لاہور میں پی ڈی ایم کا ناکام جلسہ، نانی مریم کو استعفیٰ دے دینا چاہیے

358

کسی شاعر نے شاید پی ڈی ایم کے جلسے کیلئے یہ شعر کہا ہو گا؎
بہت شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو ایک قطرۂ خون نکلا!!
۱۳ دسمبر کو آر یا پارہو گا، عمران کی حکومت گر جائے گی، عمران کو گرفتار کر لیں گے، یہ جلسہ تابوت میں آخری کیل ہو گا، عمران ڈر کر بھاگ جائے گا لیکن نہ آسمان پھٹا نہ زمین پھٹی، نہ عمران گرفتار ہوا، وہ تو اپنے کتوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، اس کو پتہ تھا اپوزیشن کے ڈھنگ بھی کتوں ہی والے ہیں، وہ صرف ہڈی کا انتظار کرتے ہیں، یہ کیسی اپوزیشن ہے کہ 11پارٹیاں مل کر بھی گیارہ ہزار آدمی اکٹھا نہ کر سکے، جو غریب آئے بھی وہ دوسرے شہروں سے لائے گئے تھے پتہ نہیں اس میں کتنے کرونا کے مریض تھے جو لاہور میں کرونا پھیلا گئے، نہ جانے کتنے اپنے ساتھ کرونا کولے کر اپنے اپنے شہروں میں چلے گئے، کوئی گوجرانوالہ گیا، کوئی سیالکوٹ گیا، کوئی لاڑکانہ گیا، کوئی خیرپور اپنے ساتھ کرونا لے گیا، ایاز صادق کے گھر لوگ بریانی پر لڑ پڑے، مولانا کے مدرسہ کے لڑکے مجبوراً بسوں میں بھر کرلائے گئے، شدید سردی میں نہ جانے کتنے بیمار ہو گئے، لیکن جلسہ میں آنا یا لانا مجبوری تھا، بھگوڑا نواز شریف جب تقریر کررہا تھا پورا میدان خالی تھا صرف کرسی اور شامیانہ اٹھانے والے اس کی تقریر ختم ہونے کا انتظار کررہے تھے، تین مرتبہ کا وزیراعظم تقریر کررہا تھا جو ملک کے اداروں کو گالیاں دے رہا تھا، دھمکیاں دے رہا تھا، سٹیج پر بیٹھے لوگ اس کا بیان سن رہے تھے اور خاموش تھے، محمود خان اچکزئی شاید پاکستان دشمنی کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، اس نے پنجابیوں کو لاہور میں کھڑے ہو کر یاد دلایا کہ افغانستان کے حوالے سے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، پوری پنجاب کی قیادت مریم سمیت سب سن رہی تھی اور بے غیرت بن کر خاموش تھی، میری ذاتی رائے میں محمود خان اچکزئی کا داخلہ پنجاب میں بند کر دینا چاہیے، جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ کا نعرہ لگانے والے نواز شریف نے پنجاب کو دھوکے باز قرار دینے والے اچکزئی کے متعلق اپنی تقریر میں کچھ نہیں کہا، اپنے سیاسی مفاد کی خاطر لوگ اپنے آپ کو بھی خاموش کر لیتے ہیں، پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے کراچی میں محمود خان اچکزئی نے ناشائستہ جملے بولے جس سے پوری مہاجر قوم کی دل آزاری ہوئی، ایم کیو ایم نے اس پر سخت ردعمل دیا، مصطفی کمال نے محمود اچکزئی کو ان کی اوقات یاد دلائی، کوئٹہ کے جلسے میں اویس نورانی نے آزاد بلوچستان کا نعرہ لگایا لیکن پھرمعذرت کرنی پڑی، اب لاہور میں محمود خان اچکزئی نے پنجاب کے متعلق بیان دیا، ان کے دلوں میں پاکستان سے نفرت عیاں ہے، اسی پاکستان میں رہتے ہیں، اسی پاکستان کا کھاتے ہیں لیکن اسی پاکستان کو گالیاں دیتے ہیں، نہ تو پاکستان کے عوام ایسے لوگوں کا محاسبہ کرتے ہیں اورنہ پاکستان کے دفاعی ادارے ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرتے ہیں۔
نانی مریم نے پی ڈی ایم کے ۱۳ دسمبر کے جلسے سے پہلے بڑے بڑے بیانات دئیے، ۸ دسمبر کو آر یا پار ہو گا کا بیان دیا اس نے لاہور میں کئی کارنر میٹنگز کیں،لوگوں کے درمیان گئیں، ان سے جلسے میں آنے کی درخواست کی لیکن نتیجہ 15سے 20 ہزار آدمی جلسے میں آئے، اس میں بھی اکثریت باہر سے لائے گئے لوگوں کی تھی، لاہور کے لوگوں نے کرونا اور سرد موسم میں آنے سے انکار کر دیا، خود مریم کو بھی سردی لگ رہی تھی جس کااظہار اس نے کئی مرتبہ سٹیج پر کیا، مریم اس جلسے میں بری طرح ایکسپوز ہو گئی، اس کوبھی اندازہ ہو گیا کہ وہ جعلی لیڈر ہے، اس کے اپنے شہر کے لوگ اس کے خلاف ہیں اور اس کی بات کو نہیں مانتے جس شہر میں ن لیگ کے اتنے قومی اسمبلی کے ممبر ہوں، صوبائی اسمبلی کے ممبر ہوں، نچلی سطح پر اتنی بڑی قیادت ہو وہ صرف چند ہزار لوگوں کو جلسے میں لا سکے یہ قابل شرم پرفارمنس ہے۔
بہرحال پی ڈی ایم کا جلسہ بری طرح ناکام ہو گیا، عمران خان کو وہ جس طرح دھمکیاں دے رہے تھے وہ بیکار ہو گئیں، اب مولانا کو لانگ مارچ کی دھمکی دینی پڑی، وہ بھی مولانا شوق سے پورا کر لیں، اس کا انجام بھی پچھلے دھرنے کی طرح ہوگا، بھارت کے ساتھ جو جنگ کی صورت حال ہے وہ ملک میں امن اور یکجہتی کی فضاء چاہتی ہے، کسی بھی وقت بھارت سے جنگ شروع ہو سکتی ہے، اسی لئے فوجی قیادت خاموش ہے اور برداشت کا مظاہرہ کررہی ہے، ورنہ 5آدمیوں کو گرفتار کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے، فوجی قیادت اس وقت ملک میں سکون اور اتحاد چاہتی ہے تاکہ بھارت سے جنگ کے وقت قوم متحد رہے اب کشمیر کی آزادی کا وقت قریب ہے، پوری قوم کو جنگ کے لئے تیار رہنا چاہیے، پی ڈی ایم کی قیادت کو مزید دو سال عمران خان کو برداشت کرنا چاہیے، اسی میں ملک کی بھلائی ہے۔