جلسے سارے جلسیاں ہوکر رہ گئے!!

572

ایسا معلوم ہوتا ہے لاہور کو نوسرباز نے پھولن دیوی کے جہیز میں دے دیا ہے، انہیں لاہوریوں پر بڑا ناز ہے اور ہونا بھی چاہیے ان کی برادری ہے اور دونوں بھائیوں نے بے تحاشا نوازا بھی ہے، نااہل لوگوں سے دفاتر بھر دئیے ہیں، عدلیہ، پولیس وغیرہ سب ان کے زرخرید غلام بنے ہوئے ہیں تبھی تو صاحبزادی ججوں کو دھمکیاں دیتی پھررہی ہیں، چومکھی لڑائی لڑ رہی ہیں، طبیعت میں رعونت، تکبر، جلد بازی، دولت کا غرورو گھمنڈ، کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے، اب لاہور کی گلیوں میں ’’آر یا پار‘‘ کا نعرہ لگاتی پھررہی ہیں، معلوم ہوتا ہے حکومت کا منٹوں میں تیا پانچہ کر دیں گی، یہ نمود و نمائش غریب عوام کی لوٹی ہوئی دولت پر ہے، شیطان بھی لعنت بھیج رہا ہو گا، باپ اور چچا نے پیسہ لوٹنے میں جتنے حربے استعمال کئے ہیں اس سے پہلے کبھی بروئے کار نہیں لائے گئے اور پھولن دیوی بے تال ٹھمکے لگارہی ہیں، اب آر یا پار کی بھی بات کررہی ہیں، شاید بھارتی فلم دیکھ لی ہے، یا دل میں کہہ رہی ہوں۔
کوئی میرے دل سے پوچھے تیرے تیرِنیم کش کو
یہ خلش کہاں سے ہوتی ہے جو جگر کے پار ہوتا!!
بعض دفعہ انسان درپردہ جسے بے حد پسند کرتا ہے ظاہر میں اس سے بے تحاشا نفرت کا اظہار کرتا ہے، اب معاملہ کیا ہے اس کا تجزیہ تو کوئی ماہر نفسیات ہی کر سکتا ہے، بہرحال تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں، پی ڈی ایم والے بھی کچھ ان سے نالاں نظر آتے ہیں، مداری نے بھی ڈگڈی بجا دی ہے، بائو جی کو سمجھا دیا ہے کہ پتری کا طریقۂ واردات صحیح نہیں، وہ خود کو الگ کئے ہوئے ہیں کیونکہ جس طرح کااعلان جنگ پھولن دیوی نے کیا ہے وہ کئے دھرے پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے، طبیعت میں جلد بازی، طنزیہ گفتگو بائو جی کی سیاست کی بھی کھٹیا کھڑی کر دے گی، فضلو بھی خاصے پریشان ہورہے ہیں۔
لگ رہا ہے اس بھان متی کے کنبے کا انجام بھی اونٹ اور گیڈر کی دوستی والا ہے، ایک گیدڑ کی اونٹ سے دوستی ہو گئی، ایک دن گیدڑ نے اونٹ کو ایک خربوزے کے کھیت کا پتہ بتایا اور ساتھ چلنے کے لئے کہا، اونٹ راضی ہو گیا، رات کے وقت جب کھیت کا رکھوالا سو گیا تو دونوں کھیت میں گھس گئے اور خربوزے کھانے لگے، گیدڑ چھوٹا سا تھا تھوڑے سے خربوزے کھاکر اس کا پیٹ بھر گیا، اونٹ بیچارا ابھی اپنی ایک داڑھ بھی گرم نہ کر سکا تھا کہ گیدڑ اونٹ سے بولا اب میں ہونکنے والا ہوں، اونٹ نے کہا تمہارا ہونکنے سے رکھوالا اٹھ جائے گا اور میں نے تو ابھی تھوڑے سے خربوزے کھائے ہیں لیکن نہ مانا، ہواں ہواں کرنے اور کہنے لگا میرا پیٹ بھر جاتا تو میں ہونکتا ہوں یہ میری مجبوری ہے۔
نتیجہ یہ ہوا کہ رکھوالا جاگ گیا اور ڈنڈا لیکر دوڑاگیدڑ تو فرار ہو گیا اونٹ اتنی جلدی اپنے جسّے کی وجہ سے بھاگ نہ سکا خوب پٹائی ہو گئی، ایک دن پھر گیدڑ آیا، اب کی دفعہ دریا پار کھیت کی خبر لایا تھا، اونٹ نے شکایت کی گیدڑ نے وعدہ کیا کہ ایسا نہیں کرے گا، پیٹ بھرنے پر ہواں ہواں نہیں کرے گا، خیر رات کو دونوں دریا پار گئے، دونوں نے خوب پیٹ بھر کر کھایا، گیدڑ اونٹ کی کمر پر سوار ہو کر دریا پار گیا تھا سو اب بھی واپسی میں کمر پر بیٹھا، بیچ دریا میں پہنچ کر اونٹ نے کہا اب میں پانی میں ڈبکیاں لگائوں گا گیدڑ نے کہا اس طرح تو میں پانی میں بہہ جائوں گا، اونٹ بولا میاں مجبوری ہے جب میرا پیٹ بھر جاتا ہے تو میں ڈبکیاں لگاتا ہوں، گیدڑ خوشامد کرتا رہ گیا لیکن اونٹ نہ مانا سو اونٹ نے اپنا انتقام لے لیا، کہیں پی ڈی ایم والوں کا بھی یہی انجام نہ ہو کیونکہ جن اداروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال ہورہے ہیں ردعمل تو ہونا ہے، پھر دیکھنا ہے کون کس کا ساتھ دیتا ہے، پھولن دیوی اپنے خطاب میں فرما رہی ہیں ’’اب عمران خان ہاتھ جوڑ کر اور گڑ گڑا کر این آر او مانگ رہا ہے‘‘ بی بی تمہارے اشتہاری، فراری، ڈکیت، بھگوڑے سے کون این آر مانگے گا؟ اس کی حیثیت کیا ہے، تم عوام میں جارہی ہو کوئی تمہیں گھونسا مار جاتا ہے کوئی دست شفقت پھیر دیتا ہے، یہ تو تمہاری اوقات رہ گئی ہے، تمہاری شہر میں آبروکیا ہے؟ تم لوگوں کی بے حیائی ،ڈھٹائی کی داد دینی چاہیے تاریخ میں تم جیسے بے غیرت پیدا نہیں ہوئے ہونگے، تم کس حیثیت سے بیانات دیتی پھر رہی ہو، یہ ہانڈی اب چوراہے پر پھوٹنے والی ہے، اپنی مردہ حمیت اور انسانیت کو جگانے کی کوشش کرو، شاید کچھ وہاں کے لئے زاد راہ ہو جائے، فضلو کی تو یہاں اور وہاں دونوں جگہ لٹیا ڈوب گئی، الٹا سبق پڑھنے پر فرشتے اچھی طرح خبر لیں گے، اس نے تو مذہب پر بھی شب خون مارا ہے۔
شیخ رشید کی بحیثیت وزیر داخلہ آمد بڑی خوش آئند ہے، و ہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان ہیں، مختلف حکومتوں، ادوار میں خدمات انجام دیتے رہے ہیں، جنرل پرویز مشرف صاحب کے دور میں ان کے ساتھ بہت دکھائی دئیے، صدر صاحب ان کے لئے سگار اپنے دوروں سے واپسی پر لانا نہیں بھولتے تھے، کچھ عجیب ہی سا اتفاق تھا کہ جنرل پرویز کے صدارت چھوڑنے کے بعد انہوں نے ان کا ذکر بھی چھوڑ دیا تھا، بہرحال عمران خان سے وہ خاصے خوش ہیں، محب وطن لوگوں کو سراہتے ہیں، عمران خان جو ایجنڈا لیکر آگے بڑھ رہے ہیں، شیخ رشید اس سے خاصے خوش اور مطمئن ہیں۔
لاہور کا جلسہ تو فلاپ ہو گیاجلسہ تو کیا جلسی بھی نہ رہی۔جماعتوں میں پھوٹ الگ پڑ گئی، ان کی اور پی پی کی دکان تو بند ہوتی نظر آرہی ہے، سو فضلو کو اپنا ٹھکانہ کر لینا چاہیے۔