پی ڈی ایم کے لاہور جلسے میں ایک اور نیا شوشہ!!

562

اس مرتبہ پنجابیوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی گئی کیا یہ لوگ واقعی ملک دشمن بیانے کو فروغ دے رہے ہیں؟گیارہ ڈکیتیوں کے ٹولے کو حکومت اور ریاست مسلسل پاکستان دشمن افراد اور بیانے کا ترجمان کہتی رہی ہے، جسے روایتی حکومت اور اپوزیشن کے اختلاف رائے کے تناظر میں دیکھا جاتا رہا ہے مگر گزشتہ ہفتے ایک بار پھر اس مسترد شدہ سیاسی ٹولے کی طرف سے پاکستان دشمنی اور پنجاب دشنی کے نفرت انگیز پروپیگنڈے کیلئے استعمال کیا گیا اور اس حکومتی نظریے پر مہر ثبت کر دی گئی کہ یہ لوگ واقعی ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں، پی ڈی ایم کے نام نہاد لیڈر محمود اچکزئی نے سب سے پہلے اپنے دل و دماغ میں پھنسے ہوئے بغضِ پاکستان کا مظاہرہ اردو زبان پر حملہ کر کے کیا، انہوں نے کراچی کے جلسے میں دعویٰ کیا کہ اردو کوئی ایک روایتی زبان نہیں بلکہ ’’لینگوا فرانسہ‘‘ ہے یعنی رابطے کا ذریعہ ہے ہاں البتہ بلوچی، سرائیکی، سندھی اور پشتو وغیرہ جو ہیں وہ دراصل زبان کا درجہ رکھتی ہیں، ایک صوبائی، متعصب اور علاقائی قوم پرست جماعت پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ کے منہ سے یہ جاری کیا ہوا بیان نہ صرف ان کی کم علمی اورکم مائیگی کا شاہکار ہے بلکہ اس شوشے سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ محمود خان اچکزئی ابوجہل کے جاہلیت کے منصب سے بھی کافی گھٹیا ذہن رکھتے ہیں، ہمارے علم میں یہ بات نہیں کہ اچکزئی صاحب کی تعلیمی قابلیت کیا ہے لیکن یہ امر یقینی ہے کہ ان کا آئی کیو لیول ایک سٹریٹ سمارٹ شخص سے بھی گیا گزرا ہے، انہوں نے ایسا گمراہ کن اور جاہلانہ بیان دے کر نہ صرف اردو زبان بلکہ پاکستان اور قائداعظم پر بھی رکیک حملہ کیا ہے کیونکہ قائداعظم نے ہی اردو کو پاکستان کی قومی اور سرکاری زبان قرار دیا تھا، اس کے بعد ایک اور کسی جمعیت پاکستان ٹائپ مذہبی پارٹی کے ہیوسٹن باسی اور نام نہاد مولوی اویس نورانی نے کوئٹہ کے جلسے میں مطالبہ کیا کہ پی ڈی ایم آزاد بلوچستان دیکھنا چاہتی ہے جو سراسر غیر ملکی خاص طور پر انڈین خفیہ ایجنسی را کا ایجنڈا ہے جس پر وہ بہت سرمایہ بھی لگارہے ہیں۔
اور اب لاہور کے جلسے میں محمود اچکزئی نے ایک مرتبہ پھرپنجابیوں کے خلاف زہر اگلا ہے، اس غدار وطن میر جعفر کو اچھی طرح سے علم ہے کہ پاکستان کے اکثریتی صوبے کے لوگ کس قدرپاکستان اور اردو زبان سے محبت کرتے ہیں، اردو کے زیادہ تر شعراء کا اور نگارش کاروں کا تعلق پنجاب سے ہی ہے جن میں علاقہ اقبال سے لیکر فیض احمد فیض تک اور حفیظ جالندھری سے لیکر احمد ندیم قاسمی تک ایک طویل فہرست ہے اہل پنجاب کی، محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پنجابیوں نے ماضی میں وطن افغانستان کی مخالفت کر کے مسلم امہ کے ساتھ ایک طرح سے غداری کی، وطن ہو گا محمود اچکزئی کا افغانستان جو آج تک بارڈر کے اس طرف سے پاکستان پر حملے کررہا ہے اور ہمارے نوجوانوں کو آئے دن شہید کررہا ہے تو محمود اچکزئی کا وطن افغانستان دراصل پاکستان کا دشمن ملک ہے جہاں پر ہندستانی بیٹھے ہوئے ہیں، افغان حکومت کی آشیرباد سے پاکستان پر حملے کررہے ہیں، اول تو پنجاب نے ایسی کوئی بات ہی نہیں کی لیکن اگر کہی بھی تو وہ آج صحیح ثابت ہورہی ہے کہ پاکستان کا دشمن نمبر دو انڈیا کے بعد افغانستان ہی ہے جہاں کا ترانہ محمود اچکزئی صاحب گاتے ہیں اور کھانا پاکستان کا کھاتے ہیں، دراصل طالبان دہشت گردوں نے جن 50ہزار پاکستانیوں کو شہید کیا وہ سارے افغانی اور پختون ہی تھے جو باچا خان اور محمود اچکزئی جیسے میر جعفروں اورمیر صادقوں کی نسل سے تھے، آج محمود اچکزئی کو تکلیف اس لئے ہورہی ہے کہ پاکستانی افواج نے ان دہشت گرد پختونوں اور افغانوں کی نسل کو ختم کر دیا ہے۔