کیا یہ ڈائنوسار کے زمانے کا ’’مور‘‘ تھا؟

630

لندن: سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ آج سے 11 کروڑ سال پہلے ایک ایسا ’’پرندہ ڈائنوسار‘‘ بھی پایا جاتا تھا جو شاید اپنی زندگی میں کسی مور کی طرح دکھائی دیتا ہوگا۔ البتہ اس کی چونچ اور دانتوں سے پتا چلتا ہے کہ یہ گوشت خور تھا۔

خبروں کے مطابق ’’اوبیراجارا جوباتُس‘‘ (Ubirajara jubatus) کے سائنسی نام والے اس قدیم و معدوم پرندے کے رکازات کچھ سال پہلے شمال مشرقی برازیل کے ایک علاقے ’’کراٹو فارمیشن‘‘ سے دریافت ہوئے تھے مگر وہ اسمگلروں کے ہتھے چڑھ گئے جو اسے ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے ملک میں پہنچاتے رہے۔

یہ تو معلوم نہیں کہ سائنسدانوں تک یہ رکازات کیسے پہنچے اور انہیں یہ سب باتیں کیسے پتا چلیں، لیکن اتنا ضرور طے ہے کہ ’’اوبیراجارا‘‘ پر تحقیق کا بڑا حصہ برطانیہ کی پورٹسمتھ (پورٹس ماؤتھ) میں انجام دیا گیا ہے جبکہ جرمنی اور میکسیکو کے ماہرین نے بھی اس تحقیق میں معاونت کی ہے۔

اوبیراجارا جوباتُس کے رکازات خاصی مکمل حالت میں ہیں جنہیں دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ اس پرندے کی مکمل لمبائی صرف ڈیڑھ فٹ کے لگ بھگ، یعنی موجودہ زمانے کی مرغی جتنی رہی ہوگی۔

علاوہ ازیں، اس کی پوری کمر پر گھوڑے کی ایال جیسے لمبے لمبے اور نرم بال تھے، گردن کے ارد گرد سخت اور قدرے موٹی سلاخوں جیسی نوکیلی ساختیں نکلی ہوئی تھیں جبکہ گھنے اور موٹے بالوں کی یہی دبیز تہہ اس کے بازوؤں (arms) پر بھی تھی۔ اس کے دانت بہت چھوٹے لیکن نوک دار تھے۔