آگ ٹھنڈی ہے!!

422

گیارہ جماعتوں کے اتحاد کا لاہور میں پاور شو ہو گیا، کامیاب جلسہ تھا ،مگر وہ نہیں ہوا جس کی توقع کی جارہی تھی، نواز شریف کی تقریر اہم تھی اور بامعنی بھی، جو باتیں انہوں نے کیں ان میں وزن تو ہے، مگر کچھ حقائق کو بھی مسخ کیا گیا، ایسا بالکل نہیں ہے کہ ان کے دور میں بے مثال ترقی ہوئی اور دودھ کی نہریں بہہ رہی تھیں، اگر ایسا تھا تو ملک میں تعلیم، روزگار صحت کے بے شمار مسائل پیدا ہورہے تھے، معیشت کے بارے میں جو سروے کئے گئے وہ ظاہر کرتے تھے کہ پاکستان کا معاشی گراف نیچے جارہا تھا، عمران خان حکومت معیشت پر قابوپالیتی تو شائد نواز شریف کواپنی حکمت کا موازنہ عمران حکومت سے نہ کرنا پڑتا، عمران نے لٹیا ڈبو دی تو اس جلسے کی نوبت بھی آگئی اگر عمران عوام کو تھوڑا سا بھی ریلیف دے دیتے تو شاید پی ڈی ایم کا وجود بھی نہ ہوتا ہاں اب جواز ہے ان باتوں کا جونواز شریف کررہے ہیں لاہور جلسے میں اختر مینگل اور اچکزئی نے بھی پنڈورا باکس کھول دیا، ان صاحبان نے لاہور میں کھڑے ہو کر پنجاب کے رویوں کا شکوہ بھی کیا اور پنجاب کی تاریخی روش کا جائزہ لیا، اختر مینگل نے کہا کہ مجھے پنجاب میں پیدا ہونے والی ایک چھٹانک گندم بھی نہیں چاہیے مگر بلوچستان کی معدنیات ان کی ہیں، ان کا اشارہ پنجاب میں سوئی گیس کے بے تحاشا استعمال کی جانب تھا، مطلب یہ تھا بلوچستان کی معدنیات کی بے دردی سے لوٹ مار نہ کیا جائے، بلوچستان کو یہ شکایات اس وقت بھی تھیں جب نواز شریف وزیراعظم تھے، بلکہ بلوچستان کی شکایات کا سلسلہ تو ستر سالوں پر دراز ہے، بلوچستان پاکستان کی کسی حکومت سے خوش نہیں رہا، کچھ اس کی سیاسی مشکلات اور کچھ معاشی مشکلات رہی ہیں جن کی جانب حکومتوں نے توجہ نہیں دی بلوچستان کا EXPLOITATIONتو ہوتا رہا ہے اور پاکستان کی کسی حکومت نے بلوچستان کے مسائل حل کرنے کی کوشش نہیں کی، یہ جملہ بہت تکلیف دہ ہے کہ پاکستان کی حکومتیں بلوچستان کو یا تو اپنا غلام سمجھتی رہیں یا ان کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرتی رہیں، اختر مینگل کہہ رہے تھے کہ بلوچستان پر پانچ فوجی آپریشن ہو چکے ہیں اور آج بھی ہزاروں لاپتہ افراد کے خاندان کرب کی حالت میں ہیں اور کبھی ان کی مسخ شدہ لاشیں ملتی ہیں، کئی عشروں سے بلوچستان میں مختلف انداز سے پاکستان کی تمام حکومتیں استحصال کرتی رہی ہیں جو تاریخ کا حصہ ہے، اختر مینگل نے کہا کہ پاکستان میں بلوچی خواتین کی عصمتیں بھی محفوظ نہیں،انگریز کے دور میں ظلم تھا لیکن عصمتیں اور عزتیںمحفوظ تھی۔
عجب تماشا ہوا لاہور میں محمود خان اچکزئی یہ کہہ کر چلے گئے کہ لاہوریوں نے پنجاب نے انگریزوں، ہندوئوں اور سکھوں کا ساتھ دیا، یہ بات انہوں نے مسلم لیگ ن کی تمام قیادت کے سامنے کی اور کسی نے بھی اس کا REBUTTALنہیں ہوا، اس سے اختلاف ہوتا بھی تو کیسے ہوتا، یہ تو تاریخی حقائق ہیں جو محمود خان اچکزئی کے منہ پر آگئے، یہ سچ ہے کہ ۱۹۴۶ تک پنجاب میں پاکستان کے قیام کی تحریک کی کوئی آواز نہ تھی، اگر جلیانوالا باغ کا واقعہ نہ ہوتا تو پنجاب میں خاموشی تھی، پنجاب میں یونینسٹ کی حکومت تھی، محمود اچکزئی پاکستان بننے سے پہلے کی بات کہہ کر چلے گئے، ان کو پاکستان بننے کے بعد کی بات کرنی چاہیے تھی، یہ تاریخ ہے کہ پاکستان کے بہت سے مسائل پنجاب کی وجہ سے پیدا ہوئے اور بڑے نقصان بھی پنجاب کے شوق حکمرانی کی وجہ سے اٹھانے پڑے، پنجاب نے فوج میں اثر پیدا کر کے اور دوسروں پر دروازے بند کر کے اچھا نہیں کیا اور بعد میں اس سے پنجابی فوج کا تاثر ابھرا، جواب تک قائم ہے، اور اس کا ازالہ نہیں ہو پارہا، چھوٹے صوبوں کو اس سلسلے میں بہت زیادہ احساس محرومی ہے، اسی طرح پنجاب نے تمام ملک کو پنجابی پولیس سے کنٹرول کیا جس کے اثرات اب بھی سارے ملک میں ستر سال کے بعد بھی دیکھے جا سکتے ہیں، یہ خواب ممتاز دولتانہ نے دیکھا تھا اور سچ کر دکھایا، ممتاز دولتانہ بہت فطین سیاست دان تھے مگر شاید وہ سمجھتے تھے کہ زمانہ کبھی نہیں بدلے گا اور شاید اس کا بھی ادارک نہ تھا کہ تمام صوبوں میں پنجاب کے خلاف کتنی نفرت پیدا ہو جائے گی اور ملک کی سیاست پر اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے، فوج کے اقتدار اور پولیس کی طاقت نے پنجابCHAUVNISMکو جنم دیا اور پنجابی سمجھ بیٹھے کہ حکمرانی ان کا حق ہے اور سارا پاکستان صرف ان کا ہے۔
مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھی پنجاب کا اہم کردار رہا، پنجاب بنگالیوں کی اکثریت کو قبول کرنے پر تیار نہ تھا، پہلےPARITYکا اصول منوا لیا گیا جو حسین شہید سہروردی نے شرافت سے مان لیا مگر پنجاب کو یقین ہو گیا تھا کہ مشرقی پاکستان کی اکثریت کو بدلا نہیں جا سکتا لہٰذا ایوب خان نے مشرقی پاکستان سے چھٹکارا حاصل کرنے کی کوشش کی، جسٹس منیر نے اپنی کتاب میں اس کا ذکر کیا ہے، ۱۹۶۹ کے الیکشن کے بعد جب مجیب الرحمن نے مشرقی پاکستان میں کلین سویپ کیا تو مغربی پاکستان کو یقین ہو گیا کہ بنگالی اکثریت کو شکست دینا ممکن نہیں تو پہلے مغربی پاکستان کے میڈیا نے مسلسل مشرقی پاکستان کے خلاف لکھنا شروع کیا، اس میں ’’اردو ڈائجسٹ‘‘ پیش پیش تھا مغربی پاکستان کے کسی صحافی نے مشرقی پاکستان کے عوام کے جمہوری حق کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لئے استعمار کے ایجنٹ بھٹو کو استعمال کیا گیا اور مشرقی پاکستان الگ ہو گیا، سقوطِ ڈھاکہ میں فوج کا بھی ایک اہم کردار رہا ،جنرل ٹکا خان کو کون نہیں جانتا جس نے بنگالیوں کے قتل عام کا سامان کیا اور کہا کہ مجھے انسان نہیں زمین چاہیے اور پھر جنرل نیازی کا مشکوک کردار جس کو مشرقی پاکستان بھیجا ہی اس لئے گیا تھا کہ وہ اس کام کو پورا کرے ،ملک کو دولخت کرنے میں مغربی پاکستان کی تمام جماعتیں ذمہ دار ہیں جنہوں نے مجیب کی مخالفت کی اور پنجاب کا ساتھ دیا، سقوط ڈھاکہ کے بعد پیر علی محمد راشدی ’’مجیب غدار نہیں تھا‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے جو اخبار جنگ میں چھپتا رہا مگر اس سے قبل مجیب کی حمایت میں جنگ اخبار میں ایک لفظ بھی نہیں لکھا گیا یہ منافقت کی انتہا تھی کیونکہ اخبار جنگ کا سارا کاروبار تو مغربی پاکستان میں تھا۔
سقوطِ ڈھاکہ کے بعد پنجاب نے سمجھا کہ وہ اپنی عددی برتری کی بنا پر پاکستان پر حکومت کرتا رہے گامگر وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا اور آج محمود خان اچکزئی مسلم لیگ (ن) جو پنجاب کا چہرہ ہے کہ منہ پر طمانچہ رسید کر کے چلا گیا اس بیچارگی کا اندازہ اس بات سے ہو سکتا ہے اب مسلم لیگ (ن) کو اپنی طاقت ثابت کرنے کے لئے دس جماعتوں سے قوت کشید کرنی پڑرہی ہے اور پنجاب کی عددی برتری ایک خواب بن چکی ہے اور ان میں اتنی سکت بھی نہیں کہ وہ لوگوں کے منہ بند کر سکیں، آگ ٹھنڈی ہو چکی اور اب فوج اسی جماعت کو نشانِ عبرت بنانے جارہی ہے جو پنجاب کی دعوے دار تھی اور جس نے نعرہ دیا ’’جاگ پنجابی جاگ تیری پگ نوں لگ گیا داغ‘‘