جمہوریت اور عوامی امنگیں

303

امریکہ اور پاکستان کی سیاست میں مماثلتیں اتنی زیادہ نہیںکہ انہیں یکساں قرار دیا جائے دونوں میں تفریقات بھی بہت زیادہ ہیںکسی بھی ملک کا جمہوری نظام اسکی تاریخ‘ جغرافیے اور کلچر سے ملکر اسے کسی بھی دوسرے ملک کے جمہوری نظام سے نہایت مختلف کر دیتا ہے ظاہر ہے کہ سوا دو سو سال پرانا امریکی جمہوری نظام کسی بھی نئے اور ترقی پذیر ملک کی جمہوریت سے نہایت مختلف ہو گا وہ ممالک جہاں کل تک سی آئی اے آمریتوں کی سر پرستی کرتی رہی ہے سے امریکہ کے جمہوری نظام کا موازنہ کیسے کیا جا سکتا ہے اسلام آباد کے ایک دانشور نے اِدھر اُدھر کے حقائق کا ملغوبہ بنا کر یہ ثابت کرنیکی کوشش کی ہے کہ امریکہ ‘ برطانیہ اور پاکستان تینوں کا جمہوری نظام کیونکہ مفلوج ہو چکا ہے اسلئے جمہوریت ایک ناکام نظام ہے حقیقت یہ ہے کہ ان تینوں ممالک کے جمہوری نظام نہ صرف یہ کہ ایک دوسرے سے نہایت مختلف ہیں بلکہ ان تینوں میں جمہوریت عوامی امنگوں کے مطابق اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہے چند روز پہلے امریکہ میں ٹیکساس کے اٹارنی جنرلKen Paxton نے جنکا تعلق ریپبلیکن پارٹی سے ہے نے سپریم کورٹ میں ایک مقدمہ دائر کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ پنسیلوینیا‘ مشی گن‘ وسکانسن اور ایریزونا کے انتخابات کو دھاندلی کی وجہ سے کالعدم قرار دیا جائے یہ مقدمہ اسلئے ایک مذاق نظر آتا ہے کہ ایک ریاست دوسری چار ریاستوں کے داخلی معاملات میںبغیرکسی آئینی استحقاق کے مداخلت کا حق مانگ رہی ہے لیکن یہ ایک سنجیدہ معاملہ اسلئے ہے کہ سترہ دیگر ریاستوں اور ریپبلیکن پارٹی کے ایوان نمائندگان میں 126اراکین نے اسکی حمایت کی ہے صدر ٹرمپ نے ٹویٹر پر متعدد بیانات دیکر اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے کہ انتخابی نتائج کو منسوخ کرانے کی اسلئے ایک مضبوط اور سنجیدہ کوشش تھی کہ اسوقت سپریم کورٹ کے نو میں سے پانچ جج قدامت پسند ہیں اور ان پانچ میں سے تین صدر ٹرمپ کے متعین کردہ ہیںصدر امریکہ کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ وہ اس الیکشن کے نتائج کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے انکی نرگسیت ‘ ہٹ دھرمی اور حقائق سے انحراف کی عادت انہیں یقین دلا رہی تھی کہ انکے طرفدار جج انہیں مایوس نہیں کریں گے مگر وہاں انہیں منہ کی کھانی پڑی سپریم کورٹ نے یہ مقدمہ سننے سے ہی انکار کردیااسکے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ اپنی ضد پر قائم ہیں اور شکست تسلیم نہ کرنے پر مصر ہیں نو منتخب صدر جوزف بائیڈن اگر الیکٹورل کالج کے دو چار ووٹوں کی اکثریت سے جیتے ہوتے تو پھر نہ صرف متنازعہ نتائج والی چار ریاستوں کے گورنر اور اسمبلیاں ان انتخابی نتائج کو مسترد کر دیتیںبلکہ سپریم کورٹ کیلئے بھی اس مقدمے کو خارج کرنا مشکل ہوتا یوں امریکی جمہوریت ایک بڑے بحران سے دو چار ہو جاتی اس صورت میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو حتمی حیثیت حاصل ہوتی جسطرح کہ 2000 کے الیکشن میں جارج بش اور الگور کے انتخابی تنازعے کا فیصلہ ہوا تھا اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ کے انتخابی بحران کا فیصلہ پہلے تو ریاستی سطح کے اہلکار یا عدالتیں کر دیتی ہیںیا پھر سپریم کورٹ کے فیصلے کو حرف آخر مانا جاتا ہے بد قسمتی سے پاکستان میں یہ صورت حال نہیں ہے وہاں ہر متنازعہ الیکشن ایک تحریک کی صورت میںسڑکوں پر نمو دار ہو جاتا ہے جسکے بعد عدالتوں کے فیصلوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا
انیس سو نوے کی دہائی میں نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے تنازعوںکا انجام تین مرتبہ مڈ ٹرم انتخابات میں ہوا تھاان بحرانوں میں اسٹیبلشمینٹ اور اسکے حامی صدور اسحٰق خان اور فاروق لغاری کا کردار ہماری تاریخ کے تلخ حقائق ہیںاسکے بعد جنرل مشرف کے آٹھ سالہ دور حکومت کو ایک طرف امریکہ کی آشیر باد حاصل تھی تو دوسری طرف یہ آئین میں درجنوں ترمیموں ‘ قاف لیگ کے ظہور‘ سیاستدانوں سے ساز باز اور وکلاء کی بھرپور تحریک کیلئے مشہور ہے اس قسم کے واقعات امریکہ کی حالیہ تاریخ میں کہیں بھی نظر نہیں آتے جنرل مشرف کے تاریک دور کے بعد آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے دو جمہوری ادوارمیں سول ملٹری تنازعات غیر معمولی بحرانوں اور ہیجان خیزی کا باعث بنے تھے اسکے بعد 2014 میں عمران خان کی کرپشن کے خلاف کنٹینر تحریک انکے اقتدار حاصل کرنے کے ڈھائی سال بعد بھی جاری ہے خان صاحب چند روز پہلے تک کسی اپوزیشن رہنما سے بات کرنے کیلئے تیار نہ تھے اب حالات کے جبر نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کیا ہے کہ وہ کرپشن کے علاوہ کسی بھی مسئلے پر بات چیت کیلئے تیار ہیں لیکن اب حزب اختلاف ان سے مکالمے پر آمادہ نہیں اپوزیشن رہنمائوں نے لاہور میں تیرہ دسمبر کے جلسے میں بھی نہ صرف عمران خان بلکہ اسٹیبلشمینٹ سے بھی لانگ مارچ کے راستے سے ہٹ جانیکا مطالبہ کیا ہے لاہور کا جلسہ جمہوریت کی ناکامی کا نہیں بلکہ اسکی کامیابی کا آئینہ دار ہے اسمیں لاکھوں لوگوں کی شرکت عوامی امنگوں کی مظہر ہے کورونا وبا کے باوجود جانوں کو ہتھیلی پر رکھ کر زندہ دلان لاہور کا بیکراں ہجوم با آواز بلند یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ملکی معاملات سے لا تعلق نہیں رہ سکتے وہ ظلم‘ نا انصافی‘ مہنگائی‘ غربت اور بیروز گاری کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کر سکتے وہ ریاستی اداروں کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال ہونیکی اجازت نہیں دے سکتے ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ 1940 میں قرار داد لاہور بھی اسی مقام پر پاس کی گئی تھی اسی شہر سے ذولفقار علی بھٹو نے 1967میںجنرل ایوب خان کے خلاف اپنی تحریک کا آغاز کیا تھا اور اسی شہر کو 1986 میں بے نظیر بھٹو کے فقیدالمثال استقبال کا اعزاز بھی حاصل ہے یہاں خان صاحب کے اکتوبر 2011 کے کامیاب جلسے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے قرار داد پاکستان کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد ملک تو مل گیا مگر اسمیں عوام کی امنگوں کے مطابق ایک فعال جمہوری نظام قائم نہ ہو سکا اب پی ڈی ایم کی جماعتیں ایک نئے جمہوری میثاق کا مطالبہ کر رہی ہیںکوئٹہ‘ کراچی‘ پشاور‘ ملتان اور لاہور میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پی ڈی ایم کے ایجنڈے کی تصدیق کر رہا ہے ریاستی اداروں کی مداخلت سے پاک ایک صاف اور شفاف جمہوری نظام حزب اختلاف کی نہیں بلکہ پاکستان کے عوام کی امنگوں کی منزل ہے اس خواب کی تعبیر کبھی نہ کبھی ضرور حاصل ہو گی امریکہ اور پاکستان کے جمہوری نظام ایک دوسرے سے اسلئے بھی مختلف ہیں کہ امریکی آئین نے جو اختیارات صدر کو دئے ہیں وہ دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک نے اپنے چیف ایگزیٹیو کو نہیں دئے گذشتہ ستر برسوں کی تمام جنگیں امریکی صدور نے کانگرس کی منظوری کے بغیر شروع کی تھیں براک اوباما نے ایران سے جوہری معاہدہ اور پیرس ماحولیاتی معاہدہ بھی کانگرس کی منطوری کے بغیر کیا تھا اسی طرح صدر ٹرمپ نے اسرائیل کے دارلخلافے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کر دیا تھا اسکے علاوہ امریکی الیکٹورل کالج سسٹم بھی کسی دوسرے ملک میں نہیں پایا جاتا اسلئے امریکہ اور دوسرے ممالک کے جمہوری نظاموں کی مماثلتوں کا تھیسس لکھنا اتنا آسان نہیں ہے