جاپان: 9 افراد کی جان لینے والے ‘ٹوئٹر قاتل’ کو موت کی سزا

431

ٹوکیو کی عدالت نے ‘ٹوئٹر قاتل’ کے نام سے معروف ایک جاپانی شخص کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ملنے والے لوگوں کے قتل اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے پر سزائے موت سنا دی۔

30 سالہ تاکاہیرو شیرائیشی نے اپنا شکار بننے والے نوجوانوں کے قتل اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا اعتراف کیا جن میں سے ایک خاتون بھی تھیں۔

جاپانی شخص کے طریقہ واردات سے متعلق یہ بات سامنے آئی کہ وہ ان سوشل میڈیا صارفین کو ہدف بنانا تھا جو خود اپنی زندگی لینے سے متعلق پوسٹ کرتے تھے۔

تاکاہیرو شیرائیشی انہیں کہتا تھا کہ وہ ان کے منصوبے میں مدد کرسکتا ہے یا یہاں تک کہ ان کے ساتھ مر سکتا ہے۔

ادھر ان کے وکلا نے اعتراض اٹھایا کہ ان کے موکل کو سزائے موت کے بجائے قید کی سزا دینی چاہیے کیونکہ ان کے شکار بننے والوں کی عمریں 15 سے 26 سال کے درمیان تھیں اور وہ سوشل میڈیا پر خود کی جان لینے کے خیالات کا اظہار کرچکے تھے اور وہ مرنے پر رضامند تھے۔

تاہم پبلک براڈکاسٹر این ایچ کے کا کہنا تھا کہ جج نے اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے 2017 جرائم پر انہیں سزائے موت سنائی اور اسے ‘ہوشیار اور ظالمانہ’ قرار دیا۔