سال کا ناکام بندہ

622

یورپ کے سب سے بڑے اخبار der spiegelنے ڈونلڈ ٹرمپ کو ’’Looser of the year‘‘کا خطاب دیا ہے۔
حال ہی میں یعنی کہ دسمبر 2020ء میں ایک طویل مضمون چھپا ہے، اس اخبار میں جس میں بائیڈن کے جیتنے پر ٹرمپ کے تاثرات پر تنقید کی گئی ہے، حیرت کی بات ہے کہ یہ آرٹیکل ٹھیک اسی دن آیا جب جوبائیڈن اور کملا ہیرس کو ٹائمز میگزین نے ’’Persons of the year‘‘کے اعزاز سے نوازا۔
اخبار نے لکھا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک ایسا آدمی ہے جس کو کسی بھی ایشو سے کوئی غرض نہیں تھی، ان کو کسی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے، ہاں ایک چیز سے دلچسپی ہے اور وہ ہے، وہ خود، ہر چیز میں ہر جگہ وہ اپنے آپ کو دیکھتے ہیں، ہر بات ایسی کرتے ہیں جہاں مرکز وہ خود ہوں، ان کی ذات ہو۔
der spiegel جرمن زبان میں دنیا کا سب سے بڑا اخبار ہے اور جرمنی میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا بھی، آرٹیکل کا ٹائٹل ہی ایسا تھا کہ لوگوں کی توجہ فوراً اس کی طرف کھنچتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جرمنی کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اسے بہت زیادہ پڑھا گیا، اس اخبار میں جو بھی کالم یا مضمون چھپتا ہے وہ خاص ریسرچ کے بعد شامل کیا جاتا ہے، اسی لئے اس اخبار میں کچھ چھپنا خاصی اہمیت رکھتا ہے۔
آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ٹرمپ کے دورمیں کچھ بھی نارمل نہیں تھا یہاں تک کہ جب وہ 2020ء کے الیکشن میں ہار گئے تو انہوں نے اس ہار کو بھی ماننے سے انکار کردیا، انہوں نے اپنے ٹرم کے چار سال ٹھیک اسی طرح گزارے جس طرح انہوں نے چاہا اور آخر تک ایسا ہی انداز اختیار کیا جبکہ امریکہ میں ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا کہ کسی صدر نے صدارت منتقل کرنے کے طریقہ کار میں کوئی اڑچن ڈالی ہو لیکن ٹرمپ وہ پہلے صدر ہیں جن کے ارادے گڑبڑ نظر آتے ہیں۔
ٹرمپ نے کئی بار اس بات کا شکوہ کیا کہ ٹائمز میگزین نے انہیں ایوارڈ نہیں دیا، بار بار شکایت کرنے کے بعد ٹرمپ کو ایوارڈ تو ملا لیکن شکایت انہیں پھر بھی رہی کیونکہ ٹائمز نے کور پر ٹرمپ کی جو تصویر چھاپی اس کے نیچے لکھا ’’Person of the year President of the Divided States of United state‘‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2016ء میں Lowaمیں ایک عوامی جلسے میں تقریر کرتے ہوئے ہزاروں لوگوں کے سامنے یہ بات کہی تھی کہ مجھے پرسن آف دی ایئر کا خطاب دیا لیکن مجھے تقسیم شدہ یونائیٹڈ سٹیٹس کا صدر لکھ دیا جبکہ یہ غلط ہے میں تو پورے امریکہ کا صدر ہوں۔
یہ بات 2016کی ہے جبکہ 2015ء میں جب یہی ایوارڈ Angela Markelکو ملا تھا تو ٹرمپ نے اعتراض کیا تھا کہ یہ تو جرمنی کو تباہ کررہی ہیں ان کو یہ ایوارڈ نہیں ملنا چاہیے۔
اس سے پہلے 2012ء میں ٹرمپ نے ٹویٹر پر لکھا تھا کہ Timesاپنی اہمیت کھو چکا ہے، کیوں کہ اس نے سو ٹاپ کے لوگوں میں میرا نام شامل نہیں کیا، یہ وہی زمانہ تھا کہ جب ایک خبر آئی تھی کہ ٹرمپ کے اپنے گولف کلب میں ہی ٹائمز میگزین کا ایک جعلی کور دیوار پر لگا ہوا ہے جس پر ٹرمپ کی تقریر کے ساتھ ’’Person of the year‘‘لکھا ہے یعنی کہ ٹرمپ صاحب کو اس ٹائٹل کا شوق تو بہت عرصے سے تھا۔ٹرمپ وہ تمام لا سوٹ ہار گئے ہیں جن میں وہ دعویٰ کررہے تھے کہ بائیڈن نہیں بلکہ وہ جیتے ہیں، ٹیکساس کے اٹارنی جنرل نے جو چیلنج فائل کیا ہے کئی ریاستوں کے خلاف وہ بھی مسترد ہو گیا ہے یعنی کہ ٹرمپ اور ان کے ماننے والوں کو جو امیدیں تھیں کہ وہ جیت سکتے ہیں اب بھی وہ سب پچھلے ہفتے ختم ہو گئیں۔
ایک بڑی خبر یہ ہے کہ بالآخر امریکہ میں ویکسین آگئی ہے، کووڈ 19کے خلاف اور ویکسین بنانے والی کمپنی بہت ہی پرامید ہے اس کی کامیابی کیلئے، دسمبر 2020ء چودہ تاریخ سے یہ ہاسپٹلز میں پہنچنی بھی شروع ہو گئی ہے اور مارچ 2021ء تک یہ ویکسین امریکہ کے 100ملین لوگوں کو لگ بھی چکی ہو گی، ڈاکٹر فوچی نے کئی بار یہ بات کہی تھی کہ ویکسین جولائی 2021ء تک نہیں آئے گی لیکن صدر ٹرمپ نے ہمیشہ یہی کہا تھا کہ 2020کے اختتام تک ہم ہر حال میں ویکسین لے آئیں گے کیونکہ ہم کو اکانومی کھولنے کی ضرورت ہے، اس لئے میں نے کئی کمپنیوں کو اس کام میں لگا دیا ہے۔
سب کا یہی خیال تھا کہ اٹھارہ مہینے سے پہلے یعنی جولائی 2021ء تک یہ ویکسین نہیں آسکتی لیکن پھر دسمبر 2020ء میں FDAسے Approvalویکسین آگئی، ٹھیک اسی وقت جب صدر ٹرمپ کو ’’Looser of the year‘‘کا خطاب دیا گیا۔
صدرٹرمپ نے کئی اچھے کام بھی کئے ہیں جو یقینا قابل ذکر ہیں، انہوں نے اپنے چار سالہ دور اقتدار میں کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا نہ ہی کہیں ڈروان گرایا، ایک بھی مسلم ملک پر حملے کا سوچا بھی نہیں، دوسرا انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ اپنی تنخواہ مستحق اداروں کو دے دیا کریں گے اور انہوں نے ایسا ہی کیا، بزنس کو ٹرمپ نے ایسا ٹیکس کٹ دیا جس سے وہ 35فیصد سے 21فیصد پر آگئے اور اس طرح مزید لوگوں کو جابس پر رکھ سکے۔
جو بھی ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ ٹرمپ نے اپنا ویکسین والا وعدہ پورا کیا اورکئی وعدے بھی اور امریکہ کی اکانومی کو (2021ء میں)مزید تباہ ہونے سے بچانے کی کوشش کی۔
اگر صدر ٹرمپ کی تعریف نہیں کر سکتے تو ’’سال کا ناکام بندہ‘‘ قرار دینا بھی کچھ صحیح معلوم نہیں ہوتا۔