کرونا کی نئی لہر پوری دنیا میں پہلے سے بھی زیادہ تباہی پھیلائیگی- ماسک پہنے بغیر گھر سے باہر مت نکلیں

282

امریکہ روس اور برطانیہ میں کرونا کی ویکسین کا انجیکشن لگانے کا کام شروع ہو چکا ہے لیکن یہ سردرد کی کوئی ایسی دوائی نہیں جسے آپ کہیں سے بھی لے لیں یہ ویکسین شدید ترین احتیاطی تدابیر کے ساتھ ایک مخصوص ترین منفی درجہ حرارت پر رکھی جاتی ہے اور بہت ہی کم وقت میں لگانی پڑتی ہے – سب سے پہلے یہ اسپتالوں اور نرسنگ ہوم میں کام کرنے والے عملے کو لگائی جائے گی اْس کے بعد بزرگوں کی باری آئیگی اْمید تو یہی کی جارہی ہے کہ چند مہینوں میں عام لوگوں کو بھی لگا دی جائیگی – امریکہ میں پینتیس فیصد لوگ اس ویکسین کو لگانے کے لئے ہچکچا رہے ہیں لیکن ماہرین کے مطابق یہ ویکسین لگانا بہت ہی زیادہ ضروری ہے
امریکہ میں اب تک تین لاکھ افراد کرونا سے ہلاک ہو چکے ہیں اور روزانہ ہی اموات کا سلسلہ جاری ہے – ضرورت اس بات کی ہے کہ آپ اپنی اور دوسروں کی حفاظت کے لئے اپنے چہرے پر ماسک ضرور پہنیں اور لازمی طور پر اپنے ناک کو ماسک سے کور بھی کریں کچھ لوگ ناک کو ماسک سے نہیں ڈھانپتے جو کرونا کو دعوت دینے کے برابر ہے-
کورونا وائرس کے پھیلائو کی دوسری لہر پاکستان میں بھی دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔ فعال کیسز 50 ہزار ہوچکے ہیں۔ ٹیسٹ کے بعد مثبت آنے والوں کی شرح 10 فی صد تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک تقریباً 9 ہزار افراد کورونا وائرس سے لڑتے ہوئے دارفانی سے رخصت ہوچکے ہیں جن میں نامور سیاستدان، جج، دانشور، ادیب اور صحافی، علمائے کرام ڈاکٹر کے علاوہ دوسری محترم شخصیات شامل ہیں۔ معاشی میدان میں جہاں کئی اشارے مثبت سگنل دے رہے ہیں مثلاً جولائی تا نومبر ایکسپورٹس میں 2 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں بہتری آئی ہے۔ خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء ، کھاد، آٹو موبائل اور سیمنٹ سیکٹر کی پیداوار میں واضح اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی خریداری کا رجحان بڑھا ہے لیکن سب سے اہم چیلنجز جو حکومت کو درپیش ہیں وہ بڑھتی ہوئی بیروزگاری ہے اور اس میں زیادہ متاثر ہونے والے افراد وہ ہیں جو ڈیلی ویجز ورکرز ہیں یا نچلی سطح کی ملازمتوں میں شامل ہیں اور جو غیر ہنر مند افراد ہیں۔ کورونا کی وبا سے پہلے جب پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات چل رہے تھے اور جو تفصیلات و شرائط عوام کے سامنے آرہی تھیں اْن کو دیکھتے ہوئے ملک کے نمایاں ماہرین معیشت یہ پیشگوئی کررہے تھے کہ ان شرائط کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں اور کاروباری معاملات سست روی کا شکار ہوں گے اور تقریباً 18 سے 20 لاکھ افراد کی نوکریاں چلی جائیں گی۔ اس کے بعد کورونا کی وبا نے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور حکومت نے اپریل تا جون مکمل لاک ڈائون کردیا اس کے بغیر مختلف صنعتی و کاروباری اور تجارتی شعبے بتدریج کھلتے چلے گئے اور معاشی سرگرمیاں بحال ہونے لگیں لیکن نومبر سے کورونا نے دوبارہ پائوں پھیلانا شروع کردیے اور اس کے نتیجے دوبارہ اسمارٹ لاک ڈائون کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جو ایک طرح کا جزوی لاک ڈائون ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے دوسرے ممالک خصوصاً جو پاکستانی برآمدات کی مارکیٹ ہیں وہ بری طرح متاثر ہیں اس سے ہماری برآمدات پر منفی اثر پڑے گا۔
ملک کے ممتاز معاشی تحقیقی ادارے پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (PIDS) نے کورونا وائرس کی وبا سے متاثر ہونے والے مختلف معاشی شعبوں پر اپنی ریسرچ جاری کی ہے۔ ایک رپورٹ بے روزگاری کے بارے میں تیار کی گئی ہے کہ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث معیشت کے مختلف شعبوں میں ایک کروڑ اسی لاکھ ملازمتوں کے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔ اسی طرح بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کی رپورٹ یہ ہے کہ سال 2020ء میں 2 لاکھ افراد ملازمتوں کے سلسلے میں ملک سے باہر گئے جب کہ گزشتہ سال 6 لاکھ 25 ہزار افراد باہر گئے تھے۔ کورونا کے باعث سعودی عرب میں پاکستانی افرادی قوت میں 41 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔ مزید یہ کہ حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع ہوگئے ہیں اور وہ معاہدہ جو کورونا کی پہلی لہر کے بعد تعطل کا شکار تھا وہ بحال ہوسکتا ہے اس کے نتیجے میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور نجکاری کا عمل دوبارہ شروع ہوسکتا ہے۔ حال ہی میں نجکاری کی وجہ سے اسٹیل مل کے ساڑھے چار ہزار ملازمین بے روزگار ہوچکے ہیں۔ چناں چہ آئی ایم ایف سے ہاتھ ملانے کے بعد ہزاروں ملازمین کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔
ناقص منصوبہ بندی کے باعث ایل این جی کی درآمد میں مجرمانہ تاخیر کرکے ٹینڈر کیے گئے اس سے ایک تو مہنگے ریٹ کی وجہ سے ملکی خزانہ کو اربوں روپے کا نقصان ہوا دوسرے سردیوں کے موسم میں ملک گیس کی قلت کا شکار ہوسکتا ہے چنانچہ وہ تمام صنعتیں جن میں گیس کی ضرورت ہوتی ہے ان کی پیدوار متاثر ہوگی اور اس سے بے شمار ڈیلی ویجز ملازمین کو فارغ کردیا جائے گا۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں سب سے اہم کردار ملکی سرمایہ کاری کا ہے۔ اگر کاروبار شروع کرنا آسان ہو، منافع یقینی ہو، ملک میں استحکام اور معاشی و کاروباری پالیسیوں میں تسلسل ہو تو نجی شعبہ آگے آتا ہے اور اس سے لوگوں کو روزگار ملتا ہے۔ چنانچہ بے روزگاری میں کمی لانے کے لیے حکومت کو اْن تمام مشکلات اور رکاوٹوں کو دور کرنا ہوگا جو ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں حائل ہیں اور دوسرے سیاسی استحکام کے لیے اپوزیشن سے ڈائیلاگ کی ضرورت ہے تا کہ سیاسی غیر یقینی ختم ہو اور امن و سکون و استحکام کی فضا پیدا ہو جس کی ملک کو ضرورت ہے۔