے بھگوڑے اور قانون توڑنے والے مجرم کو سننے کیلئے تیار ہیں اور عقل و خرد سے بیگانہ ایک چور کو اپنی قیادت کا منصب سونپنے میں انہیں کوئی پریشانی نہیں۔ مومن کی پہچان یہی بتائی گئی ہے کہ وہ ایک بل سے دوبار نہیں ڈسا جاتا لیکن پاکستان میں اب بھی وہ مسلمان ہیں جن کا دعویٰ تو ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ ان سے بڑھ کر کھرا اور سچا مسلمان اور کوئی نہیں لیکن وہ نواز جیسے قانون توڑنے والے کے فریب میں بار بار، ڈسے جانے سے پرہیز نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے لوگوں کو ہم تو سادہ لوح نہیں کہہ سکتے۔ یہ وہ ہیں جو عقل کے اندھے ہیں اور عمران جیسے کھرے، سچے اور دیانت دار رہنما کے مقابل نواز جیسے بے ایمان، خود غرض اور بے ایمان قانون شکن کے فریب کے پردہ کو اب بھی چاک کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ایسے عقل کے اندھے ملک و قوم کی دشمنی کے مرتکب ہوتے ہیں اور ہوتے رہینگے جب تک ان کی آنکھیں بند رہینگی!
أأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأأ