ترکی امریکی پابندیوں کے سامنے ڈٹ گیا

488

ترکی امریکی پابندیوں کے سامنے ڈٹ گیا۔ ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکی پابندیوں کے ردعمل میں جوابی اقدامات کیے جائیں گے۔

ترک وزیر خارجہ مولوت چاوش اوگلو نے کہا ہے کہ روس سے میزائل دفاعی نظام خریدنے کا سودا منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

روس سے یہ میزائل دفاعی نظام حاصل کرنے کی وجہ سے امریکا نے پیر کو چند ترک اہلکاروں پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔ ترک ڈیفنس انڈسٹری ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ اسمائیل دیمیر سمیت 3مزید اہلکار ان پابندیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔

اس پیش رفت کے رد عمل میں صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا کہ امریکا کا یہ قدم ترکی کی دفاعی صنعت پر ایک جارحانہ حملہ ہے اور یہ ناکام ہو گا۔

قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ترکی پرعائد پابندیوں پر عمل درآمد کرائیں گے۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا تھا کہ ترکی کی دفاعی ضروریات پوری کرنے کے لیے نیٹو کا دفاعی نظام موجود تھا اور متبادل ہونے کے باوجود ترکی نے روسی میزائل کی خریداری کا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ترکی پر واضح کیا تھا روسی میزائل کی خریداری سے گریز کرے کیونکہ ایس 400 میزائل سے امریکی ملٹری ٹیکنالوجی کی سیکیورٹی خطرے میں پڑسکتی ہے۔

مائیک پومپیو نے کہا کہ ترک ایجنسی کے صدر اسماعیل دیمر کو امریکی ویزا نہیں دیا جائے گا اور روس کے دفاعی سیکٹر کے ساتھ ٹرانزیکشنز کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔