امریکا سے کشیدگی کم کرنےکیلئے ترکی کا ’پاکستانی ماڈل’ استعمال کرنے پر غور

294

روس سے ایس 400 ایئر ڈیفنس حاصل کرنے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے، تعلقات معمول پر لانے کے لیے ترکی نے پاکستانی ماڈل استعمال کرنے پر غور شروع کر دیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق ترکی اور امریکا کے درمیان روس کے S 400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی تنصیب پر اختلافات پیدا ہو گئے ہیں۔ ترکی نے 2019 میں روس سے S 400 ایئر ڈیفنس سسٹم خریدا تھا جس کے بعد سے امریکا نے ایک طرف ترکی کو جدید جنگی لڑاکا طیارے F 35 فروخت کرنے سے انکار کر دیا دوسری طرف امریکا نے کہا ہے کہ اگر ترکی نے روس کا ایئر ڈیفنس سسٹم استعمال کیا تو اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اب ترکی نے امریکا کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لئے پاکستانی ماڈل استعمال کرنے پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔

1990 کی دہائی میں جب امریکا نے پاکستان کو F 16 جنگی طیارے فروخت کئے تھے تو اس کی ٹیکنالوجی اور استعمال کی مانیٹرنگ کے لئے دونوں ملکوں نے ایک علیحدہ آفس قائم کیا تھا۔ سینٹر میں امریکی اور پاکستانی فوجی حکام موجود ہوتے ہیں جو F 16 طیاروں کی مانیٹرنگ کا کام کرتے ہیں۔

ترکی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ امریکا کے ساتھ پاکستانی ماڈل کی طرز پر ایک معاہدہ کرے گا جس کے تحت امریکا اور ترکی F 35 لڑاکا طیاروں کی مانیٹرنگ کے لئے ایک آفس قائم کریں گے۔