زہریلی کیڑے مار ادویہ کو بھول جائیے، فصل کو نینوذرات سے توانا بنائیے!

459

سوئزرلینڈ: دنیا بھر کی زراعت میں کیڑے مار ادویہ بڑے پیمانے پر استعمال کی جاتی ہیں۔ تمام تر احتیاط کے باوجود یہ ادویہ فصلوں میں مضر کیڑوں کے ساتھ ساتھ دوست حشرات کو بھی ہلاک کردیتی ہیں۔ اپنے ماحول میں بہت دیر تک رہنے کی بنا پر یہ اطراف کے لیے بہت مضر ہوتی ہیں۔ اب ان مہنگی لیکن متنازعہ ادویہ کی جگہ سلیکا سے بنے نینوذرات کو کامیابی سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

پودوں پر حملہ آور جراثیم، حشرات اور امراض کو ختم کرنے کی بجائے یہ فصل کے امنیاتی نظام کو مضبوط بناتی ہے تاکہ وہ خود اپنے دشمنوں سے لڑنے کے قابل ہوجائے۔ اس عمل کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ زرعی مٹی میں سلیسِک ایسڈ پایا جاتا ہے جو پودوں کے فطری دفاعی نظام کو تقویت دیتا ہے۔ لیکن اسی ایسڈ کو مصنوعی طور پر تیارکردہ سیلیکا نینوذرات سے بھی خارج کیا جاسکتا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اب بھی دنیا میں سلیسِک ایسڈ مائع فرٹیلائزر کے طور پر استعمال ہورہی ہے جس کی بدولت پودا وائرس اور بیکٹٰیریا سے سے محفوظ رہتا ہے۔ لیکن اس سے پودا بہت خراب ہونے لگتا ہے جبکہ اطراف کی مٹی زہرآلود ہوسکتی ہے۔

لیکن اب سوئزرلینڈ کی فرائبورگ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے ایسے مصنوعی سیلیکا نینوذرات بنائے ہیں جن میں سلیسِک ایسڈ کی بڑی مقدار موجود ہوتی ہے اور وہ دھیرے دھیرے ایسڈ خارج کرتے ہیں۔ تجربہ گاہ میں انہیں’ٹیل کریس‘ نامی پودے پر آزمایا گیا۔ لیکن یہ پودے پہلے ہی ایک قسم کے بیکٹیریا سے متاثر کئے جاچکے تھے۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ شجر توانا ہوگیا اور اس میں ایک طرح کا دفاعی ہارمون بڑھا جس کے بعد پودے نے بیکٹیریا کو تباہ کرڈالا۔ پودے میں سانس لینے والے اسٹومیٹا مساموں کے ذریعے نینوذرات اندر داخل کئے گئے تھے جو پورے پودے میں یکساں طور پر پھیل گئے اور یوں تنوں اور جڑوں میں ذرات جمع نہیں ہوئے جس سے پودے پر کوئی بوجھ نہیں پڑا۔

اس تحقیق کا سب سے اچھا پہلو یہ ہےکہ نینوذرات دھیرے دھیرے ختم ہوجاتے ہیں ماحول میں جمع ہوکر اسے مزید خراب نہیں کرتے خواہ وہ پودا ہو یا مٹی ہو۔ اب ماہرین اسے دیگر پودوں اور دیگر حشرات اور جراثیم پر بھی آزمارہے ہیں۔