ہم کہاں تھے کہاں آگئے!!

434

پندرہ بیس افراد پر مشتمل ایک خاندان کے لئے صرف ایک غسلخانہ اور ایک لیٹرین ہوا کرتی تھی وہ بھی گھر کے صحن میں تا کہ سب استعمال کر سکیں، غسلخانہ میں ایک بالٹی کپ چوکی تولیہ لائف بوائے صابن اور پیروں کی ایڑیاں مانجھنے کے لئے پتھر کا ایک چاواں رکھا ہوتا تھا اس کے علاوہ ایک ٹوتھ پیسٹ یا ڈینو نک رکھا ہوتا تھا جبکہ لیٹرین میں تانبے کا ایک لوٹا تھا، کوئی ٹشو پیپر کا خرچہ نہ تھا۔نہا دھو کر خوشبودار تبت کریم لگا لیا کرتے تھے،استعمال شدہ تولیہ صحن میں لگی رسی پر لٹکا دیا جاتا تا کہ خشک ہونے پر دوسرا فرد استعمال کر سکے، گھر میں ٹوٹل دو چار تو لئے ہوا کرتے اتوار کے روز ہفتہ بھر کے جمع کپڑوں کی دھلائی یعنی ہینڈ لانڈری صحن میں لگے نلکے کے نیچے دیسی صابن اور ڈنڈے سے ہوا کرتی اور اس میں وہ تولیے بھی دھل جاتے تھے۔ کپڑے دھونے والے ڈنڈے سے کبھی کبھی بچوں کی دھلائی ہوا کرتی تھی۔پھر لوگ ماڈرن کہلانے لگے، واشنگ مشین، واشنگ پائو ڈر آگئے،ہر کمرے سے ملحق باتھ روم بن گئے، ٹائلٹ پیپرز آ گئے، ہر شخص کے ذاتی استعمال کے پانچ سات تولئے ہو گئے،ہر باتھ روم میں الگ الگ ٹوتھ پیسٹ انگریزی صابن شیمپو، ہیئر کنڈیشنر، کرولیاں کرنے والا مائوتھ واش،منہ دھونے کے فیس واش کئی اقسام کی کریمیں لوشن،شاور جیل، ہیئر جیل نہ جانے کیا کیا ٹشن آگئے اور ہر دور حکومت میں روتے دیکھا گیا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے لیکن یہ نہیں سوچا کہ ہمارا بچپن اور آج ہمارے بچوں کے بچپن کے اخراجات لوازمات ناز نخروں میں زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے، پہلے چیز ضرورت ہوا کرتی تھی اور آج شوق ضرورت بن چکے ہیں،اخراجات بڑھاتے جائو گے تو پورے کرنے کے لئے حلال کمائی کم پڑ جائے گی پھر یا تواوپر کی کمائی آئے گی یا مہنگائی کا رونا روتے روتے اوپر سے بلاوا آجائے گا۔غریب سفید پوش مڈل کلاس ہر دور میں بھرم کے ساتھ گزارا کرتی چلی آ رہی ہے امیر ہر دور میں رویا ہے کہ اس کا لائف سٹائل اس کا عذاب بن چکا ہے اور متوسط طبقہ کی چادر اس کی آزمائش رہی ہے جس سے باہر پیر نکالا کہ بھرم کا لفافہ پھٹا۔۔۔مہنگائی کی وجہ موبائل فون بھی ہیں ہر گھر میں جتنے فرد ہیں ان کے پاس موبائل ہے،پہلے مزدور شام کو گھر لوٹتا تو ہاتھ میں کھانے کا سامان سبزی گھی وغیرہ ہوتا تھا آج مزدور گھر آتا ہے تو پہلے بیوی کو ایزی لوڈ کروادو،بچے اپنے موبائل بیلنس کے چکر میں باپ کو چکر دیتے ہیں اور مزدور کی آدھی دیہاڑی موبائل پیکیجز میں چلی جاتی ہے،پہلے لوگ گھروں میں بیل بکریاں پالتے تھے بیٹی بیٹے کی شادی کیلئے آجکل جانور بیج کرمہنگا موبائل خریدا جاتا ہے۔معصوم بچپن سادہ زمانہ تھا۔ متوسط گھرانوں کے لڑکے جب چھوٹے تھے تو جمعہ کا دن مخصوص تھا جوتیاں بھی پڑتی تھی نہانا بھی پڑتا تھا نہا دھو کر گھر میں موجود واحد سفید ٹوپی سر پر رکھ جمعہ کا خطبہ شروع ہونے سے مسجد میں پہنچنا والدہ کی طرف سے سخت آرڈر ہوتا تھا، مسجد گاؤں کے درمیان میں تھی اور ایک ہی تھی، گلی محلے کے دوسرے بچوں کے گھر میں بھی یہی مشق ہوتی تھی اور کچھ بچے ایسے وقت میں گلی کی نکڑ پر کانچے کھیلا کرتے تھے انہیں حسرت سے دیکھا کرتے تھے دل میں تھا کہ ان کی موج ہے نہ نہانا پڑا نہ جمعہ کے لیے بھیجا گیا بس کانچے کھیل لیے وہ سوچتے تھے یہ کیسے تیار ہوکر سفید کپڑے پہن کر مسجد جارہے ہیں بس ایسی سادہ زندگی تھی کہ اب توتصور ہی کیا جا سکتا ہے۔۔ کندھوں میں درد رہتا ہے، ٹانگوں میں گھٹنوں میں کمر میں درد رہتا ہے، زمین پر بیٹھا نہیں جاتا بیٹھ جائو تو اٹھا نہیں جاتا،زمین پر سجدہ کرنے میں دقّت پیش آتی ہے، کرسی پر نماز پڑھتی ہوں، آدھے سر کا درد رہنے لگا ہے، یہ وہ بیماریاں ہیں جن کی علامات شکایات پاکستانی خواتین میں چالیس سال کی عمر کے بعد سننے دیکھنے کو ملیں گی۔ یہی علامات شکایات چند برس قبل تک ساٹھ ستر برس سے اوپر کی خواتین کیا کرتی تھیں۔ان تندرست بوڑھی خواتین اور آج کی بیمار جوان عورتوں میں یہ فرق ہے کہ وہ اپنے گھرداری کے کام خود کرتی تھیں اور ان کے اعصاب اور اعضاء مضبوط تھے، پیڑی یا دو زانوں بیٹھ کر آٹا گوندتی تھیں، جھاڑو پونچا لگاتی تھیں تو پیٹ ساتھ لگ جاتا تھا، گھٹنوں اور ٹانگوں میں مضبوطی آتی تھی۔ ہاتھوں سے کپڑے دھوتی تھیں تو کندھوں تک زور لگتا تھا، دیہاتوں کی عورت شہری عورت سے بھی زیادہ طاقتور تھی۔مندانی میں دہی بلونے، چکی میں آٹا دوری ڈنڈے سے مرچ مصالاجات پیسنے سے بازو اور کندھے مضبوط ہوتے تھے،نماز پنجگانہ کے وضو اور قیام و سجود سے جسم اور چہرہ بشاش بشاش رہتا تھا،کھیتوں اور گھر میں محنت مشقت کرتی ان عورتوں کو دیکھ کرامریکہ کا امیر کبیرgym ورزش خانہ بھی ششدر ہے، پھر عورتیں کاہل سست پھوہڑ ہونے لگیں عرف عام میں ماڈرن کہلانے لگیں اور سارا دن صوفے پر پڑی ٹی وی پر ساس بہو طلاق عشق معشوقی کے ڈرامے دیکھنے لگیں، نمازی عورتیں بھی قضا کرنے لگیں،وضو اور نماز سنت سے فرض تک آ گیا، باورچی خانہ جہاں سے پاک طیب ہاتھوں سے رزق شوہر اور بچوں کے معدے کو برکات عطا کرتا تھا گندے ہاتھوں اور بے نمازی ملازموں کے سپرد ہو گیا،گھرداری کے کام چھوٹ گئے، نفسیاتی و جسمانی امراض لاحق ہونے لگے،شوہر کی کمائی ڈاکٹروں اور gym پر پھونک دی مگر لمحہ بھر کو نہ سوچا کہ جس طرح پیٹ غذا مانگتا ہے اسی طرح جسم اور ذہن حرکت اور برکت مانگتا ہے جو اپنے گھر اور اپنے شوہر اور بچوں کے کام اپنے ہاتھوں سے کرنے سے ہی نصیب ہوتا ہے۔ہائے یہاں درد وہاں درد اور یوں بھری جوانی میں کاہلی سستی ڈیپریشن انگزائٹی بے برکتی کا شکار ہو جاتی ہے۔ایسی ذہنی و جسمانی بیمار بیوی کا شوہر اگر باہر منہ مارے تو خود کو اور اس کو مرنے مارنے پر اتر آتی ہے۔انا للّٰہ و انا الیہ راجعون۔۔۔–