امریکی جمہوری نظام کو خطرات لاحق!!

329

بے شک موجودہ امریکی صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار اور نو منتخب صدر جوبائیڈن نے 81ملین پاپولر اور 306الیکٹرول ووٹ حاصل کر کے اپنی برتری قائم کی ہے جبکہ مخالف اور ہارنے والے امیدوار صدر ٹرمپ نے 74ملین پاپولر اور 232الیکٹرول ووٹ حاصل کئے ہیں، جوبائیڈن نے سات ملین پاپولرزیادہ ووٹ لے کر نئی تاریخ مرتب کی ہے جس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ،جس کو صدر ٹرمپ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے جنہوں نے امریکی انتخابات کو ریاستی عدالتوں اور سپریم کورٹ میں دھاندلی کے نام پر چیلنج کیا جس کو تمام عدالتوں نے بنا ثبوت فراہم کرنے پر تمام درخواستوں کو رد کر دیا ہے مگر صدر ٹرمپ پھر بھی میں نہ مانوں گا کی پالیسی پر گامزن ہیں جس سے محسوس ہوتا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ نے صدارتی اختیارات نئے صدر کے حوالے نہ کئے تو ملک میں ایک ہیجان پیدا ہو جائے گا جو شاید کسی خانہ جنگی کی طرف دھکیل دے گا چونکہ امریکی صدارتی انتخابات میں الیکٹرول سسٹم ایک غیر جمہوری نظام بن چکا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات الگور پانچ لاکھ اور ہیلری کلنٹن تین ملین زیادہ ووٹ حاصل کرنے باوجود انتخابات ہار چکے ہیں، مزید برآں ریاستوں کے الیکٹرول کے پاس ایسے اختیارات ہیں کہ وہ جس کو چاہیں ووٹ دے سکتے ہیں جس کو آئین منع نہیں کرتا ہے مگر ریاستوں کے قوانین کے مطابق الیکٹرول کو سزا دی جا سکتی ہے مگر ووٹ کو نہیں روک سکتا ہے۔
حالانکہ امریکی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں ہوا کہ الیکٹرول نے جیتنے والے کی بجائے ہارنے والے کو ووٹ دیا ہو، ماسوائے چند ریاستوں کے الیکٹرول جن کو ریاستوں نے جرمانوں اور جیلوں کی سزا دی ہے، تاہم امریکہ کی تمام ریاستوں کے گورنروں اور ریاستی سیکرٹریوں نے انتخابات کی بار بار گنتیوں کے بعد تصدیق کر دی ہے کہ ملک کا نیا صدر جوبائیڈن ہے جن کے لئے الیکٹرول چودہ دسمبر بروز پیر کو اپنے اپنے تصدیق شدہ سرٹیفکیٹس واشنگٹن ڈی سی میں جمع کرا دیں گے جن کو چھ جنوری کو دونوں ایوانوں کے سامنے کھولا جائے گا جو نتائج کا اعلان کریں گے کون امیدوار جیتتا ہے جس کے بعد نو منتخب صدر ۲۰ جنوری کو حلف وفاداری اٹھائے گا چونکہ امریکی صدارتی انتخابات میں الیکٹرول کو منتخب کیا جاتا ہے جو منتخب ہو کر صدر کو منتخب کرتے ہیں اس لئے صدارتی انتخابات کا طریقہ کار مکمل طور پر غیر جمہوری بن چکا ہے، بہر کیف امریکہ میں نظام حکومت کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں جس میں صدر ٹرمپ بعض الیکٹرول کو ورغلا اور پھسلا کر ووٹ حاصل کر کے صدر بن سکتا ہے جو امریکہ میں ایک نیا باب ہو گا جو امریکی سلامتی کو خطرات سے دو چار کر دیگا، جس سے امریکہ نارتھ، سائوتھ، مشرق اور مغرب میں تقسیم ہو جائے گا، یہاں پہلے ہی نسل پرستی کی لہر چل رہی ہے ایسے میں امریکہ افریقہ کی طرح قبیلوں، نسلوں، لسانوں اور فرقوں میں بٹ جائے گا۔
بہرحال آج امریکی جمہوری نظام کو خطرات لاحق ہو چکے ہیں کہ جس میں ایک ہارا ہوا صدر ٹرمپ اپنے آپ کو جیتا ہوا تصور کررہا ہے جو بائیڈن کو نیا منتخب صدر تسلیم نہیں کررہا ہے جبکہ جوبائیڈن نے سات ملین پاپولر ووٹ اور 74الیکٹرول زیادہ لئے ہیں جوامریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ لئے ہیں جس کے لئے پہلے امریکی ووٹرز نے کرونا وباء کی موجودگی کے باوجود انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جنہوں نے پیشگی ووٹنگ اور میل ووٹنگ میں ہفتوں اور گھنٹوں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہو کر ووٹ ڈالے یا پوسٹ آفسوں میں اپنے میل کے ذریعے ووٹ ارسال کئے جو امریکی جمہوریت کی روایات کو برقرا رکھنا قابل ستائش ہے جس کو نازی نسل پرست امیدوار ٹرمپ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تاکہ امریکہ میں نسل پرستی کا رجحان بڑھ جائے تاکہ امریکہ میں نسل پرستی کا پودا توانا ہو کر پھیل جائے جس کا فائدہ آئندہ کے انتخابات میں ہو گا کہ جس سے اپنے بچوں کو انتخابات میں لایا جائے گا یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ فلوریڈا مستقل منتقل ہو چکے ہیں جو سائوتھ کا حصہ ہے جس سے لگتا ہے کہ ٹرمپ آہستہ آہستہ امریکہ میں وہی سول وار کی طرف بڑھ رہے ہیں جس کا آغاز 1860میں صدر ابراہم لنکن کے دور میں ہوا تھا جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے جس کے بعد سیاہ فام انسانوں کو عہد غلامی سے آزادی ملی تھی جن کے سابقہ مالکان کی نسلیں آج بھی سیاہ فاموں کو اپنا غلام تصور کرتی ہیں جن کے لیڈر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جو دن بدن امریکہ میں نسل پرستی کے ذریعے امریکہ کو تقسیم کررہے ہیں جس سے امریکی اقلیتیں غیر محفوظ ہو چکی ہیں، جس کے لئے امریکی عدالتوں اور اداروں کو ٹرمپ پر قابو پانا ہو گا ورنہ دیر نہ ہو جائے کہ ٹرمپ جیسے نازی ازم کے پیروکار قابو سے باہر نہ ہو جائے جو امریکہ ایک دنیا کی واحد عالمی طاقت کونسل پرستی کے نام سے تقسیم کررہے ہیں جس سے امریکہ آئندہ کا سابقہ سوویت یونین بن جائے گا جس کی کوکھ سے کئی ممالک بن سکتے ہیں قصہ مختصر صدر ٹرمپ عدالتوں کے فیصلوں اور گورنروں کی تصدیق کے باوجود نئے منتخب صدر جوبائیڈن کو تسلیم نہ کرنے کا مقصد اور مطلب امریکہ کو کمزور کرنا ہے جو ایک سازش نظر آرہی ہے جس پر قابو پانا ہر امریکی کا فرض بنتا ہے جس کے لئے غیر جمہوری رویوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔