خبر دار،بھارت انتقام کی آگ میں پاگل ہو گیا ہے!(۱)

452

پاکستانی جانتے ہیں کہ جب سے پاکستان بنا ہے بھارت اسے تباہ کرنے پر تلا ہے۔ یہ دشمنی کشمیر کے تنازعہ سے اور زیادہ پختہ ہو گئی۔ کشمیر کی وجہ سے پہلے ۱۹۴۸ میں اور پھر۱۹۶۵ میں جنگ ہوئی۔ پھر ۱۹۷۱ میں مشرقی پاکستان کی وجہ سے جنگ ہوئی۔ لیکن کسی جنگ میں بھی بھارت وہ کچھ حاصل نہ کر سکا جو پاکستان سے چھ گنا بڑی طاقت ہونے کے ناتے اس کی توقعات تھیں۔تعلقات کشیدہ سے کشیدہ تر ہوتے چلے گئے۔بیچ میں کچھ بھارتی حکمرانوں نے ان تعلقات میں بہتری لانے کی کوشش کی ، لیکن کچھ ایسا ہو گیا کہ تعلقات پہلے سے بھی زیادہ بگڑ گئے۔ ان میں سے ایک بڑا واقع ممبئی کے ہوٹل پر دہشتگردوں کا حملہ تھا جس میں کافی لوگ مارے گئے ، جن میں غیر ملکی سیاح بھی تھے۔ یہ حملہ اتنا خطرناک تھا کہ بھارت پاکستان کی سرحدوں کے اندر لشکر طیبہ کے کیمپوں پر اور دیگر ٹھکانوں پر فضائی حملہ کر سکتا تھا اور اس کے جواب میں ایک اور بڑی جنگ چھڑسکتی تھی۔ لیکن اب پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں بن چکے تھے اور پہلے کی طرح روائیتی جنگ نہیں لڑنا چاہتے تھے۔بھارت کے ایک سول سروس کے اعلیٰ افسر شِو شنکر مینن نے اپنی کتاب’’ چوائسز‘‘ جو ۲۰۱۶ء میں شائع ہوئی ، میں کہا کہ ’’ معاملہ پر ایک سنجیدہ اور وقت گزر جانے کے بعد، سوچتا ہوں کہ پاکستان پر (ممبئی حملہ کے بعد) جنگ نہ کرنے اور سفارتی سطح پر، یا خفیہ اور دوسرے ذرائع سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کا فیصلہ درست تھا جو اس وقت اور جگہ کی مناسبت سے صحیح قدم تھا۔ پاکستان پر حملہ نہ کر کے بھارت کو آزادی مل گئی تھی کہ وہ تمام قانونی اور خفیہ ذرائع سے اپنے مقاصد حاصل کرتا، دہشتگردوں کو انصاف کے کٹہرے تک لاتا، بین الاقوامی برادری کو پاکستان کی اس کی حرکت پرنتایج بھگتنے پر مجبور کرتا، اور یقین دلواتا کہ ایسا حملہ پھر کبھی نہ ہو۔عالمی برادری اس حملہ کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی اور نہ ہی اس پر رد عمل کرنے سے بچ سکتی تھی۔خواہ وہ رد عمل نیم دلانہ ہی ہوتا۔ تا کہ دو ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ملکوں کے درمیان امن ہو سکے۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے لشکر طیبہ کے بڑے عہدیداران کے نام عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دئیے۔اصل کامیابی تو بین الاقوامی برادری کو پاکستان کے خلاف یکجا کرنا تھا جس سے پاکستان دنیا میں اکیلا، بے یار و مدد گار رہ گیا۔اور لشکر پر دہشتگردی کے خلاف جنگ کا دائرہ تنگ اور موثرہو گیا۔ اس کے بعد بھارت کو سعودی عرب ، گلف کی امارات اور چین سے بھی پورا تعاون ملنا شروع ہو گیا۔اور انہوں نے ا ن گروہوں کے خلاف معلومات فراہم کرنا شروع کر دیں۔
غیر ریاستی عوامل اور ان کے سر پرستوں کے خلاف بھارت ایک بڑے پیمانے پر غیر معمولی اقدامات لیتا ہے جن کا مقصد ان کی اوران کے ریاستی سر پرستوں کی اہلیت کو کم کرنا اور ان پرکاری زخم لگانا ہے۔ ہم زمینی اقدامات کو سفارتی پیش رفت سے ملا کر چلتے ہیں۔لیکن اس کا تناسب حالات کے مطابق بدلتا رہتا ہے۔ہم نے انسانی جاسوسی اور تیکنیکل جاسوسی سے اکھٹی کردہ معلومات میں پیش رفت کی ہے اوربھارت کے جاسوسی اداروں اور جاسوسی اداروں کا توڑ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر روابط پیدا کیے ہیں تا کہ وہ قبل از وقت دشمن کے عزائم پر حرکت میں آ سکیں، اور اگر پھر بھی کوئی حملہ ہو جائے ، جو کہ نا گزیر ہے، تو اس پر فوری کاروائی کریں۔ان اقدامات کے نتیجہ میں سرحدوں پر کم از کم عارضی طور پر امن دیکھا گیا ہے۔‘‘
بھارتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی فوج ہمیشہ امن کی راہ میں اور دونوں ملکوں کے درمیان امن کی پیشرفت میں رکاوٹ رہی ہے اور جب بھی کوئی ایسا قدم لیا جاتا ہے پاکستانی فوج کی طرف سے کوئی نہ کوئی فتنہ برپا کر دیا جاتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو کیوں؟ ایک ہی عام فہم وجہ ہو سکتی ہے کہ اگر بھارت اور پاکستان میں صلح ہو جائے تو اتنی بڑی فوج اور اس کے بجٹ کا جوازکیسے دیا جائے گا؟ لیکن ممکن ہے کہ پاکستانی فوج یہ سوچتی ہو کہ اگر سیاستدانوں نے جلدی میں صلح کر لی تو کشمیر کا مسئلہ کبھی حل نہیں ہو گا؟ پاکستان کشمیر کے معاملہ میں کوئی گنجائش نہیں دے سکتا کیونکہ یہ کشمیریوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہو گا اور حق و انصاف کا خون۔اس لیے اگر بھارت واقعی خلوص کے ساتھ صلح چاہتا ہے تو کشمیریوں کو ان کا حق رائے دہندگی دے دے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی سے بھارت کافی دیر فتح کے نشہ میں رہا۔ بھارتی عوام بھی شادیانے بجا تے رہے۔ لیکن جلد ہی انہوں نے پاکستان کو مزید زک پہنچانے پر غور و خوض شروع کر دیا۔ مئی ۱۹۹۸ میں پہلے بھارت نے ایٹمی دھماکے کیے اور پھر تھوڑے دنوں بعد پاکستا ن نے۔ ان دھماکوں نے بھارت کو پاکستان دشمنی کے منصوبوں پر نظر ثانی کرنے پر مجبور کر دیا۔ ممبئی کے حملہ کے بعد، اور اس سے پہلے بھی، پاکستان میں جتنی بھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے، اور ان میں کئی ہزار بے گناہ مارے گئے، ان کے پیچھے بلا شبہ بھارتی منصوبہ بندی اور مالی معاونت تھی۔ ان کاروائیوں کے پیچھے جو محرکات تھے ان کی ایک واضح شکل ابھرتی ہے۔بھارتی تخریب کاری کے اداروں نے، جن میں RAW پیش پیش ہے، ایک وسیع منصوبہ ترتیب دیا ۔اس منصوبہ کے خد و خال جاننے کے لیے بھارتی اعلیٰ قیادت کے بیانات سے اشارے ملتے ہیں کہ انہوں نے کیامفروضے بنائے۔ مثلاً یہ بیان جو ایک اعلی سیاسی شخصیت نے دیا تھا کہ بھارت نے میاں نواز شریف پر اتنی سرمایہ کاری کی اس کا پھل کب ملے گا؟ اور یہ کہ بھارتی جرنیل نے کہا کہ بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنا بھارت کا مشن ہے۔یا اسی قسم کا بیان۔ایک اور بیان غور طلب ہے: ’’ہمیں پاکستان میں دہشت گرد بھیجنے کی کیا ضرورت ہے۔ وہاں سے دہشت گرد خریدے جا سکتے ہیں۔
بھارت کے پاکستان کیخلاف منصوبہ کے چارنمایاں خد و خال ہیں:
۱۔ پاکستان میں ہر سیاسی لیڈر رشوت لیتا ہے اور دبا کے لیتا ہے۔ اسے اس بات کی فکرنہیں ہوتی کہ اس سے پاکستان کو کتنا نقصان ہو گا۔ اور کون رشوت دے رہا ہے ۔ اس رشوت کے دو فائدے تو یقینی ہیں۔ اول یہ کہ اس سے اسکے اپنے اور اپنے عزیز و اقارب کے اثاثہ جات بنتے ہیں اور دوم یہ کہ پکڑے جانے کی صورت میںحاکموں کی اور ججوں کی مٹھی گرم کر کے یا سودے بازی کر کے چھٹا جا سکتا ہے۔اس مفروضہ کے تحت پاکستان کے سب سے زیادہ مقبول لیڈر یا لیڈروں کو پھانسا جائے۔اور رشوت دینے کا ایسا ثبوت رکھا جائے جو آئیندہ بلیک میلنگ میں کام آ سکے۔ جو لیڈر بھارت سے رقمیں پکڑ لیں گے ان سے بھارت کے مفاد میں کام لیے جائیں گے۔
۲۔ ممبئی اور دوسرے دہشت گردی کے واقعات کا بدلہ لینے کے لیے پاکستانی اور افغانی طالبان اور غریب نو جوانوں کو پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا۔ اس کام کے لیے RAW
اپنے چند خاص منتظمین پاکستان بھجوائے جو بھارتی سفارت خانوں کے علاوہ براہ راست پاکستان جا کر دہشت گردی کے منصوبے بنائیں اور ان پر عمل کروائیں۔ان حرکات سے نہ صرف بھارت کی بدلہ لینے کی آگ ٹھنڈی ہو گی بلکہ پاکستان میں دہشت بھی پھیلے گی اور لوگ فوج کو الزام دیں گے۔پاکستان نے بھارتی افسر کلبھوشن یا دیو کو پکڑ لیا جو ایسا ہی ایک منتظم تھا۔ان تمام منصوبوں میں سب سے بڑا منصوبہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلانا ،اس میں ملوث نو جوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دینا ، اہداف دینااور وسائل مہیاکرناتھا۔
۳۔ ممبئی اور دیگر دہشتگردی کے واقعات پر دنیا کی ہمدردی حاصل کرنا اور پاکستان کے خلاف بھر پور پراپیگنڈا کرنا۔ اس کے لیے، دل کھول کر بھارتی وسائل استعمال کئے جائیں۔اتفاق ہے کہ اس پہلو پر ایک تازہ رپورٹ منظر عام پر آئی ہے ، ’’انڈین کرانیکلز‘‘ جس میں پاکستان کے خلاف بھارت کی عالمی سطح پر پراپیگنڈا کے کارنامے درج ہیں جو انتہائی غیر معمولی اور کسی بھی سفارتی سطح پر ذلیل سمجھے جائیں گے۔ ان میں سن ۲۰۰۵ء سے ابتک پندرہ سالوں میں اقوام متحدہ، یورپین یونین، اور دینا کے تمام ممالک میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور بد نام کرنے کی مہم چلائی گئی اور اس کے لیے با قاعدہ دس ایسے رضا کار ادارے بنائے جو اقوام متحدہ سے منسلک تھے، ۵۵۰ ویب سائٹس بنائیں، برسلز اور جنیوا میں جعلی میڈیا بنا ئے، ۱۱۶ ممالک میں ۷۵۰ جعلی میڈیا بنائے، جعلی صحافی اور مرے ہوئوں کے نام استعمال کر کے جھوٹا پراپیگنڈا پاکستان کے خلاف کیا۔ اور جیسے پانامہ پیپرز سے پاکستانیوں کو پتہ چلا کہ نواز شریف اور دوسروں کی جائدادیں لندن اور دوبئی وغیرہ میں تھیں، اس طرح اس سوئی ہوئی قوم کو باہر کے صحافیوں نے پندرہ سال سے ہو رہی سازش کا پتہ دیا۔سبحان اللہ۔یہ پاکستانی سفیر اور انفرمیشن آفیسر ان سفارت خانوں میں پارٹیوں میں شرکت اور شراب پینے کے علاوہ بھی کچھ کرتے ہیں؟
۴۔ بھارت کا چوتھا بڑا مقصد پاکستان کے دوست ممالک کو پاکستان سے بد ظن کرنا تھا، جیسے امارات کی ریاستوں اور سعودی عرب کو پاکستان کے خلاف بھڑکانا۔ اس کے نتایج بھی نظر آ رہے ہیں۔
جو شخص پاکستان کے دشمن ملک کے مفادات میں،پاکستان میںتخریبی کاروائیاں کروائے ، دشمن کے احکامات پر اپنی اولاد اور کنبہ کو پاکستان کی آئینی اور قانونی حکومت کو گرانے کے لیے گروہ بندیاں کرے اور جلسہ جلوسوں سے عوام میں بے چینی اور حکومت پر عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش کرے اور براہ راست، افواج پاکستان کے خلاف عوام کے جذبات بر انگیختہ کرنے کی کوشش کرے، کیا اسے ہم غدار نہیں کہیں گے تو کیا کہیں گے؟ یہ شخص نواز شریف ہے، جسے پاکستان کی سپریم کورٹ نے بے ایمان اور جھوٹا قرار دیا تھا، اسے لاہور ہائی کورٹ نے علاج کے لیے، جیل سے اسکے چھوٹے بھائی کی ضمانت پر رہائی دی اور ملک سے باہر جانے دیا۔ اب وہ سپریم کورٹ میںمختلف مقدمات میں مطلوب ہے اور عدالت میں حاضر نہ ہونے کی وجہ سے اشتہاری ملزم قرار دیا جا چکا ہے۔اس غدار کے علاوہ اور بھی ہیں جن کا ذکر بعد میں آئے گا۔ بنیادی طور پر پی پی پی، اے ایم پی اور ایم کیو ایم کے جن پارٹی لیڈران نے بھارت کے مفاد پر کام کیا جیسے کالا باغ بننے کی مخالفت کی، اور وہ جنہوں نے کراچی میں قتل و غارت کے سامان پیدا کیے، وہ سب شامل ہیں۔ (باقی آئیندہ)